اختلاف کھلے سماج (Open Society) کا حسن ہوتا ہے۔ یہ اُن بندھنوں کو توڑ دیتا ہے، جن کی بہ دولت سماج کو ایک خاص ضابطے میں بند کردیا جاتا ہے، جو اکثر ایک خاص طبقۂ اشراف کے حق میں ہوتا ہے۔
اتفاق و اتحاد جب اختلاف کے بعد کسی سماج میں آجائے، تو یہ اس کا معراج ہوگا۔ بند سماجوں میں جو اتحاد نظر آتا ہے، وہ زیادہ تر جبری ہوتا ہے، جہاں کسی خاص طبقے کی اجارہ داری ہوتی ہے اور اسی کی بہ دولت دوسرے طبقات کسی اختلاف کا اظہار نہیں کرسکتے۔ ایسے سماج میں ایسے اتحاد اکثر کسی جرم یا گناہ پر بھی ہوجاتے ہیں، جیسے کہ ہماری ثقافتو ں کا جنس، نسل، عقیدے، زمین کی ملکیت وغیرہ کی بنیاد پر مخفی اتحاد و اتفاق قائم رہتا ہے۔
علمی اُمور میں اختلاف اکثر نئی جہتوں کو آشکارا کرتا ہے۔ اس میدان میں اختلاف اگر مناظرہ بازی، کج بحثی یا دوسرے کو نیچا دِکھانے کی بہ جائے متبادل استدال کی بنیاد پر کیا جائے، تو بڑی نعمت ہوتی ہے۔ اس سے مزید تفکر کرنے، کھوجنے اور تلاشنے کا موقع مل جاتا ہے۔
دراصل اس سے بند دریچے کُھلتے ہیں اور سڑے ذہن کِھلتے ہیں۔
جس طرح اختلاف سے بند سماجوں کے ضابطے بکھر جاتے ہیں اور وہ ثقافتی سانچے ٹوٹ جاتے ہیں، جس کا نتیجہ ایک وقتی اخلاقی بے چینی ہوتا ہے۔
اسی طرح علمی و فکری اختلاف میں انا متاثر ہوجاتی ہے۔ لہٰذا اس اختلاف کو سہنا اور اس کو مثبت لینا نہایت مشکل ہوجاتا ہے۔ کوئی اگر اس کو مثبت لے اور یہ اس کو مزید کھوج اور تلاش کے لیے شہ دے، تو بڑی غنیمت ہوتی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










