سید علی ترمذی رحمہ اللہ علیہ المعروف پیر بابا کا دربارِ پُرانوار ضلع بونیر میں پاچا کلے کے مقام پر واقع ہے۔ سوات کے رستے کڑاکڑ پاس کو کراس کرکے وہاں تک پہنچا جا سکتا ہے۔ کڑاکڑ پاس سوات اور بونیر کے مشکل ترین دروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ بٹ خیلہ مینگورہ والی جرنیلی روڈ پر بری کوٹ سے فقط 18 کلومیٹر پہلے ایک رستہ دائیں طرف کو نکلتا ہے، جو ناواگئی سے ہوتا ہوا کڑاکڑ پاس کی طرف جاتا ہے۔
کوہ ہندوکش کے دامن میں سرسبز پہاڑوں کے اندر تہہ در تہہ اُٹھتے حصار کے بیچوں بیچ ایک شان دار سڑک اس حصار کو توڑ کر اوپر سے اوپر اٹھتی جاتی ہے اور پھر اسے کراس کر کے سواڑی (بونیر)کی جانب اُتر جاتی ہے۔ یہ علاقہ کڑاکڑ پاس کہلاتا ہے…… جو سوات اور بونیر کا سنگم ہے۔ راستے میں سڑک کے دونوں اطراف سرسبز کھیتوں کی بہار ہے۔ مکئی، آلو، گندم ،سبزیات، پھول اور پھل دار درختوں کے باغات ہیں…… جن کے بیچوں بیچ تاحد نظر پھیلی آبادی ہے۔ یہ بہت خوب صورت پاس ہے۔ جب اس کی بل کھاتی اور مسلسل بلند ہوتی سڑک لش گرین کھیتوں میں سے اٹھتی جاتی تہہ در تہہ پھیلے حصار کو چیرتی بلند سے بلند تر ہوتی جاتی ہے، تو ارد گرد تا حدِ نظر تک پھیلے سبزے اور جنگلات کے طلسماتی ماحول سے گزرتے ہوئے ایک سحر سا طاری ہو جاتا ہے۔ ٹھنڈی میٹھی تازہ ہوا سے روح سرشار اور دل شاد ہو جاتا ہے۔ بندہ اس روح پرور نظارے میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔ یوں لگتا ہے کہ ہم اُڑن کھٹولے پر بیٹھے کسی دنیاوی جنت کی سیر کرتے اُڑتے پھر رہے ہوں۔
ضلع بونیر میں پاچا کلے کے مقام پر سید علی ترمذی رحمہ اللہ علیہ کا مزار شریف ہے، جو اپنے لقب پیر بابا کے نام سے معروف ہیں۔ ہم وہاں تک کڑاکڑ پاس کو کراس کرتے، سواڑی، جوڑ اور چڑکنڈاؤ سے ہوتے ہوئے پہنچے۔ سارا رستہ بڑا مزے دار اور دلچسپ تھا۔ خوب صورت سرسبز پہاڑ، گنگناتی آبشاریں جن میں زیادہ تعداد سیزنل آبشاروں کی تھی، تاحدِ نظر پھیلے سرسبز کھیت کھلیان، جنگل، ندیاں اور ان میں جگہ جگہ بکھری آبادیاں تھیں۔ پتھروں کی کانٹ چھانٹ کرکے ان میں سے مرمر اور دوسرے قیمتی پتھروں کی ٹائلیں بنائی جا رہی تھیں۔ یہاں پہاڑ چوں کہ ایک دوسرے سے دور چلے گئے تھے، لہٰذا ان کے درمیان میں سرسبز چراگاہیں اور خوب صورت وادیاں ابھر آئی تھیں۔ سارے علاقہ انسانی آبادی سے اَٹا ہوا ہے۔ ہمیں سارا رستہ بہترین قسم کی میٹلڈ روڈ ملی۔ بلکہ بونیر میں ہم جدھر کو بھی گئے، ہمیں بہترین سڑکیں سفر کرنے کے لیے ملیں۔ اگر ان کا موازنہ پنجاب کی موجودہ خستہ حال سڑکوں سے کریں، تو وہ ان سے سو درجے بہتر نظر آئیں۔ پشتو چوں کہ یہاں کی مقامی زبان ہے، لہٰذا ہمیں زیادہ تر پشتو بولنے والے لوگ ملے۔ اُردو بولنے اور سمجھنے والے لوگ خال خال ہی تھے، مگر تھے سب کے سب عزت و احترام سے پیش آنے والے اور بہت ’’کوآپریٹو‘‘۔
بہت کم ٹورسٹ اس سارے علاقے میں ملے جن کی تعداد نہ ہونے کے برابر تھی۔ پاچا کلے میں دربار پیر بابا کے گرد کچھ سکھ سیاح بھی نظر آئے…… جو میرے لیے تھوڑا حیران کن تھا، مگر شاید یہ سیاح سے زیادہ بابا کی محبت اور عقیدت میں یہاں تک کھنچے چلے آنے والے زایرین تھے۔
مجھے اب بھی اچھی طرح یاد ہے کہ جب میں پہلی بار سنہ 1985-86ء میں سوات گیا تھا۔ مینگورہ میں ہم کسی ہوٹل میں رُکے ہوئے تھے ۔ اس وقت بونیر ضلع سوات کا حصہ ہوا کرتا تھا اور انھی دنوں سوات میں پیر بابا کا میلہ لگا ہوا تھا۔ سارے لوگ میلے کی خوشی میں بہت خوش خوش اور بن ٹھن کے گھوم پھر رہے تھے۔ کئی لوگوں نے موٹر سائیکلوں پر کیسٹس پلیئر والے بڑے بڑے ڈیک فٹ کروا رکھے تھے…… جن پر اُونچی آواز میں نعت شریف اور حمدیہ قوالیاں چل رہی تھیں۔ وہ ان قوالیوں کی موسیقیت، لے اور آواز کی مستی میں گم ہو کر جھومتے جھولتے میلے کی جانب ٹولیوں کی شکل میں رواں دواں تھے۔ مجھے اُسی وقت سے پیر بابا کے مزار پر جانے کا بہت اشتیاق تھا…… مگر بوجوہ وہاں تک نہ جا سکا تھا۔ مجھے تھوڑا یاد ہے کہ وہ لوگ مرغزار روڈ پر اوپر کی جانب کسی طرف سے آ جا رہے تھے۔ اللہ کریم نے میری یہ دیرینہ خواہش بھی پوری کر دی…… اور اب میں پیر بابا کے مزار تک پہنچ گیا۔ مینگورہ سے واپسی پر ہم نے کڑاکڑ پاس والا راستہ اختیار کیا، جس کے لیے میں بورے والا ٹریکرز گروپ کے اپنے سی ای اُو ڈاکٹر شاہد اقبال صاحب کا بہت شکر گزار ہوں…… جنہوں نے سوات سے واپسی کے لیے اس راستے کا انتخاب کیا۔
کسی بھی سفر میں واپسی کا راستہ مختلف ہو، تو سفر کی دلچسپی دوگنا ہو جاتی ہے۔ جاتے ہوئے جو جو شہر اور مناظر آپ دیکھ چکے ہوتے ہیں۔ واپسی پر اس سے مختلف شہر اور مناظر آپ کو دیکھنے کے لیے ملتے ہیں۔ اس طرح سفر میں دلچسپی برقرار رہتی ہے۔ اسی رستے پر چل کر انھی شہروں اور انہی مناظر کو دیکھ دیکھ کر بوریت کا احساس نہیں ہوتا۔
پاچا کلے میں گاڑیوں کی پارکنگ کے لیے یہاں پر کئی ایک پارکنگ ایریاز بنے ہوئے تھے…… جن میں سے ایک پارکنگ ایریا میں گاڑی پارک کرکے ہم ایک نالے کے ساتھ ساتھ چلتے مزار شریف کی جانب بڑھے، جو وہاں سے کوئی زیادہ دور نہ تھا۔ کوئی چار پانچ سو گز کی پیدل واک ہوگا۔ راستے میں دونوں جانب مزاروں کے پاس بنی روایتی دکانیں اور ہوٹل تھے جن پر پھلیاں مکھانے، ڈرائی فروٹس، کھلونے ، سویٹس، امبرائیڈری، چوڑیاں، کچھ روایتی کھانے اور برتن وغیرہ کی مختلف قسم کی شاپس تھیں۔ دربار کے احاطے میں داخل ہونے کے لیے دو دروازے تھے۔ ہم مین دروازے کے گیٹ سے مزار کے احاطے میں داخل ہوئے…… جو زیادہ تر ہرے پیلے نیلے اور سنہری رنگ میں رنگا ہوا تھا۔ دیکھنے میں بڑا جاذبِ نظر تھا…… جس کے دونوں کونوں پر دو عدد چھوٹے مینار بھی بنائے گئے تھے۔ سامنے بنے حوض کنارے چنار کے بڑے بڑے اور بہت پرانے درختوں کے نیچے کچھ لوگ لیٹے ہوئے تھے…… جن میں زیادہ تعداد عمر رسیدہ لوگوں کی تھی۔ بائیں ہاتھ کی طرف ایک چمکتی لشکتی سفیدی میں نہائی شان دار جامع مسجد تھی، جس کے بلند مینار بھی سفیدی میں ڈوبے خوب صورت دعوتِ نظارہ دے رہے تھے۔ دروازوں پر ہرا رنگ چڑھایا گیا تھا۔ جب کہ دونوں اطراف والے بڑے میناروں پر کچھ حصے پر سنہری رنگ بھی کیا گیا تھا۔عین سامنے ایک دو منزلہ مدرسہ تھا۔ دربار کا لنگر خانہ دائیں طرف جب کہ مدرسے کے بائیں جانب سے ایک اوپر کو اٹھتا جاتا ہرے رنگ میں رنگا رستہ تھا جو مزار شریف کی طرف جاتا تھا۔
سید علی ترمذی کی پیدایش سنہ 908 ہجری بمطابق 1500 عیسوی میں افغانستان کے صوبے قندوز میں ہوئی۔ جس کا پرانا نام ترمذ تھا۔ والدِ محترم کا نام گرامی سید قنبر علی شاہ تھا۔ آپ نے اپنے دادا حضور سید احمد نور سے دینی تعلیم سیکھنے کا آغاز کیا اور پھر سلسلۂ تصوف کے چاروں خانوادوں سلسلہ کبرویہ، علاجیہ، ناجیہ اور قادریہ سے فیض حاصل کیا۔ ان کا سلسلۂ نسب 32 واسطوں سے ہوتا ہوا حضرت امام حسینؓ تک جا پہنچتا ہے۔ انھیں شہنشاہِ خراساں بھی کہا جاتا ہے۔
حصولِ علم و عرفاں کی تڑپ انھیں کہاں کہاں نہ لے کر گئی۔ اس دور میں زیادہ تر اسفار پیدل یا گھوڑے کی پیٹھ پر بیٹھ کر کیے جاتے تھے…… جو کہ آج کے ترقی یافتہ دور کے مقابلے میں بہت جان جوکھوں والا کام تھا، مگر جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ سچے اور سُچے جذبہ و جنوں کے آگے ایسی مشکلات کچھ معنی نہیں رکھتیں۔
سنہ 1524ء میں وہ اپنے والد محترم کے ساتھ برِصغیر تشریف لائے۔ پانی پت میں حضرت بو علی قلندر رحمہ اللہ علیہ کے مزارِ اقدس پر حاضری دی اور وہاں کچھ عرصہ قیام کیا۔ علم و عرفاں اور آگہی کی تلاش میں وہ نانک پور میں شیخ سلونہ رحمہ اللہ علیہ کے پاس جا پہنچے اور باطنی علم کے حصول کی خاطر دن رات ایک کر دیا۔ تشنگی اب بھی برقرار تھی۔ روح کی بالیدگی اور نفسِ لوامہ کی پاکیزگی کی کسک اب بھی باقی تھی جسے دور کرنے اور باطنی علم کے حصول کی خواہش کو پورا کرنے کے لیے وہ خواجہ معین الدین چشتی اجمیری رح کے دربارِ پُرانوار پر اجمیر شریف جا پہنچے۔ جہاں انھیں نہ صرف باطنی علم کی روشنی عطا ہوئی بلکہ منبع جود و سخا کے فیوض و برکات کے بہتے چشمے سے فیض یاب بھی ہوئے۔
تربیت کی تکمیل اور علم و آگہی کا عرفان پانے کے بعد واپسی کا اِذن ملا۔ تو کوہستان، ہزارہ، پنجاب اور کشمیر کے علاقوں سے ہوتے ہوے بالآخر 960 ہجری میں بونیر پہنچے، اور وہیں پر مستقل بسیرا کیا۔
چوں کہ وہ رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے عشق میں ڈوبے، اللہ پاک کے ایک تربیت یافتہ مردِ قلندر و مردِ حق تھے۔ آپ نے دینِ اسلام کی سر بلندی کے لیے دن رات ایک کر دیا اور معاشرے میں اس وقت رایج فرسودہ رسومات کے خلاف علمِ جہاد بلند کیا۔ لوگ جوق در جوق ان کے حلقۂ ادارت میں داخل ہوتے گئے…… اور وہ انھیں درست اسلامی شعایر کی تعلیم و تربیت عطا کرتے رہے۔
ان کا سیکڑوں سال قبل جاری ہونے والا دینی و روحانی مشن آج بھی جاری ہے…… بلکہ ان کے سلسلہ اولاد نے اسے مزید بڑھایا ہے۔ اس سلسلے میں دربار کے احاطے سے متصل ایک شان دار جامع مسجد اور مدرسہ کی تعمیر کی گئی ہے…… جس میں سیکڑوں طلبہ و طالبات دینی علوم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ مشرقی جانب ایک لنگرخانہ بنایا گیا ہے…… جس میں اس خانوادے کے مریدین اور پورے علاقے کے اہلِ ثروت احباب اپنے نذرانے جمع کرواتے ہیں۔ اس سے مدرسے کے طلبہ اور عام لوگوں کے لیے یہ لنگر خانہ دو وقت کی روٹی فراہم کر رہا ہے ۔
آپ نے 991 ہجری بمطابق 1583ء وفات پائی۔
ہر سال رجب المرجب کے آخری ہفتے میں دو دن کے لیے ان کے عرس مبارک کی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں…… جہاں پر بونیر، سوات بلکہ پورے پاکستان سے لوگ جوق در جوق آ کر ان تقاریب میں شامل ہوتے ہیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔