مینگورہ کی ’’بدنامِ زمانہ‘‘ دیواروں میں سے ایک

Photo Story by Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

15 ستمبر 2025ء کی شام مین بازار چوک سے گزرتے ہوئے میری نگاہ سروس شوز کے برابر والی اس گلی کی دیوار پر جا ٹھہری، جو مین بازار چوک کو مینگورہ شہر کی مشہور چینہ مارکیٹ سے ملاتی ہے۔ یہ مینگورہ شہر کی ’’بدنامِ زمانہ دیواروں‘‘ میں سے ایک ہے۔ اس کی اہمیت سے مجھ جیسے ’’جنریشن وائے‘‘ (Generation Y) سے تعلق رکھنے والی نسل بہ خوبی آگاہ ہے۔
دیوار کا جائزہ لیا جائے، تو پہلی نظر میں اس پر ایک فلمی پوسٹر چسپاں نظر آتا ہے۔ فلم کا نام ہے ’’خیال کوہ آشنا‘‘۔ پوسٹر پر درج معلومات سے پتا چلتا ہے کہ یہ ایک پشتو ایچ ڈی فلم ہے، جسے جمعہ، 12 ستمبر (2025ء) سے سوات سنیما میں نمایش کے لیے پیش کیا گیا ہے۔
مَیں ذہن پر زور ڈالتا ہوں، تو مجھے اس دیوار کے علاوہ پورے مینگورہ شہر میں بس ’’ٹانگو اڈا‘‘ (گلشن چوک، مینگورہ) کی مرکزی دیوار ہی یاد آتی ہے، جس پر پشتو، اُردو اور انگریزی زبان میں بنائی گئی فلموں کے رنگین پوسٹر چسپاں کیے جاتے تھے۔ 90ء کی دہائی میں صبح سویرے چاچا جی (مستنصر حسین تارڑ) سے ٹی وی سکرین کی مدد سے ’’ہیلو ہائے‘‘ ہوتی اور کارٹون دیکھنے کے بعد محلہ وزیر مال (مینگورہ) میں واقع گھر سے بستہ اُٹھا کر گورنمنٹ پرائمری سکول ملا بابا کے لیے بھاگم بھاگ نکل پڑتے، تو راستے ہی میں مذکورہ ’’بدنامِ زمانہ دیوار‘‘ آتی تھی۔ ہم نہ چاہتے ہوئے بھی ایک اُڑتی سی نظر دیوار پر لگے پوسٹروں پر ڈالتے اور گناہ کے خوف سے فوراً نگاہیں سیدھی کرلیتے۔
90ء کی دہائی میں مینگورہ شہر میں دو سنیما گھر، پلوشہ سنیما اور سوات سنیما، نہ صرف اہلِ مینگورہ بل کہ پورے سوات کے لوگوں کی تفریح کا ذریعہ تھے۔ ہر ہفتے کوئی نہ کوئی فلم ریلیز ہوتی۔ پشتو فلموں میں بدر منیر اور آصف خان ہماری توجہ کا مرکز ہوتے۔ پوسٹر میں ’’بے باک مناظر‘‘ (Bold scenes) کے لیے مشہور مسرت شاہین کی کوئی ناموزوں ژست (Indecent pose) ہوتی اور سویرے سویرے ہماری اُس پر نظر پڑجاتی، تو کانوں کی لو کو ہاتھ لگاتے اور زیرِ لب ’’استغفر اللہ‘‘ کَہ کر گزر جاتے۔ دوپہر کو چھٹی کے وقت اُسی پوسٹر پر دوبارہ نظر پڑتی، تو ایمان کے خطرے کے پیشِ نظر دوبارہ استغفار کا سہارا لیتے۔
اب پلوشہ سنیما کی پرشکوہ عمارت پلازے میں تبدیل کردی گئی ہے۔ سوات سنیما ہال بھی جلد تاریخ کا حصہ بننے والا ہے۔
وقت بدل گیا۔ مینگورہ کا حسن حوسِ زر کی گرد میں چھپ چکا۔عمارتیں (جو عظمتِ رفتہ کی نشانی تھی) مٹ گئیں، مگر یادوں کی ایک دیوار اب بھی قائم ہے۔ ایسے میں امر دیپ سنگھ کا یہ شعر بے اختیار لبوں پر آتا ہے کہ
چھلک پڑتے ہیں آنسو آنکھ سے اِک موڑ مڑتے ہی
پرانے گھر کی گلیوں سے مرا رشتہ ابھی تک ہے

One Response

  1. اسلام علیکم۔ اُمید کرتا ہوں آپ خیریت سے ہونگے۔ جب بھی آپکا نیا بلاگ آتا ہے میں پڑھے بنا آگے نہیں بڑھتا۔ اللہ اپکو ہمیشہ سلامت اور خوش باش رکھے۔ آمین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے