چلی کی کان سے دریائے سوات تک

Blogger Sami Khan Torwali

اگست 2010ء کی ایک خنک صبح دنیا بھر کی توجہ جنوبی امریکہ کے ایک ملک ’’چلی‘‘ کی جانب مبذول ہوئی۔ وہاں کے ایک دور دراز علاقے سان خوزے کی ایک سونے اور تانبے کی کان میں 33 کان کن ایک زوردار دھماکے کے بعد زمین کے 700 میٹر نیچے پھنس گئے تھے۔ دنیا کی نگاہوں میں یہ ایک انسانی المیہ تھا، مگر چلی کی ریاست اور قوم نے اسے ایک انسانی فرض، ایک قومی امتحان اور ایک انقلابی موقع کے طور پر قبول کیا۔
چلی تانبہ پیدا کرنے والے ممالک میں سرفہرست ہے اور اس کی معیشت کا بڑا انحصار انھی کانوں پر ہے، مگر جب ان کانوں میں انسانی جانیں خطرے میں پڑیں، تو ریاست نے منافع کو پسِ پشت ڈال کر انسان کو مقدم جانا۔ تین دن کے اندر اندر دنیا کی بہترین انجینئرنگ ٹیمیں طلب کی گئیں۔ امریکہ، جرمنی، جاپان، آسٹریلیا اور کینیڈا سے ڈرلنگ مشینیں منگوائی گئیں۔ چلی کی فضائیہ، بحریہ، زمینی افواج اور سویلین انجینئرز سب نے مل کر ایک ایسا مربوط نظام بنایا کہ دنیا دنگ رہ گئی۔
تین ہفتے بعد جب پہلا رابطہ ہوا، تو معلوم ہوا کہ تمام کان کن زندہ ہیں۔ یہ ایک معجزہ تھا، لیکن اس معجزے کے پیچھے انسانی کوشش، سائنسی مہارت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کا راز تھا۔ ہر کان کن کو مخصوص وقت پر کھانا، دوا، پانی اور وٹامن فراہم کیے جاتے۔ ایک خاص کیپسول بنایا گیا، جو خوراک اور خطوط نیچے پہنچانے کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ نیچے موجود افراد کو منظم طریقے سے روزانہ کی ورزش کرائی جاتی، تاکہ وہ ذہنی دباو سے بچ سکیں۔
عدالت نے فوراً کان کی مالک کمپنی ’’سان استیبان‘‘ کے 18 ملین ڈالر منجمد کر دیے، تاکہ متاثرہ خاندانوں کو زرِ تلافی دیا جاسکے ۔ پورا چلی ایک ہوگیا۔ ہزاروں لوگ دن رات کان کے باہر موجود رہے، مذہبی راہ نما دعائیں کرتے رہے، بچے کارڈز اور محبت بھرے خطوط بھجواتے رہے۔
69 دن بعد تمام 33 کان کن بہ حفاظت نکال لیے گئے۔ یہ ایک عالمی انسانی کارنامہ بن گیا۔ دنیا نے چلی کے اداروں، قیادت اور عوام کو خراج تحسین پیش کیا، لیکن یہ سب کچھ ایک جامع ریاستی ڈھانچے، مداخلت سے پاک نظام اور انسانیت کو ترجیح دینے والے نظریے کے بغیر ممکن نہ تھا۔
اب آئیے 27 جون 2025ء کے پاکستان کے شمالی علاقہ جات کی طرف، جہاں فطرت کی حسین گود میں ایک دل دہلا دینے والا سانحہ رقم ہوا۔ دریائے سوات کے بیچوں بیچ ایک خاندان، جس میں بچے، خواتین اور مرد شامل تھے، تفریح کے دوران میں اچانک سیلابی پانی کی لپیٹ میں آگیا۔ یہ حادثہ مینگورہ بائی پاس کے قریب پیش آیا، ایک ایسا علاقہ جو نہایت گنجان آباد ہے، جہاں حکومتی دفاتر، ریسکیو اسٹیشن اور سرکاری مشینری صرف چند منٹ کے فاصلے پر موجود ہیں۔
13 افراد دریا میں پھنس گئے۔ وہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک مدد کے لیے پکارتے رہے۔ سوشل میڈیا پر ان کی ویڈیوز وائرل ہوگئیں، مگر حکومتی ادارے حرکت میں نہ آسکے۔ کوئی ریسکیو، کوئی پولیس، کوئی ضلعی انتظامیہ، کوئی سیاسی نمایندہ ان کی مدد کو نہ پہنچا۔
یہ واقعہ چلی کے واقعے کی مکمل ضد ہے۔ وہاں 700 میٹر نیچے زندگی کے چراغ روشن کیے گئے، یہاں سطح زمین پر موجود انسان دریا کی بے رحم موجوں کا لقمہ بن گئے۔
ریاستی اداروں کی یہ غفلت محض نالائقی نہیں، یہ مجرمانہ بے حسی ہے۔ اگر 5 منٹ کے فاصلے پر ریسکیو ادارہ موجود ہو اور وہ حرکت نہ کرے، تو اس کا مطلب صرف تربیت کی کمی نہیں، بل کہ نیت کا فقدان بھی ہے۔ اور نیت تب ہی پیدا ہوتی ہے جب ادارے آزادی سے اپنا کام کریں، سیاسی اثر و رسوخ سے پاک ہوں اور ان میں جواب دہی کا سخت نظام ہو۔
حادثے کے فوراً بعد حسبِ معمول چند افسران معطل کیے گئے، بیانات جاری ہوئے، کمیٹیاں بنیں، مگر کسی کو یقین نہیں تھا کہ ان اقدامات کا کوئی عملی نتیجہ نکلے گا۔ پاکستان میں معطلی کا مطلب صرف اتنا ہوتا ہے کہ ملازم دفتر نہ آئے، مگر تنخواہ، مراعات اور مراعات یافتہ حیثیت قائم رہے۔
ریاستی نظام کی تباہی کی ایک اور مثال یہ بھی ہے کہ کالام میں دریا کے ساتھ واقع چند ہوٹلوں کو بند کیا گیا۔ کیوں کہ اُن کا فضلہ دریا میں گر رہا تھا، مگر محض چند گھنٹوں بعد ایک مقامی ایم پی اے کے زبانی حکم پر وہ تمام ہوٹل دوبارہ کھول دیے گئے۔ اس واقعے نے ثابت کر دیا کہ پاکستان میں نہ ماحولیاتی تحفظ کی اہمیت ہے، نہ ریاستی اداروں کی خود مختاری اور نہ انسانی جانوں کی حرمت کا تصور ہی ہے۔
ہم بہ طور قوم اس سانحے کے شریک مجرم ہیں۔ ہم وہ عوام ہیں جو ہر پانچ سال بعد اُنھی نمایندوں کو منتخب کرتے ہیں، جو ادارے برباد کرتے ہیں، ماحول کو تباہ کرتے ہیں اور ہر حادثے کے بعد چند تصاویر اور تعزیتی بیانات کے ذریعے اپنی بے حسی کو چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
سوات میں پیش آنے والے اس سانحے میں جو لوگ دریا میں بہہ گئے، وہ مہمان تھے، پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والے سیاح، جو ہمارے علاقے کے حسن سے متاثر ہوکر ہماری مہمان نوازی کا ذائقہ چکھنے آئے تھے…… لیکن ہم نے اُن کی مہمان نوازی ’’بے حسی‘‘، ’’نالائقی‘‘ اور ’’مجرمانہ‘‘ غفلت سے کی۔
سب سے زیادہ شرمندگی مینگورہ شہر کے تعلیم یافتہ، باشعور افراد کو ہونی چاہیے، جو بار بار ایسے نمایندوں کو ووٹ دیتے ہیں جن کی پوری سیاست پراپرٹی ڈیلنگ، خود نمائی اور سوشل میڈیا پر نعرے بازی تک محدود ہے۔ ایسے نمایندے جو ماحولیاتی قانون کیا ہوتا ہے…… سے بھی ناواقف ہیں۔
اس حادثے کے بعد اگر میڈیا نہ ہوتا، تو شاید اس واقعے کو بھی دبایا جا چکا ہوتا۔ چند مقامی صحافیوں نے، سوشل میڈیا رضاکاروں نے اور کچھ درد مند افراد نے اس واقعے کو زندہ رکھا۔ یہی وہ عناصر تھے جن کی وجہ سے حکومت پر دباؤ آیا…… لیکن سوال یہ ہے کہ کب تک ہم صحافیوں اور سوشل میڈیا پر انحصار کرتے رہیں گے، کب ہمارے ادارے خود کار، خود مختار اور خود احتسابی پر مبنی ہوں گے؟
عدلیہ اگر اس واقعے کا ازخود نوٹس لیتی، اگر ذمے داروں کے خلاف مثالی کارروائی ہوتی، تو شاید ہم آیندہ کے سانحات سے بچ جاتے…… لیکن اگر عدلیہ بھی خاموش رہے، تو پھر اُمید کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگتا ہے۔
اگر ہم کچھ اصلاحات کرلیں، تو شاید ہم بھی بچ جائیں۔
٭ ریسکیو اداروں کی مکمل اصلاح:۔ ریسکیو کو جدید تربیت، مشینری اور خودمختار حیثیت دینا لازم ہے۔ ہر ریسکیو اہل کار کو بین الاقوامی معیار کے مطابق تربیت دی جائے۔
٭ ماحولیاتی قوانین کی سختی سے پاس داری:۔ دریا، جنگلات، پہاڑ سب قومی اثاثے ہیں۔ ان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ ناقابلِ ضمانت جرم قرار دیا جائے۔
٭ سیاسی مداخلت پر مکمل پابندی:۔ ہر ایم پی اے، ایم این اے اور وزیر کو ادارہ جاتی خود مختاری کے خلاف مداخلت پر فوری نااہلی کا سامنا ہو۔
٭ عدالتی احتساب کا نظام:۔ ہر ایسے حادثے پر ایک آزاد عدالتی کمیشن بنایا جائے، جو کھلی عدالت میں عوامی سماعت کرے۔
٭ عوامی شعور کی بیداری:۔ ہر شہری کو یہ سکھایا جائے کہ ووٹ ایک مقدس امانت ہے، اسے سوچ سمجھ کر استعمال کرنا ہے۔
٭ سیاحت کا مربوط ضابطہ:۔ تمام سیاحتی علاقوں میں حفاظتی اقدامات، گائیڈز، وارننگ سسٹم اور ریسکیو پوسٹیں لازم قرار دی جائیں۔
٭ میڈیا اور سول سوسائٹی کی سرپرستی:۔ جو لوگ نظام کی خرابیوں کو اُجاگر کرتے ہیں، اُنھیں تحفظ دیا جائے، اُن کی بات سنی جائے۔
کیا اس کے بعد ہم جاگ جائیں گے؟
چلی نے اپنے 33 کان کنوں کو 700 میٹر نیچے سے زندہ نکالا۔ ہم اپنے 13 مہمانوں کو دریا کے کنارے سے نہ بچا سکے۔ فرق صرف نظام کا نہیں، نیت، نظریے اور قومی شعور کا ہے۔ جب تک ہم اپنی ترجیحات کو انسان کے بہ جائے مفادات، ووٹ کے بہ جائے برادری اور قانون کے بہ جائے شخصیت پرستی پر مبنی رکھیں گے، تب تک یہ سانحات ہوتے رہیں گے۔
یہ وقت ہے بیداری کا، خود احتسابی کا اور ایک نئے عمرانی معاہدے کا…… ورنہ اگلی بار دریا کسی اور کا بیٹا بہا لے جائے گا اور ہم پھر صرف افسوس لکھیں گے، مگر شرمندگی بھی نہ محسوس کریں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے