ریاست شخصیات کی محتاج نہیں ہوتی

Blogger Muhammad Ishaq Zahid

کسی بھی ملک یا قوم کی بقا اور ترقی کا راز اس کی ریاستی ساخت، آئینی نظام اور ادارہ جاتی نظم و نسق میں پنہاں ہوتا ہے، نہ کہ کسی ایک فرد کی ذہانت، بصیرت یا مقبولیت میں۔ تاریخ کا یہ مسلمہ سبق ہے کہ ریاستیں شخصیات کی نہیں، بل کہ شخصیات ریاستوں کی محتاج ہوتی ہیں۔ جب شخصیات کو ریاست پر فوقیت دی جانے لگے، تب تباہی کے آثار قریب آ جاتے ہیں۔
ایک ریاست جب اپنی حدود، آئین اور قانون کے دائرے میں رہ کر اداروں کو مضبوط کرتی ہے، تو شخصیات خود بہ خود اُبھرتی ہیں، اُنھیں پہچان دیتی ہے اور تاریخ میں جگہ عطا کرتی ہے…… لیکن جب ریاستی نظام کو کسی فردِ واحد یا طبقے کے گرد گھمایا جاتا ہے، تو نہ صرف ادارے مفلوج ہو جاتے ہیں، بل کہ پوری قوم ایک شخص کی نیت، مزاج اور ذاتی ایجنڈے کی محتاج ہو کر رہ جاتی ہے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شخصیات عارضی ہوتی ہیں، آج ہیں، کل نہیں…… لیکن ریاست کا وجود نسلوں کے تسلسل سے قائم رہتا ہے۔ اگر ریاست ایک بار کم زور پڑ جائے، یا خدانہ خواستہ ٹوٹ جائے، تو اس کا دوبارہ قیام صرف خواب بن کر رہ جاتا ہے۔ سقوطِ غرناطہ ہو یا سقوطِ ڈھاکہ…… یہ وہ تلخ حقائق ہیں، جو ہمیں چیخ چیخ کر خبردار کرتے ہیں کہ ریاست کو شخصیت کے تابع کرنا خود ریاست سے غداری ہے۔
پاکستان بھی بدقسمتی سے کئی بار ایسی کش مہ کش سے گزرا ہے، جہاں افراد کو اداروں سے بالاتر سمجھا گیا۔ جہاں وفاداری شخصیات سے مانگی گئی، ریاست سے نہیں۔ جہاں اختلاف رائے کو غداری اور تنقید کو دشمنی قرار دے کر خود ساختہ ’’محسنوں‘‘ کے گرد تقدیس کا حصار باندھا گیا۔ نتیجہ کیا نکلا…… یہ کہ معاشرہ تقسیم در تقسیم، ادارے بے اختیار اور ریاست غیر مستحکم ہوگئی۔
آج ہمیں بہ طورِ قوم یہ طے کرنا ہے کہ ہم افراد کے نہیں، اُصولوں کے وفادار بنیں گے۔ شخصیات کو عزت ضرور دیں، لیکن اُنھیں قانون، آئین اور اداروں کے تابع رکھیں۔ کیوں کہ اگر قانون صرف کم زور کے لیے ہے اور طاقت ور کے لیے راستے الگ ہوں، تو یہ ریاست کی بنیادیں ہلانے کے مترادف ہے۔
ریاست ماں کی مانند ہوتی ہے اور شخصیات اس کی اولاد۔ ماں کی بقا ہر چیز سے مقدم ہے۔ اگر ماں سلامت ہے، تو ہزاروں بیٹے پیدا ہو سکتے ہیں…… لیکن اگر ماں ہی نہ رہے، تو بیٹے یتیم ہوجاتے ہیں، بے سہارا ہو جاتے ہیں اور ان کی پہچان مٹ جاتی ہے۔
آج وقت ہے کہ ہم اپنے قومی شعور کو بیدار کریں۔ آئین کو بالادست مانیں۔ اداروں کی حرمت کو بہ حال کریں…… اور شخصیت پرستی کی خطرناک روایت کو خیرباد کَہ دیں۔ ورنہ تاریخ ہمیں بھی معاف نہیں کرے گی اور ہماری آیندہ نسلیں بھی ہماری خاموشی کا خمیازہ بھگتیں گی۔
جاتے جاتے بس یہی عرض ہے کہ ریاستیں مقدس امانت ہیں، ان کا تحفظ ہم سب کی مشترکہ ذمے داری ہے۔ شخصیات آئیں گی، جائیں گی، لیکن اگر ریاست قائم رہے گی، تو سب کچھ ممکن ہے۔ ورنہ، کچھ بھی باقی نہیں بچے گا…… نام، نہ نشان۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

One Response

  1. بھائی، لفظونہ انتظامیہ کی اس سخت بات پر خندہیں آئیں کہ ریاست ایک ماں ہے اور شخصیات بیٹے ہیں۔ اگرچہ بہت سچا ہے، لیکن اگر ریاست ماں ہے تو انھوں نے کبھی بھی ایک بیٹے کو پالنے کا فرض سنا ہو۔ ہم سمجھیں کہ ریاست کی حفاظت ضروری ہے، لیکن اگرچہ ریاست ایک سیکڑ بھی بیٹے پیدا کر سکتی ہے، لیکن ان کو پالنے کے لیے کبھی کسی ایک کو محتاج نہیں ہوتی۔ انھیں سمجھنا چاہئے کہ ایک ریاست کی اہمیت، اس کے بیٹوں کو محبت کرنے سے نہیں، بلکہ ان کو اچھی طرح پالنے سے ہوتا ہے۔quay random

vòng quay random کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے