’’سانچا‘‘ (ہندی، اسمِ مذکر) کا املا عام طور پر ’’سانچہ‘‘ لکھا جاتا ہے، مگر ’’جہانگیر اُردو لغت‘‘ (جس میں ’’سانچہ‘‘ درج ہے) کے سوا تمام مستند لغات میں ’’سانچا‘‘ ہی ملتا ہے۔
فرہنگِ آصفیہ کے مطابق ’’سانچا‘‘ کے معنی ’’قالب‘‘، ’’ڈھانچا‘‘، ’’دھات کی چیز یا کھانڈ وغیرہ کے کھلونے ڈھالنے کا اوزار‘‘ (وغیرہ) کے ہیں۔
فرہنگِ آصفیہ کے علاوہ ’’نور اللغات‘‘،’’اظہر اللغات‘‘، ’’حسن اللغات‘‘، ’’فیروز اللغات‘‘، ’’فرہنگِ تلفظ‘‘، ’’آئینۂ اُردو لغت‘‘، ’’علمی اُردو لغت (جامع)‘‘ اور ’’جامع اُردو لغت‘‘ کے مطابق دُرست املا ’’سانچا‘‘ ہے نہ کہ ’’سانچہ‘‘۔
ایک معتبر حوالہ ہمیں صاحبِ اسلوب نثر نگار مختار مسعود کی تصنیف ’’حرفِ شوق‘‘ میں ملتا ہے۔ تصنیفِ مذکور کی چوتھی اشاعت (2019ء، ناشر: العطاء، 177 شادمان نمبر 2، لاہور) کے صفحہ نمبر 165 پر مختار مسعود نے ’’سانچا‘‘ املا ہی استعمال کیا ہے۔
اس طرح ایک اور معتبر حوالہ رشید حسن خان کے مقرر کردہ اصولِ املا سے ملتا ہے، جن کے مطابق ہندی الاصل الفاظ کے آخر میں ’’ہائے ہوز‘‘ (ہ) کا اضافہ املا کو غلط بنا دیتا ہے۔ تبھی وہ ’’دھماکہ‘‘ کو غلط اور ’’دھماکا‘‘ کو درست تسلیم کرتے ہیں۔ اسی اصول کے تحت وہ ’’دھماکہ‘‘ کے بہ جائے ’’دھماکا‘‘ اور ’’دھوکہ‘‘ کے بہ جائے ’’دھوکا‘‘ کو دُرست تسلیم کرتے ہیں۔
’’سانچا‘‘ کے درست املا ہونے کا تیسرا مستند و معتبر حوالہ بہادر شاہ ظفرؔ کے اس شعر سے بھی ملتا ہے، جو ’’آئینۂ اُردو لغت‘‘ میں بہ طورِ حوالہ درج ہے، ملاحظہ ہو:
دیتا ہے لبِ زخمِ جگر میرا گواہی
ہے ہاتھ پڑا یار کی شمشیر کا سانچا










