روایتی فوٹوگرافی کے لیے نیا چیلنج

Blogger Comrade Amjad Ali Sahaab

اب آپ کا فون صرف تصویر اتارے گا نہیں، بل کہ باقاعدہ اپنے انداز سے تصویر تخلیق کرے گا۔
techradar.com کے مطابق آیندہ متوقع ـ”Samsung Galaxy S26″ میں سام سنگ کا اب تک کا سب سے جدید اور مصنوعی ذہانت سے مزین کیمرہ سسٹم شامل ہونے کی توقع ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ نظام تصویر کشی کے ساتھ ایڈیٹنگ، مناظر کی بہتری، حتیٰ کہ منظر کی از سرِ نو تشکیل. تک سارے کام ایک ہی آپشن میں سمو دے گا۔
رپورٹ کے مطابق ’’آرٹیفشل انٹیلی جنس‘‘ (Artificial Intelligence) صرف ’’پوسٹ ایڈیٹنگ‘‘ (Post-editing) مرحلے تک محدود نہیں رہے گی، بل کہ تصویر کے بننے کے ہر مرحلے میں مداخلت کرے گی۔ یوں S26 کو سام سنگ کی تاریخ کا سب سے زیادہ ’’کمپیوشنلی اگریسیو‘‘ (یعنی انتہائی الگورتھم پر مبنی کیمرہ سسٹم ریلیز) قرار دیا جا رہا ہے۔
دل چسپ بات یہ ہے کہ اب ’’آرٹیفشل انٹیلی جنس‘‘ بہ تدریج پس منظر میں گم ہوتی جا رہی ہے۔ اب معاملہ محض فلٹرز کا نہیں رہا۔ بات یہاں تک آپہنچی ہے کہ اب آپ کا فون خود روشنی کی شدت طے کرے گا، جزئیات کو نکھارے گا، ترکیب کو سنوارے گا اور بعض اوقات تو گم شدہ عناصر بھی اپنی طرف سے شامل کردیا کرے گا۔ چاہے آپ رات 11 بج کر 42 منٹ پر اس چمکتی اسکرین (S26) کو ہاتھ میں تھامے کھڑے ہوں۔ جان لیں کہ کیمرہ اب صرف عدسہ نہیں رہا… یہ تخلیق میں شراکت دار بن چکا ہے۔
اگر یہ سب باتیں واقعی حقیقت کا روپ دھار لیتی ہیں، تو سمارٹ فون فوٹوگرافی محض دستاویز نگاری نہیں رہے گی، بل کہ تعبیر و تفسیر کا عمل بن جائے گی… اور جب تعبیر خودکار ہو جائے، تو اصلیت کی سرحدیں دھندلا جاتی ہیں۔
اگر آپ کا فون تصویر کے منظر کو اپنے انداز سے تخلیق کر رہا ہے، تو پھر اصل سوال یہ ہے کہ ’’مستند‘‘ یا ’’اصلی‘‘ فوٹوگرافی کی حیثیت کیا رہ جائے گی؟
(یہ تحریر کامریڈ امجد علی سحابؔ نے انگریزی سے اُردو کے قالب میں ڈھالی ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے