65 total views, 2 views today

تحریکِ انصاف کے دورِ حکومت میں پریشانی ہر چہرے سے عیاں ہے، درمیانے اور نچلے درجے کے لوگوں کے لیے جسم و جاں کا رشتہ برقرار رکھنا مشکل ہوچکا، امیر افراد امیر تر اور غریب غریب تر ہو رہے ہیں۔ ملک میں کرپشن کا راج ہے، مہنگائی اپنے عروج پر ہے، روزگار کا حصول مشکل ترین ہوچکا…… اور بظاہر کوئی حکومتی ادارہ ایسا نظر نہیں آتا، جس کی کارکردگی بہترین اور مثالی ہو…… مگر اس کے باوجود حکومتی شخصیات ’’گڈ گورننس‘‘ اور معاشی ترقی کا راگ الاپ رہے ہیں۔
کرپشن کا عالمگیر جایزہ لینے والے ادارے ’’ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل‘‘ نے بھی کرپشن سے متعلق سی ’’پی آئی انڈیکس رپورٹ 2021ء‘‘ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان میں کرپشن میں اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کرپشن کے بارے میں عالمی رینکنگ میں 140ویں نمبر پر آگیا ہے۔
گذشتہ سال ’’کرپشن پرسیپشن انڈیکس‘‘ میں پاکستان کا نمبر 124واں تھا۔ 2018ء میں موجودہ حکومت نے جب اقتدار سنبھالا۔ اس وقت پاکستان کا ’’کرپشن انڈیکس‘‘ میں 117واں نمبر تھا۔ 2019ء میں پاکستان درجہ بندی میں 120ویں نمبر پر تھا۔ 2020ء میں 124 ویں اور اب 2022ء میں 140 ویں نمبر پر آنا اس بات کا اشارہ ہے کہ موجودہ دور حکومت میں پاکستان کی 23 درجے تنزلی ہوئی ہے۔
آج وزیرِ اعظم عمران خان تواتر کے ساتھ یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان ٹریک پر واپس آگیا ہے۔ کرپٹ مافیا کا احتساب اور طاقت ور کو قانون کے تابع کیا جا رہا ہے۔ ان کا یہ دعوا عوامِ پاکستان تسلیم کرتے اگر وہ اپنے سہ سالہ دورِ حکومت میں کسی بھی مافیا کا احتساب کرنے میں کامیاب ہوتے…… لیکن بدقسمتی سے ان ہی کے دورِ حکومت میں چینی اور آٹے کا بحران سامنے آیا۔ مہنگائی نے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ بے روزگاری نے غریب پاکستانیوں کا جینا دوبھر کردیا۔ کرپٹ مافیا کے احتساب کی دعوے دار پاکستان تحریکِ انصاف کی حکومت میں وزیراعظم کے کورونا پیکیج پر اربوں روپے کے اخراجات کا ’’آڈیٹر جنرل آف پاکستان‘‘ نے آڈٹ کیا، تو پتا چلا کہ ان اخراجات میں چالیس ارب روپے کی بدعنوانی پائی گئی ۔
پی ٹی آئی کے سہ سالہ دورِ اقتدار میں یہ معلوم ہوا کہ آیل مافیا، چینی مافیا، گندم مافیا کے خلاف کوئی طاقت کارروائی نہیں کرسکتی۔ آج بھی پاکستان کا نظام ایسا معلوم ہوتا ہے کہ طاقت ور مافیا پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ملک کی بڑی جماعتوں، برسرِ اقتدار شخصیات اور مافیاز میں قریبی تعلق ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے ملک میں کرپشن آج بھی عروج پر ہے…… بلکہ بدعنوان عناصر، مافیا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ ہمارے ملک کے سرکاری اداروں میں محض بورڈ پر ضرور لکھا ہوتا ہے”Say no to corruption” مگر یہاں کسی کام کا بہ حسن و خوبی انجام پانا بغیر رشوت دیے قطعاً ممکن نہیں۔
ہر سرکاری دفتر کے باہر کچھ لوگ بیٹھے ہوتے ہیں…… جو اس دفتر کے ماحول اور مشکلات کو حل کرنے کا فن جانتے ہیں…… جب کہ بدعنوانی کے بڑھتے ہوئے اس ناسور کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ اب لوگ بدعنوانی کے مرتکب ہو کر بھی شرمندگی محسوس نہیں کرتے…… بلکہ اس پر فخر کرتے ہیں۔ اسے اپنی عقل مندی، عیاری، چالاکی، ذہانت اور ہنر سمجھتے ہیں۔ وسایل کی غیر منصفانہ تقسیم اور اختیارات کے ناجایز استعمال نے سماجی اور معاشرتی اسٹرکچر کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے…… اور انسانی و مذہبی اقدار کو پامال کرکے رکھ دیا ہے۔ کرپشن سے بھرپور تھانہ کلچر، حکومتی اداروں میں کرپشن کا راج، حصول انصاف کا کم زور نظام، مصلحتوں اور بدعنوان افسران کی وجہ سے عوام میں بے بسی اور بے اختیاری کا احساس بڑھتا جا رہا ہے۔
عوام میں عدمِ اطمینان کے باعث، حکومتی و سرکاری اور عدالتی اداروں پر ان کے اعتماد میں کمی واقع ہو رہی ہے…… جب کہ ملک میں موجود انسدادِ بدعنوانی کے محکموں کی مایوس کن کارکردگی اور ان سے استفادے کا پیچیدہ اور سست رو طریقۂ کار، سرکاری اداروں میں کرپشن کا باعث بن رہا ہے۔
اس وقت صورتِ حال یہ ہے کہ بنیادی سرکاری ادارے مثلاً بجلی، سوئی گیس، شہری ترقی کے ادارے، میونسپل کمیٹیاں، لوکل گورنمنٹ کے دفاتر، سرکاری ادارے کم اور بدعنوانی کی نرسریاں زیادہ دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تعینات معمولی افسران کے بھی اثاثہ جات اور عالی شان طرزِ زندگی دیکھ کر شہری انگشتِ بدنداں رہ جاتے ہیں۔ یہاں برسرِاقتدار رہنے والے حکمرانوں میں سے بھی بعض کلیدی عہدوں پر فایز سیاسی لیڈر کرپشن میں بری طرح ملوث رہے ہیں۔ ان کی کرپشن ملک کا بچہ بچہ جانتا ہے…… مگر کہیں سیاسی مصلحتوں اور کہیں کم زور سسٹم کے باعث یہ افراد کرپشن کے تمام الزامات سے اس طرح بری الذمہ ہوجاتے ہیں…… جیسے دودھ کے دھلے ہوں…… جب کہ یہاں اقتدار پر قابض رہنے والے بدعنوان حکم رانوں کی لوٹ مار اور بندر بانٹ اور قر ضوں کے انبار کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی جا رہی ہے…… اور عام لوگوں کا زندگی گزارنا اجیرن ہوچکا ہے۔ ایک طرف بڑے بڑے عہدوں پر فایز سرکاری افسر اور حکم ران گروہ قومی دولت کی لوٹ مار کے باعث عیش و عشرت میں مگن رہے ہیں اور دوسری طرف غریب اور فاقہ کش لوگ آج بھی خود سوزی اور خودکشی کرنے پر مجبورہیں۔ بدعنوانی کے خاتمے میں موجودہ حکومت کسی قابلِ ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرسکی۔ ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور نیب جیسے ادارے محض روایتی انداز میں کام کر رہے ہیں…… جن پر عوام کو اعتماد نہ ہونے کے برابر ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ان اداروں کو بھی نئے ٹاسک دیے جائیں۔ ان کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے اور ان کی کارکردگی کو تیز تر کیا جائے۔
…………………………………..
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔