جامعات و دینی مدارس (جوابِ آں غزل)

Blogger Khwaja Naveed

جب بھی یونیورسٹیوں کی عالمی رینکنگ شائع ہوتی ہے، پاکستان میں یونیورسٹیوں کی زبوں حالی کے حوالے سے ڈسکشن چل پڑتی ہے، جو کہ ایک مُثبت عمل ہے…… لیکن اس درمیان کچھ لوگ، جو یونیورسٹیوں سے کچھ نسبت رکھتے ہیں اور نہ انھیں رینکنگ کے پراسس کا کچھ اندازہ ہی ہوتا ہے ، اپنی لچ تلنے لگتے ہیں۔ اس ضمن میں آج کل مذہبی مدرسوں کے کچھ متعلقین نے پاکستانی یونیورسٹیوں کے عالمی رینکنگ کو بنیاد بنا کر، مدرسوں اور اس کی طرزِ تعلیم کا بول بالا کرنا شروع کیا ہے۔
اس ضمن میں ایک دوست نے "QS World Ranking” میں پاکستانی یونیورسٹیوں کی پوزیشن پر تبصرہ کرتے ہوئے اس حوالے سے حکومتی فنڈنگ سے محرومی، فیسوں کی عدم موجودگی اور ان کے بہ قول پُرتعیش انفراسٹرکچر کے عنقا ہونے کے باوجود مدرسوں کا لاکھوں طلبہ کو تعلیم دینا اور وفاق المدارس کے امتحانات میں 85 فی صد نتائج دینے ہی کو مدارس کئی یونیورسٹیوں پر فوقیت کی دلیل بنائی ہے۔
اب پہلے تو یہ ساری دلائل بہ ذاتِ خود محل نظر ہیں۔ کیوں کہ اگر حکومت مدارس کو فنڈ نہیں کرتی، تو معاشرہ تو کررہا ہے اور اسی لیے دینی مدارس کے طلبہ بغیر کسی معاشی دباو کے، رہایش، تعلیم اور خوراک کی سہولت سے بہرہ ور ہوتے ہیں، جب کہ مقابلتاً، یونیورسٹیوں میں ٹیویشن فیس، ہاسٹل فیس، یوٹیلیٹی فیس اور خوارک کا خرچہ طالب علموں کو اپنے پلے ہی سے ادا کرنا پڑتا ہے۔
اور پُرتعیش انفراسٹرکچر جتنا کچھ مدارس کا سامنے آرہا ہے، وہ کسی طور یونیورسٹیوں سے کم نہیں، بل کہ وائس چانسلرز کا اتنا پروٹوکول نہیں ہوتا، جتنا کہ مدارس کے مہتممین کا ہوتا ہے۔
بڑے مدارس کو تو چھوڑئیے، ہمارے سوات میں ایسے ایسے عالی شان بلڈنگ اور سہولیات والے مدارس ہیں کہ بندہ حیران رہ جاتا ہے۔
اور تو اور، مہتممین کا لائف سٹائل اور وقف املاک کو اپنی ذاتی تصرف میں استعمال میں لانے کا ایک قبیح کلچر پروان چڑھ چکا ہے، جہاں مہتممین کے صاحب زادگان کے وارے نیارے ہوتے ہیں۔ انٹر کولر گاڑیاں، سولر کے ذریعے بلا تعطل بجلی کی سپلائی اور مدارس کے ضمن میں اپنی مہمان داری کا باقاعدہ لنگر چلانا تو رواج پاچکا ہے۔
مینگورہ میں جن مساجد و مدارس کے مہتممین باہر کے علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں، وہ ان وقف جگہوں کو اپنے مہمانوں کے لیے بہ طور سرائے ہی استعمال کرتے ہیں، جس کے بدلے میں ظاہر ہے ان مہتممین کی سیاسی و معاشرتی حیثیت پروان چڑھتی ہے اور یہی حال ہر شہری علاقے کا ہے۔
تو فاضل دوست نے جس بے چارگی کو بنیاد بنا کر موازنہ کیا ہے، پہلے تو وہ حقائق کے برخلاف ہے۔ پھر روایتی تعلیمی اداروں کے مسائل اور زبوں حالی اپنی جگہ، لیکن انھی اداروں سے پڑھ کر پاکستانی دنیا بھر کے ٹاپ اداروں میں ٹیچنگ اور ریسرچ کے لیے چنے جاتے ہیں۔
سویڈن جوکہ شمالی یورپ کا نسبتاً کم پاکستانی امیگرینٹس کا ملک گردانا جاتا ہے، کے جس شہر میں، مَیں خود یونیورسٹی میں جاب کرتا ہوں، وہاں ہزاروں پاکستانی جدید انڈسٹریز میں اچھے عہدوں پر کام کررہے ہیں اور یہ سب لوگ پاکستان کی یونیورسٹیوں ہی سے پڑھ کر آئے ہیں۔
ہمارے اپنے اکثریتی کلاس فیلوز دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ میرے اپنے شاگرد سیکڑوں کی تعداد میں دنیا بھر میں پھیلے ہوئے ہیں۔ یہی بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے ملک میں پیسے بھیج کر معیشت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔ ڈیفالٹ سے اگر پاکستان بچا ہوا ہے، تو انہی فارن ریمیٹینسز کی وجہ سے بچا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ، حالیہ پاکستان انڈیا جنگ میں تو یہ حقیقت اور کھل کر سامنے آئی ہے کہ جنگ ساری ٹیکنالوجی کی بنیاد پر تھی اور جس ٹیکنالوجی کواستعمال کرکے فتح سمیٹی گئی ہے، وہ انھی لوگوں نے ڈیولپ اور استعمال کی ہے۔ ہزاروں انجینئر ز اور ڈیولیپرز بغیر کسی ظاہری تمغا نوازی کے، پس منظر میں رہ کر بے نفسی کے ساتھ ملک و قوم کی خدمت انھی یونیورسٹیوں کی تعلیم حاصل کرکے کررہے ہیں اور انھی کی کاوشوں کے مرہون منت، فتح سمیٹی گئی ہے۔
مزید برآں، جب یہ دعوا کیا جاتا ہے کہ دنیا میں اسلامی تعلیم کے حوالے سے مدارس نے پاکستان کا نام روشن کیا ہے، تو اس کے لیے محض دعوے ہی کو کافی نہیں جاننا چاہییں ، کوئی ثبوت بھی پیش کیا جانا چاہیے۔
فرقہ واریت کی بنیاد پر معاشرتی تقسیم تو روز بہ روز زیادہ ہورہی ہے، جب کہ یہی لاکھوں فارغینِ مدارس ، معاشی سرگرمی میں حصہ داری سے اجتناب برتتے ہیں۔ محض مسجد کی امامت کو مقصود جاننا کیا کافی ہے؟ اقبال کا تو ماننا ہے کہ
زندہ قوت تھی جہاں میں یہی توحید کبھی
آج کیا ہے ، فقط اک مسئلۂ عِلم کلام
روشن اس ضو سے اگرظلمتِ کردار نہ ہو
خود مسلماں سے ہے پوشیدہ مسلماں کا مقام
قوم کیا چیز ہے، قوموں کی امامت کیا ہے
اس کو کیا سمجھے یہ بے چارے دو رکعت کے امام
جوابِ آں غزل (جامعات اور دینی مدارس: مختصر تقابلی جائزہ) کی بنیاد پر میرا اپنے فاضل دوست یہ سوال ہے کہ مزعومہ دینی مدارس کی روزافزوں ترقی کے باوجود ، اور دین کے بنیادی مراکزِتربیت یعنی مساجد و مدارس پر ان اہل مدارس کی اجارہ داری کے باوجود، عوام الناس کی دینی سمجھ اور اخلاقی حالت روبہ زوال کیوں ہے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے