استاد محترم محمد شعیب صاحب

Blogger Hilal Danish

لفظ ’’معلم‘‘ محض چار حروف کا مجموعہ نہیں، بل کہ ایک عظیم کردار، ایک روشن چراغ اور ایک سراپا مہربانی ہستی کا استعارہ ہے۔
اُستاد کا رشتہ ایسا ہے، جو علم و عمل کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے، مگر محبت و شفقت کی ڈور سے بندھ کر روح کی گہرائیوں میں اتر جاتا ہے۔
مَیں آج بھی جب زندگی کی کتاب کے اوراق اُلٹاتا ہوں، تو صفحہ صفحہ پر جن کی تصویر مہکتی ہے، وہ میرے مہربان اُستاد، محترم محمد شعیب صاحب (وکیل اُستاد) ہیں، جو نہ صرف میرے معلم، بل کہ مربی، راہ نما، ایک مشفق باپ اور مخلص دوست بھی تھے۔
کلاس ششم سے ہشتم تک کا زمانہ میری زندگی کا وہ زریں باب ہے، جس میں وکیل اُستاد صاحب کی تربیت، شفقت اور بے پناہ محبت کی خوش بو ہر لمحہ رچی بسی رہی۔ آج 27 برس بعد بھی جب وہ کسی محفل میں ملتے ہیں، تو وہی محبت، وہی اپنائیت اور وہی اخلاق کی خوش بُو دل کو مہکا دیتی ہے، جو اُس زمانے میں تھی۔ حال ہی میں منگلور جنازہ گاہ میں ایک جنازے کے دوران میں اُن کے ساتھ لی، تصویر نے ماضی کی یادوں کے بند دریچے کھول دیے۔
مجھے یاد ہے، سنہ 1993ء میں، جب مَیں ساتویں جماعت میں تھا، ایک دن جذبات کے زیرِ اثر مَیں نے اپنے ایک ہم جماعت کی خالی نوٹ بک اُٹھا لی۔ ایک ماہ بعد جب وہ نوٹ بک میں کلاس میں لایا، میرے ہم جماعت نے پہچان لیا اور وکیل اُستاد صاحب سے شکایت کردی۔ اُستاد صاحب نے نہایت حکمت و دانائی سے معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کی اور جب اُنھیں اندازہ ہوا کہ کوتاہی مجھ سے ہوئی ہے، تو میری عزتِ نفس کو مجروح کیے بغیر، اپنی جیب سے 20 روپے نکال کر ہم جماعت کو دے دیے اور بات ختم کردی۔ اس واقعے کا ذکر آج تک اُنھوں نے میرے سامنے نہیں کیا۔
ایک اور موقع پر جب اسکاؤٹ فنڈ اور سپورٹس فنڈ کی مد میں جمع کی گئی رقم میں سے مَیں نے تقریباً دو سو روپے خرچ کر ڈالے اور خفت کے مارے اسکول آنا چھوڑ دیا، تو وکیل اُستاد صاحب نے ایک ہم جماعت کے ذریعے یہ پیغام بھیجا کہ ’’پریشان مت ہو، جتنی رقم خرچ ہوگئی ہے، مَیں پوری کردوں گا، بس تم واپس آجاؤ!‘‘
وہ میرے والد تک بھی یہ شکایت لے جاسکتے تھے، مگر اُنھوں نے ایسا نہیں کیا، بل کہ مجھ پر اعتماد بہ حال رکھا اور خاموشی سے میری تربیت کی۔ مَیں آج بھی حیران ہوتا ہوں کہ اُنھیں کیسے اندازہ ہوگیا تھا کہ معاملہ کیا ہے؟ ایسے اُستاد واقعی قوموں کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں۔
قرآنِ کریم میں ارشاد ہے: ’’ہُوَ الَّذِی بَعَثَ فِی الْاُمِّیّٖنَ رَسُوْلًا مِّنْھُمْ یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰتِھٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔‘‘ ّسورۃ الجمعہ:2) یعنی، اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو معلمِ کتاب و حکمت بنا کر بھیجا۔
خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا فرمان ہے: ’’انما بعثت معلما!‘‘ یعنی مجھے معلم بنا کر بھیجا گیا۔ یہ مقام معلم کی شان و عظمت کا واضح مظہر ہے۔
اُستاد صرف نصاب نہیں پڑھاتا، وہ کردار سازی کرتا ہے، اخلاق سنوارتا ہے اور زندگی کی راہوں میں راہ نمائی کا چراغ بن کر روشنی بکھیرتا ہے۔ معاشرے کی بگاڑ یا سنوار دونوں میں اساتذہ کا کردار بنیادی ہے۔ آج اگر معاشرتی حالات میں انتشار ہے، تو کہیں نہ کہیں ہمارے تعلیمی اداروں اور اساتذہ کی ذمے داریاں بھی زیرِ بحث آتی ہیں، لیکن آج بھی ایسے معلم موجود ہیں، جو تدریس کو محض ملازمت نہیں، بل کہ عبادت سمجھتے ہیں۔ وہ شاگردوں کے دل میں علم و اخلاق کے دیے روشن کرتے ہیں، جیسا کہ میرے وکیل استاد صاحب نے کیا۔
مَیں آج جو کچھ ہوں، اپنے اساتذہ کرام کی دعاؤں، تربیت اور شفقتوں کا مرہونِ منت ہوں۔
اے پروردگارِ عالم! جن ہستیوں نے ہمیں قلم کی روشنی سے منور کیا، جنھوں نے ہمارے دلوں میں علم و حکمت کے چراغ جلائے، جنھوں نے ہماری لغزشوں پر پردہ ڈال کر ہمیں کردار کی بلندیوں تک پہنچانے کی سعی کی، اُن سب اساتذۂ کرام پر اپنی بے پایاں رحمتیں نازل فرما۔
یا اللہ! ہمارے اساتذہ کے درجات بلند فرما، اُن کی لغزشوں کو معاف فرما، اُن کی زندگیوں میں برکت، صحت اور عافیت عطا فرما…… اور جو اس دارِ فانی سے رخصت ہوچکے، اُن کی قبروں کو نور سے بھر دے، اُن کے گناہوں کو معاف فرما، اُن کی خدماتِ علمیہ کو اُن کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے اور اُنھیں جنت الفردوس میں اعلا مقام نصیب فرما۔
اے ربِ کریم! ہمیں اپنے اساتذہ کا ادب و احترام کرنے والا بنا، اُن کی نصیحتوں پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرما اور ہم سب کو علمِ نافع، عملِ صالح اور حسنِ اخلاق سے آراستہ فرما،آمین یا رب العالمین……!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے