کسی بھی قوم کی تعمیر میں اساتذہ کرام کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ انھیں بہ جا طور پر ’’معمارانِ قوم‘‘ کہا جاتا ہے ۔ یہ وہ طبقہ ہے، جو نہ صرف علم کی روشنی پھیلاتا ہے، بل کہ نئی نسلوں کی کردار سازی میں بھی بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔ تاہم، اس عظیم ذمے داری کی ادائی کے لیے ضروری ہے کہ اساتذہ خود کو پیشہ ورانہ ذمے داریوں پر یک سوئی سے مرکوز رکھ سکیں۔ یہیں پر کسی بھی ادارے یا برادری میں تنظیم (Organization) کی اہمیت واضح ہوتی ہے۔
ایک منظم اور نمایندہ تنظیم اپنی برادری کے مجموعی مسائل کے حل، حقوق کے تحفظ اور فلاح و بہبود کے لیے بھرپور تگ و دو کرتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ برادری کے باقی افراد اپنے بنیادی پیشہ ورانہ فرائض کو یک سوئی اور لگن سے ادا کرنے کے لیے ذہنی طور پر فارغ ہو جاتے ہیں۔ انھیں انفرادی طور پر اپنے مسائل کی جنگ لڑنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ اساتذہ برادری بھی اس اُصول سے مستثنا نہیں۔ ملک بھر میں اساتذہ کرام کے مسائل کو اُجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے کوشاں کئی ایک فعال تنظیمیں موجود ہیں۔
مذکورہ اساتذہ تنظیموں میں ایک نمایاں نام ’’ملگری استاذان‘‘ کا ہے۔ یہ صوبائی سطح پر ایک منظم اور قد آور اساتذہ تنظیم ہے، جس کی جڑیں معلمین کے دلوں تک پھیلی ہوئی ہیں۔ ملگری استاذان ہر مشکل موقع اور ہر متعلقہ فورم پر اساتذہ کرام کے پیشہ ورانہ، انتظامی اور مالی مسائل کو موثر انداز میں اُجاگر کرنے اور ان کا قابل عمل حل تلاش کرنے کے لیے شب و روز کوششیں کرتی رہتی ہے۔ اس کی تنظیم سازی کا دائرہ صوبائی، ڈویژنل، ضلعی اور تحصیل کی سطح تک پھیلا ہوا ہے ، جو اسے ایک مضبوط اور گراس روٹ سطح پر بااثر تنظیم بناتا ہے۔
باقی صوبے کی طرح، ضلع سوات کی انتہائی اہم تحصیل، کبل، میں بھی ملگری استاذان کی ایک فعال اور متحرک تنظیم موجود ہے۔ ملگری استاذان، تحصیلِ کبل کی ایک خوب صورت اور مستحسن روایت یہ رہی ہے کہ وہ ہر سال ایک شان دار ضیافت (گرینڈ ڈنر/لنچ) کا اہتمام کرتے ہیں، جو دراصل علم و دانش کے اجتماع کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔ اس تقریب میں حاضر سروس اور ریٹائرڈ اساتذہ کرام کے علاوہ محکمۂ تعلیم کے اعلا افسران اور نام ور ماہرینِ تعلیم بھی شرکت کرتے ہیں، جس سے یہ اجتماع محض ایک ضیافت نہیں، بل کہ ایک علمی اور فکری بیٹھک بن جاتا ہے۔
اسی شان دار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے، گذشتہ اتوار کو تحصیلِ کبل میں مقامی ریستوران میں ’’ملگری استاذان‘‘ کی جانب سے ایک پُروقار اور شان دار ظہرانے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ اجتماع علم، تجربے اور تدریس سے وابستہ افراد کے گہرے تعلق اور مشترکہ مقاصد کا مظہر تھا۔
تقریب میں حاضرِ سروس اور ریٹائرڈ اساتذہ کرام کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ اُن کی موجودگی محض ایک شرکت نہیں تھی، بل کہ یہ نئے اور پرانے تجربات کے درمیان ایک پل کا کام دے رہی تھی۔ محکمۂ تعلیم کے افسران اور ماہرینِ تعلیم کی شمولیت نے تقریب کا لطف دوبالا کردیا۔
تقریب کے شرکا نے ضیافت کے ساتھ ساتھ اس موقع کو ایک فکری محفل میں بدل دیا۔ اُنھوں نے طالب علم اور استاد، دونوں سے جڑے مختلف اہم اور حساس مسائل پر سیر حاصل گفت گو کی۔ یہ گفت گو محض شکوہ شکایت پر مبنی نہیں تھی، بل کہ یہ مسائل کی جڑوں کو سمجھنے اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کی مخلصانہ کوشش تھی۔ بحث و مباحثہ کے بعد کئی ایک عملی اور تعمیری تجاویز بھی پیش کی گئیں، جن میں تعلیمی ماحول کو مزید سازگار بنانے، اساتذہ کی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے اور طلبہ کی اخلاقی و علمی تربیت پر خصوصی توجہ دینے کے نِکات شامل تھے۔
یہ ایک پُروقار اور شان دار بیٹھک تھی، جو اتحاد، احترام اور فکری تبادلے کی بہترین مثال تھی۔ ملگری استاذان تحصیلِ کبل نے نہ صرف اپنی روایت کو برقرار رکھا، بل کہ اساتذہ برادری کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرکے اُن میں نئے عزم اور حوصلے کی روح پھونک دی۔ بلاشبہ، یہ ایک ایسی فکری ضیافت تھی، جسے تعلیم سے وابستہ افراد ایک طویل عرصے تک یاد رکھیں گے اور جس کی بازگشت آنے والے دنوں میں تعلیمی اصلاحات کی صورت میں سنائی دے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










