وقت بہت تیزی کے ساتھ گزر رہا ہے۔ ہماری زندگی کا ایک اور قیمتی سال 2021ء بھی آخر بیت گیا۔ زندگی میں ہمیں میسر یہ منٹ، یہ گھنٹے، یہ سال مہلت کے ہیں کہ ہم حاصل وقت کی قدر کرتے ہوئے اسے قیمتی بناتے ہیں یا محض غفلت و بے پروائی میں گنوا دیتے ہیں۔
اس سال میں ہم نے کورونا اور دیگر امراض کے باعث اپنے بہت سے پیاروں کو کھو دیا اور دنیا دارِ فانی میں ہمیں بھی ہمیشہ نہیں رہنا۔ میسر ان ایام کی مہلت کے بعد ہر ذی نفس نے موت کا مزہ چکھنا ہے اور آخرت کی طرف کوچ کرنا ہے…… جو مستقل اور ابدی ٹھکانا ہے۔ وقت کی اہمیت اور قدر و قیمت کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالا نے قرآنِ مجید کی بہت سی آیات میں اس کی قسمیں کھائی ہیں۔ سورۃ ا لعصر کی آیت نمبر 2 میں ارشادِ باری تعالا ہے: ’’قسم ہے زمانے کی…… انسان بڑے خسارے میں ہے۔‘‘
دوسری جگہ سورۃ الضحیٰ کی آیت نمبر3 میں ہے:’’ قسم ہے دن کی روشنی کی اور رات کی…… جب کہ وہ قرار پکڑے۔‘‘
اسی طرح سورۃ الفجر میں ارشادِ باری تعالا ہے: ’’ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی۔‘‘
بحیثیتِ مسلمان ہمیں حاصل وقت کو اپنی اصلاح کرنے اور دوسروں کی اصلاح کاذریعہ بننے اور نیکیاں کمانے میں صرف کرنا چاہی۔ کیوں کہ ہم جانتے ہیں کہ دنیاوی زندگی، آخرت کی کھیتی کی مانند ہے۔ ہم آج جو بوئیں گے، آخرت میں وہی کاٹیں گے۔ اگر ہم اپنی زندگی میں حاصل اس وقت کی قدر کرتے ہوئے اسے خیر اور بھلائی کے بیج بونے میں صرف کریں گے، تو کل روزِ قیامت ہمیں فلاح اور بھلائی کا ثمر ملے گا۔ ارشادِ باری تعالا ہے: ’’(ان سے کہا جائے گا) خوب لطف اندوزی کے ساتھ کھاؤاور پیو ان (اعمال) کے بدلے جو تم گذشتہ (زندگی) کے ایام میں آگے بھیج چکے تھے۔‘‘ ( سورۃ الحاقہ)
جب کہ اس کے بر عکس اگر زندگی میں وقت کی قدر نہ کی جائے، اور اسے غفلت، سستی و کاہلی میں گزارتے ہوئے برائی، شر، فتنہ و فساد کی نذر کر دیا جائے، تو ہمارے لیے دونوں جہانوں میں خسارہ ہے۔ غافلوں اور ظالموں کے لیے اللہ تعالا کا ارشاد ہوگا:’’کیا ہم نے تمہیں اتنی عمر نہیں دی تھی کہ اس میں جو شخص نصیحت حاصل کرنا چاہتا، وہ سوچ سکتا تھا۔ اور پھر تمہارے پاس ڈر سنانے والا بھی آ چکا تھا، پس اب عذاب کا مزا چکھو، سو ظالموں کے لیے کوئی مدد گار نہ ہو گا۔‘‘
ہماری گھڑیاں، جن سے سیکنڈ، منٹ، گھنٹے، دن، مہینے اور سال کا حساب لگایا جاتا ہے…… نظامِ شمسی کی بنیاد پر بنائی جاتی ہیں۔ جسے ہم ’’ایک گھنٹا‘‘ کہتے ہیں، وہ اصل میں ہماری دنیا کا اپنے محور پر 15 ڈگری کا چکر کاٹنے کا دوسرا نام ہے۔ جسے ہم ایک سال کہتے ہیں، وہ ہماری دنیا کے سورج کے چاروں طرف ایک پھیرا لگانے کا نام ہے۔ یہ وقت مقررہ معیار سے گزر رہا ہے۔اسلام میں وقت کی اہمیت پر بہت زور دیا گیا ہے۔ جامع ترمذی میں ابوبرزہ اسلمیؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے فرمایا: ’’قیامت کے دن بندہ ( اللہ تعالا کی بارگاہ) میں اُس وقت تک کھڑا رہے گاکہ جب تک اس سے چار چیزوں کے بارے میں پوچھ نہ لیا جائے گا۔
٭ اس نے اپنی جوانی کن کاموں میں گزاری؟
٭ اس نے اپنے علم پر کتنا عمل کیا؟
٭ اس نے مال کہاں سے کمایا اور کہاں خرچ کیا؟
٭ اس نے اپنا بدن کس کام میں کھپائے رکھا۔
مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ رسولؐ اللہ نے کسی کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’پانچ چیزوں کو پانچ چیزوں سے پہلے غنیمت سمجھو۔ بڑھاپے سے پہلے جوانی کو، بیماری سے پہلے صحت کو، محتاجی سے پہلے تو نگری کو، مصروفیت سے پہلے فراغت کو، اور موت سے پہلے زندگی کو۔ ‘‘
آنحضرتؐ کا ایک اور فرمان ہے: ’’دو نعمتیں ایسی ہیں، جن کے سلسلے میں بہت سے لوگ دھوکے میں ہیں۔ ایک صحت و تن دُرستی اور دوسرے فارغ اوقات۔‘‘
آج سائنس اور ٹیکنالوجی نے جہاں ہمیں بے شمار کارآمد چیزیں دی ہیں، وہاں وقت کے ضیاع کے بھی ایسے نوع بہ نوع آلات فراہم کیے ہیں کہ امتِ مسلمہ کا ایک بڑا طبقہ ان کے غلط استعمال میں اپنا قیمتی وقت اس طرح ضائع کر رہا ہے جس طرح تیز دھوپ میں برف کی ڈلی پگھل کر ضائع ہوتی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت کا صحیح استعمال کیا جائے اور ہر لمحہ سے بھر پور استفادہ کرنے کی کوشش کی جائے۔ وقت کا زیادہ ترحصہ عبادات اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہ کر گزارا جائے۔ فارغ اوقات کو چغلی، کینہ اور بغض جیسی خرافات کی بجائے تلاوتِ قرآن کریم، تسبیحات، ذکر و اذکار، درود شریف اور استغفار اور اچھی کتب کے مطالعہ میں صرف کیا جائے۔ تاکہ نفس کی اصلاح ہو اور دونوں جہانوں کی کامیابی اور خیر و برکت حاصل ہوسکے۔
اللہ تعالا ہم سب کو وقت کی قدر کرنے، اسے قیمتی بناتے ہوئے نیک کاموں میں صرف کرنیکی توفیق عطا فرمائے۔ ہمیں اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا کرنی چاہیے کہ نیا شروع ہونے والا یہ سال پورے عالمِ اسلام کے لیے باعث خیر و برکت ہو۔
قارئینِ کرام کو نیا عیسویں سال مبارک!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ [email protected] یا [email protected] پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔