پاکستان میں ذاتی مفادات کے لیے ایسے قانون اور قاعدے وضع کیے یا بنائے جاتے ہیں کہ جنھیں کسی بھی وقت سیاسی مخالفین کو بلیک میل کرنے اور انھیں دباو میں رکھنے کے لیے استعمال کیا جاسکے۔ حکم ران ان قوانین کے تحت اپنے حریفوں کو ہراساں کرنے اور اُن کے خلاف بے جا مقدمات بناتے ہیں۔ اِن قوانین کے ذریعے سیاسی مخالفین کو تو عدالتوں کے چکر میں پھنسائے رکھا جاتا ہے، مگر افسوس کہ قایم کیے گئے مقدمات میں کسی پر آج تک کوئی جرم ثابت نہ ہوسکا اور ملزمان بری ہوتے گئے۔
فضل منان بازدا کی دیگر تحاریر کے لیے لنک پر کلک کیجیے:
https://lafzuna.com/author/fazal-manan-bazda/page/3/
ایک بدقسمتی یہ بھی ہے کہ احتساب کرنے والے ادارے حکم رانوں کے کارندے بن جاتے ہیں۔ حاکمِ وقت انھیں جو بھی حکم دیتے ہیں، وہ اُن حکامات پر بلا چوں و چرا عمل در آمد کرتے ہیں۔
پاکستانی سیاست میں ذاتی مفادات کی تکمیل کی خاطر یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے اور شاید آیندہ بھی جاری رہے گا۔ یکم جولائی 2019 ء کو انٹی نارکاٹکس کنٹرول فورس نے موجودہ وفاقی وزیرِ داخلہ رانا ثناء اللہ کو گرفتار کرتے ہوئے دعوا کیا تھا کہ گرفتاری کے وقت رانا ثناء اللہ سے 15 کلو منشیات برآمد ہوئی۔ لاہور ہائی کورٹ نے 24 دسمبر 2019 ء کو رانا ثناء اللہ کی بعد از گرفتاری ضمانت منظور کرتے ہوئے انھیں رہا کرنے کا حکم دیا تھا۔ اس طرح رانا ثناء اللہ چھے ماہ قید و بند کی سختیاں برداشت کرکے رہا ہوئے جب کہ اسی مقدمے میں رانا ثناء اللہ پر آج تک فردِ جرم بھی عاید نہیں کی گئی۔
رانا ثناء اللہ کی گرفتاری پر اُس وقت انسدادِ منشیات فورس کے ڈائریکٹر جنرل ’’میجرل جنرل عارف ملک‘‘ اور وزیرِ مملکت برائے داخلہ شہر یار آفریدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ رانا ثناء اللہ کے خلاف اُن کے پاس ویڈیوز اور تمام ثبوت موجود ہیں۔ گواہیاں بھی مکمل ہوچکی ہیں۔ انھیں جلد عدالت میں پیش کیا جائے گا۔ دونوں نے رانا ثناء اللہ کو کسی بین الاقوامی گروہ کے کارندے کے طور پر پیش کیا۔
وزیرِ مملکت شہر یار آفریدی پریس کانفرنسوں اور اسمبلی فلور پر کہا کرتے تھے کہ ’’جان اللہ کو دینی ہے۔ اس لیے جو کچھ کَہ رہا ہوں، سچ کَہ رہا ہوں۔‘‘
ہفتے کے روز انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت میں رانا ثناء اللہ نے پیش ہوکر اپنی بریت کی درخواست دایر کردی۔ پراسیکوٹر نے عدالت کو بتایا کہ مقدمہ کے دو گواہان اپنے اپنے بیانات سے منحرف ہوچکے ہیں، جس پر رانا ثناء اللہ کے وکیل نے کہا کہ جب دو گواہان منحرف ہوچکے، تو مقدمہ آگے نہیں چل سکتا۔ انسدادِ منشیات فورس کے انسپکٹر احسان عظیم اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر امتیاز چیمہ نے انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت میں بیان حلفی جمع کرتے ہوئے کہا کہ رانا ثناء اللہ سے منشیات کی برآمدگی کا واقعہ اُن کے سامنے پیش نہیں آیا، جب کہ این اے ایف نے انھیں از خود گواہ نام زد کیا تھا۔ دونوں جانب سے دلایل سننے کے بعد عدالت نے رانا ثناء اللہ اور دیگر شریک ملزمان کو باعزت بری کرنے کے احکامات جاری کر دیے۔
اب سوال اٹھتا ہے کہ جب رانا ثناء اللہ اور دیگر ملزمان نے کوئی جرم نہیں کیا تھا، تو اُنھیں چھے ماہ تک جیل میں رکھنے کا ذمے دار کون ہے…… اور اُن کے خلاف جھوٹا مقدمہ کیوں کر بنایا گیا؟ رانا ثناء اللہ اور اُن کے دیگر شریک ملزمان کے خلاف مقدمہ اگر جھوٹ پر مبنی تھا، تو عدالت کو چاہیے تھا کہ انسدادِ منشیات کے ڈائریکٹر میجر جنرل عارف ملک، سابق وزیرِ مملکت شہر یار آفریدی اور محکمہ کے دیگر اہل کاروں کے خلاف آئین و قانون سے مذاق کرنے پر مقدمات درج کرنے کا حکم دیتی۔ ان مقدمات کی سماعت انسدادِ منشیات کی خصوصی عدالت ہی کرتی اور سیاسی مخالفین کو بے جا تنگ کرنے اور جھوٹا مقدمے بنانے پر عمر قید کی سزا اور کسی بھی سرکاری عہدے کے لیے نااہل قرار دیتی۔
کم خود اعتمادی یا پھر احساسِ حق داریت؟:
https://lafzuna.com/blog/s-30440/
مقدمے کی سماعت میں یہ بھی طے کیا جانا چاہیے تھا کہ جھوٹ کا یہ مقدمہ کس کے ایما پر بنایا گیا تھا؟ اُنھیں بھی شریکِ جرم قرار دے کر سزا دی جاتی۔
حکم ران ہمیشہ سے انٹی کرپشن، ایف آئی اے، قومی احتساب بیورو اور دیگر سرکاری اداروں کو اپنے ہرکارے کے طور پر استعمال کرتے چلے آ رہے ہیں۔ برسرِ اقتدار پارٹی اِن اداروں کے اہل کاروں کو سیاسی مخالفین کے پیچھے لگا کر ہراساں کرتے ہیں۔ اُن کے خلاف جھوٹے مقدے بنائے جاتے ہیں، مگر آج تک ان مقدمات کو منطقی انجام تک نہیں پہنچایا گیا اور نئی حکومت کے آنے پر سب مقامات ایک ایک کرکے ختم کردیے جاتے ہیں۔
طُرفہ تماشا یہ ہے کہ حکم ران اپنے مخالفین کو دباو میں رکھنے کے لیے جو بھی قوانین بناتے ہیں، تو کل کو وہ خود اُن قوانین کی زد میں آکر روتے ہیں کہ اُن کے خلاف انتقامی کارروائیاں ہو رہی ہیں، مگر اُن کو اپنی کارستانیاں یاد نہیں رہتیں کہ انھوں نے اپنے وقت کے حزبِ اختلاف کے سیاسی رہنماؤں کے ساتھ کیا کیا تھا؟
سافٹ وئیر انجینئرنگ کیوں ضروری ہے؟:
https://lafzuna.com/blog/s-30345/
ایک چھوٹی سی عرضی ہے کہ سیاسی رہنماؤں کو ہوش کے ناخن لیتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف جھوٹے مقدمات بنانے سے گریز کرنا چاہیے، تاکہ ملک ترقی کی راہ پر گام زن ہوسکے۔ بصورتِ دیگر ان کے ہاتھ کچھ نہیں آنے والا۔ اس طرح قوم کا کیا ہے…… وہ تو ویسے بھی ہر وقت خسارے میں رہتی ہے۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔