لسان عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی زبان یا بولی کے ہیں۔
لسانیات اس علم کو کہتے ہیں جس میں مختلف زبانوں کی پیدائش و افزائش، ساخت اور بناوٹ اور ان کے ایک دوسرے پر اثرات وغیرہ کا تحقیقی مطالعہ پیش کیا جاتا ہے۔
لسانیات میں الفاظ کی صوتیات (آوازوں) سے بھی بطورِ خاص مدد لی جاتی ہے۔
اُردو لسانیات پر پہلے پہل جن ماہرینِ لسانیات نے قلم اٹھایا، ان میں گریرسن، اورسینتی کمار چٹر جی دو اہم نام ہیں۔ انہوں نے شورسینی پراکرت کو اُردو کا مأخذ ٹھہرایا۔ بعد میں محی الدین زور، ڈاکٹر سدھیشور راؤ ورما اور ڈاکٹر مسعود حسن خان نے بھی انھی کے خیال کی توثیق کی۔
مولانا محمد حسین آزاد نے اپنی کتاب ’’آبِ حیات‘‘ میں یہ لکھا کہ ’’اتنی بات ہر شخص جانتا ہے کہ ہماری اُردو زبان برج بھاشا سے نکلی ہے اور برج بھاشا خاص ہندوستانی زبان ہے۔‘‘
حافظ محمود شیرانی نے اپنی کتاب ’’پنجاب میں اُردو‘‘ میں کئی دلائل و شواہد دے کر یہ ثابت کیا کہ اُردو، فارسی اور پنجابی کے ملاپ سے بنی ہے۔
مولانا سید سلیمان ندوی نے اُردو کو عربی اور سندھی ملاپ کا نتیجہ قرار دیا۔
اسی طرح مولانا نصیرالدین ہاشمی نے اپنی کتاب ’’دکن میں اُردو‘‘ میں یہ ثابت کرنا چاہا کہ اُردو، عربی اور دکنی زبان کے میل سے معرضِ وجود میں آئی ہے۔
ڈاکٹر شوکت سبزواری نے پالی کو اُردو زبان کا مأخذ قرار دیا۔
ان سب نظریات کے برعکس ڈاکٹر سہیل بخاری نے اپنی کتاب ’’اُردو کے روپ‘‘ میں بڑے ٹھوس دلائل سے یہ ثابت کیا ہے کہ کوئی زبان دو زبانوں کے ملاپ سے نہیں بنا کرتی، لہٰذا اُن کے نزدیک اُردو کی اصل جنم بھومی گونڈیانہ (بھارت) ہے۔
جہاں تک ڈاکٹر سہیل بخاری کی اس بات کا تعلق ہے کہ اُردو کسی دوسری زبان کے ملاپ سے نہیں بنی، اسے ڈاکٹر وزیر آغا اور عین الحق فریدکوٹی نے بھی درست قرار دیا ہے۔
رہی یہ بات کہ اُردو کی جنم بھومی کا کون سا علاقہ ہے، اس پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
(’’ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم‘‘ کی تالیف ’’اصنافِ اُردو‘‘ ، ناشر ’’بک کارنر‘‘، تاریخِ اشاعت 23مارچ 2018ء، صفحہ نمبر 43 سے انتخاب)
