دودھ بنکوں کا تصور جدید دور میں ماں کے دودھ کی فراہمی کو یقینی بنانے کے لیے پیش کیا گیا ہے، خصوصاً اُن بچوں کے لیے جن کی مائیں کسی وجہ سے اُنھیں دودھ نہیں پلاسکتیں۔ یہ نظریہ بہ ظاہر انسانی فلاح و بہبود کے لیے ہے، لیکن اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اس کے کئی نازک پہلو بھی ہیں، جو اہمیت کے حامل ہیں۔
غفران تاجک کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/ghufran/
٭ اسلامی نظریہ:
رضاعت اور رشتہ:۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، رضاعت یعنی دودھ پلانے سے بھی وہی رشتہ قائم ہوتا ہے جو نسبی رشتہ ہوتا ہے…… یعنی جو بچے کسی ایک عورت کا دودھ پیتے ہیں، وہ ایک دوسرے کے رضاعی بہن بھائی بن جاتے ہیں اور اُن کے درمیان نکاح حرام ہو جاتا ہے۔
٭ دودھ بنک، ایک متنازع معاملہ:۔ دودھ بنک کا تصور اسلامی نظریہ سے کئی مسائل پیدا کرتا ہے، جیسے
نامعلوم رشتے:۔ جب مختلف ماؤں کا دودھ مختلف بچوں کو پلایا جائے گا اور اُن کا ریکارڈ محفوظ نہ کیا جائے گا، تو یہ معلوم کرنا مشکل ہو جائے گا کہ کون سا بچہ کس ماں کا دودھ پی رہا ہے۔ اس سے رضاعی رشتوں کا تعین ناممکن ہو جاتا ہے۔
رضاعی رشتہ کی اہمیت:۔ اسلامی شریعت میں رضاعی رشتہ اتنا ہی اہم ہے، جتنا نسبی رشتہ۔ اس لیے رضاعی بہن بھائیوں کے درمیان شادی کو حرام قرار دیا گیا ہے۔ دودھ بنک کے نظام سے یہ حکم نظر انداز ہو جاتا ہے، جو ایک بڑا مذہبی اور اخلاقی مسئلہ بن سکتا ہے۔
٭ اخلاقی و مذہبی نتائج:
حرام شادی کا خطرہ:۔ جیسا بیان کیا گیا کہ اگر 10 ہزار عورتوں کا دودھ 10 ہزار بچوں کو پلایا جائے اور اُن میں سے کچھ آپس میں شادی کرلیں، تو یہ اسلامی نقطۂ نظر سے حرام ہوگا۔ یہ صورتِ حال نہ صرف مذہبی قوانین کی خلاف ورزی ہوگی، بلکہ معاشرتی بگاڑ کا بھی سبب بنے گی۔
دیگر متعلقہ مضامین:
حقوقِ انسانی قرآن و حدیث کی روشنی میں 
نبی اور رسول کا فرق  
قرآن میں سائنسی حقائق 
امام مسجد صاحب کے نام کھلا خط
والدین کی ذمے داری:۔ والدین پر ذمے داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت اور اخلاقی حدود کے بارے میں آگاہ رہیں۔ اگر وہ اس مسئلے کو نظر انداز کرتے ہیں، تو اس کے نتائج گناہ کے طور پر والدین پر بھی عائد ہو سکتے ہیں۔ دودھ بنک کا نظریہ بہ ظاہر ایک مفید اور انسانی خدمت ہے، لیکن اسلامی تعلیمات کے تناظر میں اس کے کئی منفی پہلو ہیں، جنھیں نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے اخلاقی اور مذہبی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے، مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اس معاملے پر غور و فکر کریں اور اسلامی تعلیمات کے مطابق حل تلاش کریں۔ ان مسائل کے پیشِ نظر، مسلم معاشرے کو چاہیے کہ وہ دودھ بنک کے متبادل طریقے تلاش کریں جو شرعی اُصولوں کے مطابق ہوں۔
اسلامی تعلیمات کے مطابق رضاعی رشتے کی پیچیدگی سے بچنے کے لیے دودھ بنک کے متبادل طریقے تلاش کرنا ضروری ہے۔ کچھ ممکنہ متبادل طریقے میری نظر میں یہ ہو سکتے ہیں:
٭ خاندانی یا واقفیت کے تحت دودھ پلانا:۔ یہ طریقہ اسلامی تعلیمات کے مطابق اور سب سے محفوظ ہے۔ اس میں مائیں اپنے قریبی رشتہ داروں یا دوستوں کے بچوں کو دودھ پلانے کا انتظام کرسکتی ہیں، جس سے رضاعی رشتے کی وضاحت اور نگرانی آسان ہوتی ہے۔
٭ رضاعی ماں کا تعین اور ریکارڈ کیپنگ:۔ اگر کوئی ماں کسی اجنبی بچے کو دودھ پلانا چاہے، تو رضاعی ماں کا باقاعدہ تعین اور ریکارڈ رکھنا ضروری ہے۔ اس سے بچوں کے رضاعی رشتے کی نشان دہی ممکن ہو جائے گی اور مستقبل میں نکاح کے مسائل سے بچا جا سکے گا۔
٭ ڈائریکٹ دودھ شیئرنگ نیٹ ورکس:۔ آن لائن پلیٹ فارمز یا کمیونٹی گروپس کے ذریعے ماں کا دودھ شیئر کرنے کا انتظام کیا جا سکتا ہے، جہاں ہر رضاعی ماں اور بچے کا ریکارڈ باقاعدگی سے رکھا جائے اور رضاعی رشتے کی نگرانی کی جائے۔
٭ دودھ کا عطیہ دینے والی ماؤں کی تربیت:۔ ماؤں کو اسلامی تعلیمات اور رضاعت کے اُصولوں کے بارے میں آگاہی دینا ضروری ہے، تاکہ وہ رضاعی رشتوں کی اہمیت کو سمجھ سکیں اور اسی حساب سے دودھ کا عطیہ دے سکیں۔
٭ ماں کا دودھ محفوظ کرنے کا انفرادی نظام:۔ ماں کا دودھ محفوظ کرنے کے لیے گھر میں موجود فریزر کا استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسے اپنے بچوں یا قریبی رشتہ داروں کے بچوں کو دیا جاسکتا ہے۔ اس سے دودھ بنک کی ضرورت کم ہوجائے گی اور اسلامی اصولوں کی پیروی آسان ہو جائے گی۔
٭ مخیر حضرات کی شراکت:۔ مخیر حضرات اور تنظیمیں ایسی ماؤں کی مالی معاونت کر سکتی ہیں جو کسی بھی وجہ سے اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاسکتیں، تاکہ وہ اپنے بچوں کو مناسب غذائیت فراہم کرسکیں۔
٭ اسلامی تعلیمات پر مبنی دودھ بنک:۔ اگر دودھ بنک کا قیام ناگزیر ہو، تو اسے اسلامی تعلیمات کے مطابق چلایا جاسکتا ہے۔ اس میں ہر رضاعی ماں اور بچے کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے، اور شفافیت کے ساتھ رضاعی رشتے کی نگرانی کی جائے۔
٭ متبادل غذائیت کے ذرائع:۔ ماؤں کو اپنے بچوں کے لیے متبادل غذائیت کے ذرائع جیسے ’’فارمولا ملک‘‘ استعمال کرنے کی ترغیب دی جا سکتی ہے، تاکہ رضاعی رشتے کے مسائل سے بچا جاسکے۔
ان متبادل طریقوں کے ذریعے دودھ بنک کے مسائل سے بچا جاسکتا ہے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق رضاعی رشتے کی اہمیت برقرار رکھی جاسکتی ہے۔ اس سے نہ صرف دینی اصولوں کی پاس داری ہوگی، بل کہ معاشرتی بگاڑ اور حرام شادی جیسے مسائل سے بھی محفوظ رہا جاسکے گا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔