سائکاٹرسٹ ’’بیسل وین ڈر کولک‘‘ نے "Body Keeps the Score” نامی ایک کتاب شایع کی جو ٹروما سے گزرنے والوں کے لیے بائبل کی حیثیت رکھتی ہے۔
کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ انسانی جسم اپنے ساتھ رونما ہونے والے ہر حادثہ یا اچھی یاد کا ’’اسکور‘‘ سنبھال کر رکھتا ہے۔ ہماری میموری سے بے شک حادثہ دھندلا ہوجائے یا ختم ہوجائے…… لیکن باڈی اس کا ریکارڈ ہمیشہ رکھتی ہے…… ’’سنسے شنز‘‘ (Sensations) یا اکثر بیماری کی شکل میں۔
سائنس کے مطابق باڈی اور مائنڈ کا تال میل بہت گہرا ہے۔ اگر آپ اپنا ’’مائنڈ سیٹ‘‘ بدلنا چاہتے ہیں، تو یہاں توجہ کا مرکز محض دماغ نہیں رہے گا…… بلکہ آپ کو اپنی باڈی کو بھی دماغ کے ساتھ سیم پیج پر لانا ہوگا۔ دونوں کا تعاون ضروری ہے۔
’’یوگا‘‘ (Yoga) ایجاد کرنے والوں نے بھی اسی ’’مائنڈباڈی کنکشن‘‘ کو مدِنظر رکھ کر اس ورزش کو ڈیزائن کیا ہے، جس میں اہم کردار "Breathing” کا بھی ہے۔
جو بھی فزیکل ایکسرسائز ہم جم وغیرہ میں کرتے ہیں، وہ صرف باڈی کو انگیج کرتی ہیں۔ ان ایکسرسائزز کے دوران میں مائنڈ کوکنکٹ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی…… یہی ’’مائنڈ باڈی کنکشن‘‘ یوگا کو باقی ایکسرسائز سے مختلف بناتا ہے۔
اس مائنڈ باڈی کنکشن کو بحال کرنے یا خراب ہونے پر دوبارہ سے جوڑنے میں مدد دینے میں ’’چکرا یوگا‘‘ (Chakra Yoga) کا کوئی ثانی نہیں۔ مغرب میں سب سے زیادہ مقبولیت پانے والا یوگا ’’چکرا یوگا‘‘ ہی ہے…… جس پر بیش بہا کتابیں لکھی گئی ہیں۔
بچپن میں والدین کی بے جا تنقید یا زندگی کے کسی بھی موڑ پر کوئی حادثہ ہمارے ذہن ہی نہیں بلکہ باڈی پر بھی اپنے اثرات چھوڑ جاتا ہے۔ مثال کے طور پر اعتماد (Confidence) نہ ہونے پر کندھوں کا جھکا ہوا ہونا…… یا پھر بے پناہ نالج ہونے پربھی گفتگو میں روانی نہ ہونا…… اسٹریس ہارمونز کا مختلف بیماریوں کو جنم دینا اور ابیوز سے ملنے والا ٹروما آپ کو دماغی ہی نہیں بلکہ جسمانی طور پر بھی تکلیف دیتا ہے۔
ہماری باڈی میں سات انرجی پوائنٹ (Root, Sacral, Solar Plexus, Heart, Throat, Third Eye, Crown) ہوتے ہیں۔ ان انرجی پوائنٹس کو شعوری طور پر ایکٹیویٹ اور بیلنس کرنے کا عمل ’’چکرا یوگا‘‘ کہلاتا ہے۔
چکرا یوگا میں توجہ کا مرکز ریڑھ کی ہڈی ہوتا ہے۔ تمام آسن ریڑھ کی ہڈی کے گرد گھومتے ہیں۔
اکثر لوگوں کا ماننا ہے کہ اس قسم کے یوگا سے ایک خاص قسم کی انرجی (Kundalini) ملتی ہے…… جب کہ میرا ماننا اس کے برعکس ہے۔ کوئی بھی انسان اگر ’’میڈی ٹیشن یوگا‘‘ کرے گا۔ صحت بخش کھانا کھائے گا۔ بلا شبہ وہ عام انسانوں سے زیادہ انرجیٹک محسوس کرے گا۔ اسے دوسروں کی نسبت اچھا محسوس ہوگا۔ عموماً لوگ اچھا اور انرجیٹک محسوس کرنے کو کسی خاص قسم کی پُراسرا انرجی سے تشبیہ دینے لگتے ہیں…… جب کہ ایسا ہرگز نہیں۔
بے شک انسان کو پُراسراریت پسند ہے۔ حقیقت کو کبھی پُراسراریت کی بھینٹ نہ چڑھنے دیں…… اور ان سب ایکسرسائزز کو عقیدت سے بالاتر ہوکر محض اچھے لائف اسٹائل کے حصول کے لیے بروئے کار لائیں۔
…………………………………….
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔