وفاقی بجٹ 2025-26ء کی آمد سے قبل ملک میں ایک مرتبہ پھر وہی روایتی ہل چل دیکھنے کو مل رہی ہے، جو ہر سال بجٹ سیزن سے قبل پیدا ہوتی ہے۔ بازاروں، دفاتر، میڈیا اور سوشل پلیٹ فارمز پر عوامی گفت گو کا محور یہی سوال ہے کہ اس بار بجٹ میں کیا مہنگائی میں کوئی ریلیف دیا جائے گا، ٹیکسوں کا بوجھ کتنا بڑھے گا، تنخواہ دار طبقے کو کتنی راحت ملے گی اور عام آدمی کے لیے زندگی جینا مزید مشکل تو نہیں ہوجائے گا؟ یہ وہ سوالات ہیں جن کے جوابات ہر شہری جاننا چاہتا ہے، لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ ماضی کی روشنی میں ان سوالات کے جوابات زیادہ امید افزا نہیں۔
ملک اس وقت شدید مالی بحران سے گزر رہا ہے۔ زرِمبادلہ کے ذخائر کم ترین سطح پر ہیں۔ تجارتی خسارہ بڑھ رہا ہے۔ بیرونی قرضوں کا حجم خطرناک حد تک پہنچ چکا ہے اور روپے کی قدر مسلسل دباو کا شکار ہے۔ اس صورتِ حال میں حکومت کے پاس بجٹ میں گنجایش نکالنے کی صلاحیت انتہائی محدود ہوگئی ہے۔ اس پر مستزاد یہ کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہونے والے معاہدوں کی شرائط بھی بجٹ کی ساخت پر اثرانداز ہوں گی۔ آئی ایم ایف کا مطالبہ ہوتا ہے کہ سبسڈی کم کی جائے، ٹیکس نیٹ بڑھایا جائے، سرکاری اخراجات پر قابو پایا جائے اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لائی جائیں…… لیکن یہ سب اقدامات عوامی ردِ عمل کے لحاظ سے نہایت حساس اور غیر مقبول ہوتے ہیں۔
ایک طرف اگر حکومت بجٹ میں ریونیو بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس عائد کرتی ہے، یا موجودہ شرحوں میں اضافہ کرتی ہے، تو مہنگائی کا ایک اور طوفان برپا ہو سکتا ہے، جو پہلے ہی سے پسے ہوئے عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔ دوسری طرف اگر حکومت ریلیف دینے کی کوشش کرتی ہے، تو بجٹ خسارہ اور قرضوں کی ادائی کے مسائل مزید سنگین ہوجائیں گے۔ ایسے میں حکومت کے پاس ایک ہی راستہ بچتا ہے کہ وہ ایک متوازن بجٹ پیش کرے، جس میں ریونیو بڑھانے کے لیے نئے ٹیکس ضرور ہوں، لیکن اُن کا بوجھ صرف تنخواہ دار طبقے یا چھوٹے تاجروں پر نہ ڈالا جائے، بل کہ بڑے کاروباری ادارے، غیر دستاویزی معیشت، پراپرٹی اور اسٹاک مارکیٹ سے بھی مناسب ریونیو اکٹھا کیا جائے۔
پاکستان کا مسئلہ صرف وسائل کی کمی نہیں، بل کہ وسائل کی غلط تقسیم بھی ہے۔ تعلیم اور صحت جیسے اہم شعبے ہر سال بجٹ میں نظر انداز کیے جاتے ہیں، جب کہ دفاعی اخراجات اور انتظامی اخراجات میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ اگر حکومت سنجیدگی سے ملک کو ترقی کی راہ پر گام زن دیکھنا چاہتی ہے، تو اسے تعلیم، ہنر مندی، تحقیق، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں پر سرمایہ کاری کرنا ہوگی۔ جدید دنیا کی معیشت علم اور تحقیق کی بنیاد پر استوار ہو رہی ہے، جب کہ پاکستان آج بھی بنیادی سہولیات کے لیے ترس رہا ہے۔
زراعت، جو پاکستان کی معیشت کا ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے، آج شدید بحران کا شکار ہے۔ کسان کو نہ کھاد وقت پر ملتی ہے، نہ پانی دست یاب ہوتا ہے، نہ اُس کی پیداوار کی مناسب قیمت ہی ملتی ہے۔ بجٹ میں زرعی اصلاحات، چھوٹے کسانوں کے لیے مالیاتی سہولیات، جدید مشینری کی فراہمی اور فصلوں کی قیمت کے تعین میں شفافیت کو شامل کیا جانا ناگزیر ہے۔
بالکل یہی صورتِ حال چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں (SMEs) کی ہے، جنھیں سرمایہ، آسان قرضے اور پالیسی معاونت درکار ہے، تاکہ یہ ملکی معیشت کا پہیا چلاسکیں۔
عوام کی جانب سے سب سے بڑی اُمید مہنگائی میں کمی کی ہے۔ پچھلے چند سالوں میں مہنگائی نے غریب اور متوسط طبقے کی کمر توڑ دی ہے۔ اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے، تو اسے بنیادی اشیائے ضروریہ جیسے آٹا، گھی، چینی، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں استحکام لانا ہوگا۔ اس کے لیے حکومتی سبسڈی کو بہتر انداز میں ہدف بناکر ضرورت مندوں تک پہنچانا ہوگا، تاکہ فائدہ واقعی مستحقین کو ہو، نہ کہ ذخیرہ اندوزوں اور مصنوعی قلت پیدا کرنے والوں کو۔
ٹیکس اصلاحات بھی اس بجٹ کا اہم جزو ہونی چاہییں۔ پاکستان میں ٹیکس دینے والوں کی تعداد انتہائی کم ہے، جب کہ غیر رسمی معیشت کا حجم بہت بڑا ہے۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ ٹیکس نظام کو شفاف، سادہ اور منصفانہ بنائے۔ ایسا نظام متعارف کروایا جائے، جس میں لوگ اعتماد کے ساتھ اپنی آمدن ظاہر کریں اور اس بات کا یقین ہو کہ اُن کے دیے گئے ٹیکس کا صحیح استعمال ہوگا۔ ایف بی آر کی اصلاحات، ٹیکنالوجی کا استعمال اور کرپشن کے خاتمے کے بغیر یہ ممکن نہیں۔
یہ بجٹ محض مالی اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بل کہ یہ اس بات کا مظہر ہوگا کہ حکومت کا وِژن کیا ہے؟ کیا وہ وقتی سیاسی فائدے کو ترجیح دے گی یا طویل المدتی قومی مفاد کو؟ کیا وہ محض دکھاوے کے اقدامات کرے گی یا پائیدار اصلاحات کی بنیاد رکھے گی؟ کیا وہ صرف سرمایہ دار اور اشرافیہ کے مفادات کو تحفظ دے گی یا غریب، مزدور اور عام شہری کو ریلیف فراہم کرے گی؟ ان تمام سوالات کے جوابات اسی بجٹ کی تفصیلات میں چھپے ہوں گے۔
اگرچہ عوام کی اُمیدیں معدوم نہیں ہوئیں، لیکن ان میں احتیاط اور بدگمانی ضرور شامل ہو گئی ہے۔ یہ حکومت کے لیے ایک موقع ہے کہ وہ اس بدگمانی کو اعتماد میں بدلے، محض وعدے نہ کرے، بل کہ عملی اقدامات سے ثابت کرے کہ وہ واقعی عام شہری کی فلاح کے لیے سنجیدہ ہے۔ بہ صورتِ دیگر یہ بجٹ بھی محض ایک رسم بن کر رہ جائے گا، جو ہر سال آتا ہے ، وعدے کرتا ہے ، اور پھر عوام کو ایک نئے سال کے بجٹ کا منتظر چھوڑ کر رخصت ہو جاتا ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










