سوشل ورک، ترقی یافتہ اقوام اور ہماری بدقسمتی

Blogger Sami Khan Torwali

دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کو اگر قریب سے دیکھا جائے، تو اُن کے اجتماعی رویوں میں سب سے نمایاں چیز ’’سماجی خدمت‘‘ یا ’’سوشل ورک‘‘ کا جذبہ ہوتا ہے۔
مذکورہ قوموں نے یہ اُصول اپنا لیا ہے کہ فرد صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتا، بل کہ وہ ریاست، معاشرے اور انسانیت کا بھی ذمے دار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی یافتہ ممالک میں جب کوئی بچہ ’’اُو لیول‘‘ یا ’’اے لیول‘‘ جیسا امتحان پاس کرتا ہے، تو اُسے سرٹیفکیٹ اُسی وقت دیا جاتا ہے، جب تک وہ سماجی خدمت کا ثبوت پیش نہ کرے۔ اس عمل کے بغیر اُس کی تعلیم ادھوری سمجھی جاتی ہے۔ مقصد یہی ہے کہ نوجوان کو شروع ہی سے شعور دیا جائے کہ وہ کتابی علم کے ساتھ عملی میدان میں بھی اپنی ذمے داریوں کو سمجھے اور معاشرتی فلاح و بہبود میں حصہ ڈالے۔
اس کے برعکس پاکستان جیسے ممالک میں المیہ یہ ہے کہ یہاں ’’اُو لیول‘‘ اور ’’اے لیول‘‘ کے امتحان پاس کرنے والے طلبہ کے لیے بھی یہ شرط کاغذی طور پر موجود ہے، لیکن اکثر اوقات یہ سرٹیفکیٹ بغیر کسی عملی سرگرمی کے محض گھروں میں بیٹھے بنوا لیے جاتے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے نوجوانوں کو سماجی خدمت کے الف بے کا بھی علم نہیں ہوتا۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام ہے، حالاں کہ تعلیم کا حقیقی مقصد انسان کو ذمے دار شہری اور قوم کا فعال رکن بنانا ہے۔
ترقی یافتہ دنیا میں جب کسی خطے کو آفات یا حادثات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تو اُن کے شہری پہلے ہی سے تربیت یافتہ ہوتے ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں میں اُن کو سکھایا جاتا ہے کہ قدرتی آفات، زلزلے ، سیلاب یا کسی بڑے حادثے کی صورت میں کس طرح ردِعمل دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں نقصانات کم ہوتے ہیں اور انسانی جانوں کو زیادہ بچایا جا سکتا ہے۔ مثال کے طور پر جاپان ہی کو لیجیے۔ دنیا میں سب سے زیادہ زلزلے اسی خطے میں آتے ہیں، لیکن وہاں کے عوام اور ریاستی ادارے اس قدر تربیت یافتہ ہیں کہ بڑے سے بڑا زلزلہ بھی اُن کی اجتماعی نظم کو درہم برہم نہیں کرتا۔ عوام اپنی ذمے داری سمجھتے ہوئے گھروں سے نکل کر امدادی کاموں میں حصہ لیتے ہیں…… لیکن ہمارے ہاں صورتِ حال بالکل مختلف ہے۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ پاکستان قدرتی آفات کا شکار ہونے والا ملک ہے۔ کبھی زلزلے، کبھی سیلاب، کبھی لینڈ سلائیڈنگ اور کبھی برفانی تودے ہماری بستیاں اُجاڑ دیتے ہیں، لیکن اس سب کے باوجود ’’سماجی خدمت‘‘ کا شعور عوام میں ناپید ہے۔ حادثات کے باوجود ہمارے لوگ گھروں سے نہیں نکلتے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ حکومت یا چند فلاحی اداروں کی ذمے داری ہے۔
ابھی حالیہ 2025ء کے تباہ کن سیلاب ہی کو دیکھ لیجیے۔ ہزاروں گھر منہدم ہوئے، درجنوں زندگیاں ضائع ہوئیں، لاکھوں لوگ بے گھر ہوئے۔ سیلابی ریلوں نے جب بستیاں خس و خاشاک کی طرح بہا دیں، تو سب سے پہلا ردِعمل مقامی عوام کی طرف سے ہونا چاہیے تھا۔ اگر ہر شخص ایک دن بھی اخلاصِ نیت کے ساتھ کام کرتا، تو کم از کم ملبہ ہٹانے میں نمایاں پیش رفت ہوجاتی…… لیکن افسوس کہ دس دن گزر جانے کے باوجود ملبہ جوں کا توں پڑا ہے۔
مینگورہ سے ہمارے عزیز بھائی امجد علی سحابؔ صاحب، سعد خان، عابد علی جان اور دیگر احباب بار بار اپیل کر رہے ہیں کہ لوگ نکلیں، اپنے بھائیوں کی مدد کریں، لیکن مقامی سطح پر وہ جوش و خروش دکھائی نہیں دیتا، جو ایک زندہ قوم کا شعار ہوتا ہے۔ اس دوران میں بیرونی امدادی ٹیمیں پہنچتی ہیں، فلاحی تنظیمیں آتی ہیں اور کچھ حد تک کام آگے بڑھتا ہے، مگر مقامی عوام کی غیر موجودگی سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے۔
یقینا ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ ’’الخدمت فاؤنڈیشن‘‘، ’’مہر فاؤنڈیشن‘‘، ’’خدائی خدمت گار تنظیم‘‘، ’’انصار الاسلام‘‘، ’’اخلاص فاؤنڈیشن‘‘، ’’ایس پی ایس کالج‘‘ اور درجنوں دیگر مقامی چھوٹی بڑی تنظیمیں اپنے طور پر بڑا کام کرتی ہیں۔ ان کے کارکن جان ہتھیلی پر رکھ کر متاثرین تک پہنچتے ہیں، مگر سوال یہ ہے کہ حکومت کہاں ہے، ریاستی ادارے کہاں ہیں، کیا اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو کبھی سکھایا گیا کہ حادثے کی صورت میں کس طرح اپنی اور دوسروں کی جان بچانی ہے، کیا حکومت نے کبھی عام شہری کو بنیادی سماجی خدمت کی تربیت دینے کے لیے کوئی جامع منصوبہ بنایا ہے؟
جواب افسوس ناک حد تک نفی میں ہے۔ ہمارے ہاں تربیت کا پورا نظام ہی غیر موجود ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ جب کوئی آفت آتی ہے، تو عوام صرف تماشائی بن جاتے ہیں۔ وہ انتظار کرتے ہیں کہ کوئی غیر ملکی تنظیم یا حکومت اُن کی مدد کو آئے گی۔
اصل فرق ترقی یافتہ اور پس ماندہ اقوام میں یہی ہے۔ وہاں کا عام آدمی بھی خود کو باقاعدہ ذمے دار سمجھتا ہے ۔ اُس کے نزدیک سوشل ورک کوئی وقتی یا دکھاوے کی سرگرمی نہیں، بل کہ زندگی کا حصہ ہے۔ وہ جانتا ہے کہ قومی بقا کا راز صرف حکومت یا اداروں پر نہیں، بل کہ عوامی شعور پر بھی منحصر ہے۔
ہمیں یہ ماننا پڑے گا کہ پاکستان میں اگر حقیقی تبدیلی لانی ہے، تو سماجی خدمت کے کلچر کو فروغ دینا ہوگا۔ اسکولوں اور کالجوں میں طلبہ کو لازمی طور پر سوشل ورک کی سرگرمیوں میں شریک کیا جائے۔ ہر شہری کو یہ احساس دلایا جائے کہ حادثات کے وقت گھروں سے نکلنا، متاثرین کی مدد کرنا، ملبہ ہٹانا اور امدادی کاموں میں ہاتھ بٹانا اس کا قومی فریضہ ہے۔
آخر میں یہی کہنا مناسب ہوگا کہ ترقی یافتہ اقوام کے اور ہمارے درمیان فاصلہ صرف سڑکوں، عمارتوں یا معیشت کا نہیں، بل کہ شعور اور ذمے داری کا ہے۔ اگر ہم نے اپنے بچوں کو صرف ڈگریاں تھما دیں، لیکن اُن میں سوشل ورک کا جذبہ پیدا نہ کیا، تو آنے والے برسوں میں بھی ہم ہر آفت کے بعد وہی لاچاری، بے بسی اور تاخیر دیکھتے رہیں گے ۔
قوموں کی ترقی، اداروں کی مضبوطی اور عوامی شعور کے امتزاج سے ہوتی ہے۔ جب تک پاکستانی عوام اپنی ذمے داری کو تسلیم نہیں کرتے اور حکومت اس کو ادارہ جاتی تربیت کا حصہ نہیں بناتی…… تب تک ہمارے لیے ترقی یافتہ اقوام جیسا مستقبل محض خواب ہی رہے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

One Response

Javier Schumm کو جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے