لندن میں قائم ’’برٹش میوزیم‘‘ کا شمار دنیا کے قدیم اور بڑے عجائب گھروں میں ہوتا ہے۔ اسے 1753ء میں پارلیمنٹ کے قانون کے ذریعے قائم کیا گیا اور 1759ء میں عوام کے لیے کھولا گیا۔ اس کی بنیاد بڑی حد تک ڈاکٹر سر ہانس سلون کے وسیع ذاتی مجموعے پر رکھی گئی تھی، جسے اُنھوں نے اپنی وفات کے بعد قوم کے لیے وقف کیا۔
ڈاکٹر سر ہانس سلون کے بارے میں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ اُن کی دولت کا ایک اہم حصہ غلامی کے نظام سے جڑا ہوا تھا۔ وہ جمیکا میں غلاموں سے کام کرائی جانے والی شکر (Sugar) کی جاگیروں سے وابستہ تھے، غلاموں کی تجارت سے متعلق کمپنیوں میں سرمایہ کاری رکھتے تھے اور اُن کی اہلیہ کو بھی ایسی جاگیروں سے وراثتی دولت ملی تھی۔ اُسی دولت نے اُن کے وسیع مجموعے کی تیاری میں مدد دی، جو بعد میں برٹش میوزیم کے بنیادی مجموعوں میں شامل ہوا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ میوزیم کی ہر شے بہ راہِ راست غلامی کی آمدنی سے خریدی گئی تھی، لیکن میوزیم کی بنیاد اور اس کی تاریخ کو غلامی، نوآبادیات اور اُس دور کی معاشی طاقت سے الگ کرکے نہیں دیکھا جاسکتا۔
آج برٹش میوزیم میں دنیا کی مختلف تہذیبوں سے تعلق رکھنے والی تقریباً 80 لاکھ اشیا محفوظ اور 60 سے زیادہ گیلریاں موجود ہیں۔ اتنے بڑے مجموعے کی وجہ سے برٹش میوزیم کو ایک عمارت کے بہ جائے انسانی تاریخ کی ایک وسیع کتاب کہنا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
مَیں نے برٹش میوزیم میں چھے دن ایک تربیتی کورس کے سلسلے میں گزارے۔ مذکورہ چھے دن میرے لیے صرف ایک تربیتی سرگرمی نہیں تھے، بل کہ یہ تجربہ دنیا کی مختلف تہذیبوں کو قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع بھی تھا۔ تربیت کے ساتھ ساتھ مَیں نے میوزیم کی سات گیلریاں ’’مصری مجسمہ سازی کی گیلری‘‘، ’’پارتھینون کے مجسموں کی گیلری‘‘، ’’مصری ممیوں کی گیلری‘‘، ’’آشوری مجسمہ سازی کی گیلری‘‘، ’’سٹن ہُو کی گیلری‘‘، ’’چینی اور جنوبی ایشیائی گیلریاں‘‘ اور ’’این لائٹنمنٹ گیلری‘‘ دیکھیں۔ پورے چھے دن وہاں گزارنے کے باوجود مجھے یوں لگا، جیسے مَیں نے اس وسیع تاریخ کے صرف چند صفحات پڑھے ہوں۔
برٹش میوزیم اتنا بڑا ہے کہ اسے ایک یا دو دن میں مکمل طور پر دیکھنا ممکن ہی نہیں۔ یہاں دنیا کے مختلف ملکوں، قوموں اور تہذیبوں سے تعلق رکھنے والی لاکھوں اشیا محفوظ ہیں۔ ہر چیز اپنے اندر ایک لمبی کہانی رکھتی ہے۔ وہ چیز کہاں کیسے بنی، اُسے کس نے بنایا، اُسے کس مقصد کے لیے استعمال کیا گیا اور پھر وہ میوزیم تک کیسے پہنچی؟
میرا پہلا اہم مشاہدہ مصری مجسمہ سازی کی گیلری، کمرہ نمبر 4، میں ہوا۔ یہاں روزیٹا اسٹون خاص توجہ کھینچتا ہے۔ یہ صرف ایک بڑا پتھر نہیں، بل کہ قدیم مصر کی تحریر کو سمجھنے کی ایک اہم کنجی ہے۔ اس کے قریب رامسیس دوم کا مجسمہ بھی موجود ہے، جو قدیم مصری بادشاہت کی طاقت اور شان کا احساس دلاتا ہے۔ اس گیلری میں کھڑے ہو کر مجھے محسوس ہوا کہ ہزاروں سال پہلے کے انسان اپنی حکومت، مذہب اور تاریخ کو پتھر پر محفوظ کرنا چاہتے تھے۔
مصر کی گیلری میں موجود مجسموں کو دیکھتے ہوئے مجھے ایک اور بات بھی محسوس ہوئی۔ اُن فن کاروں نے انسانی چہرے، جسم، لباس اور شاہی وقار کو بڑی توجہ سے تراشا تھا۔ اُن مجسموں میں صرف بادشاہوں کی عظمت نہیں، بل کہ کاریگروں کی محنت بھی نظر آتی ہے۔
ایک بڑے مجسمے کو تراشنا، اُس کے چہرے کے تاثرات بنانا اور پتھر کی سخت سطح پر اتنی باریک تفصیل پیدا کرنا آسان کام نہیں تھا۔ اس کام کے پیچھے فن، صبر، تربیت اور کئی لوگوں کی مشترکہ محنت موجود تھی۔ مصر کی ممیوں کی گیلری، 62 اور 63 کمرے، نے قدیم مصری زندگی کا ایک مختلف پہلو سامنے رکھا۔ یہاں ممیوں، تابوتوں اور تدفینی اشیا کے ذریعے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ قدیم مصری لوگ موت اور آخرت کے بارے میں کیا سوچتے تھے۔ تابوتوں پر بنے رنگ، تصویریں اور تحریریں بھی اپنے اندر ایک فن کارانہ دنیا رکھتی ہیں۔
وہاں ممیوں کو دیکھ کر مجھے یہ احساس ہوا کہ انسان ہر دور میں اپنے پیاروں کو یاد رکھنے اور اُنھیں محفوظ رکھنے کے طریقے تلاش کرتا رہا ہے۔ ممیوں کے تابوتوں اور مصری مجسموں میں ایک واضح مماثلت نظر آتی ہے۔ دونوں میں انسانی چہرے، لباس، علامتوں اور رنگوں کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ مجسمہ زیادہ تر کسی شخصیت کی ظاہری شکل اور مرتبہ دکھاتا ہے، جب کہ تابوت انسان کی موت، مذہبی عقیدے اور آخرت کے تصور کو بیان کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں کاریگر نے پتھر، لکڑی، رنگ اور تحریر کو ملا کر ایک مکمل کہانی بنائی ہے۔
کمرا نمبر 18 میں پارتھینون کے مجسموں نے مجھے قدیم یونان کی دنیا سے روشناس کرایا۔ ایتھنز کے پارتھینون سے وابستہ یہ مجسمے، جنھیں عام طور پر ’’ایلجن ماربلز‘‘ بھی کہا جاتا ہے، جسمانی تناسب، حرکت اور انسانی حسن کو پیش کرنے کے لیے مشہور ہیں۔ گھوڑوں، انسانوں اور دیوتاؤں کے تراشے ہوئے پیکر دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ یونانی فن کار جسم کی حرکت اور طاقت کو پتھر میں کیسے قید کرتے تھے۔
پارتھینون کے مجسموں اور مصری مجسموں میں فرق بھی ہے اور مماثلت بھی۔ مصری مجسموں میں بادشاہت، مذہب اور وقار نمایاں دکھائی دیتا ہے، جب کہ یونانی مجسموں میں جسم کی حرکت اور انسانی شکل پر زیادہ زور محسوس ہوتا ہے… لیکن دونوں کے پیچھے ایک ہی بنیادی انسانی کوشش ہے: پتھر کو صرف پتھر نہ رہنے دینا، بل کہ اُسے چہرہ، جسم، حرکت اور معنی عطا کرنا۔
پارتھینون کے مجسموں کے ساتھ ایک تاریخی اور سیاسی بحث بھی جڑی ہوئی ہے۔ یہ مجسمے ایتھنز کے ایک اہم تاریخی مقام سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن آج لندن میں موجود ہیں۔ اُنھیں دیکھتے ہوئے فن کی خوب صورتی کے ساتھ یہ سوال بھی ذہن میں آتا ہے کہ تاریخی اشیا اپنے اصل وطن سے دور کہاں ہونی چاہییں اور اُن کے بارے میں فیصلہ کرنے کا حق کس کے پاس ہونا چاہیے؟
موجودہ عراق کے آشوری مجسمہ سازی کی گیلری، 10 اور 11 کمرا، میں نمرود کے محل کے بڑے سنگی مناظر اور لاماسو خاص کشش رکھتے ہیں۔ لاماسو انسانی سر، پروں اور بیل کے جسم والی بڑی محافظ مورتیاں ہیں۔ ان کا مقصد شاید محل کے دروازوں کی حفاظت اور بادشاہی طاقت کا اظہار تھا۔ اُن بڑے اُبھرے ہوئے سنگی نقش میں جنگی مناظر، شکار، بادشاہوں اور شاہی جلوسوں کی تصویریں شامل ہیں۔
آشوری گیلری میں مجھے فن اور طاقت کا تعلق بہت نمایاں نظر آیا۔ جیسے مصر میں رامسیس دوم کا مجسمہ بادشاہی عظمت دکھاتا ہے، اسی طرح آشوری محل کے اُبھرے ہوئے سنگی نقش بادشاہ کی طاقت، فوجی کام یابی اور وسیع سلطنت کا پیغام دیتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ مصری مجسمہ زیادہ تر ایک شخصیت کے وقار کو سامنے لاتا ہے، جب کہ آشوری اُبھرے ہوئے سنگی نقش پوری سلطنت کی سرگرمیوں کو ایک مسلسل منظر کے طور پر دکھاتے ہیں۔ دونوں جگہ کاریگر صرف شکلیں نہیں بنا رہے تھے، وہ حکم رانوں کے لیے ایک سیاسی پیغام بھی تیار کر رہے تھے۔
کمرا نمبر 41 میں ’’سٹن ہُو‘‘ کی گیلری نے مجھے برطانیہ کی اپنی قدیم تاریخ سے متعارف کرایا۔ ساتویں صدی کے اینگلو سیکسن تدفینی جہاز سے ملنے والا سنہری ہیلمٹ اور دوسرے خزانے اس زمانے کے لوگوں کی کاریگری، جنگی زندگی اور سماجی مرتبے کے بارے میں بتاتے ہیں۔ سنہری اور قیمتی دھاتوں پر کی گئی باریک کاری دیکھ کر مجھے اندازہ ہوا کہ ہنرمندوں نے چھوٹی چھوٹی تفصیلات پر بھی کتنی توجہ دی ہے۔
’’سٹن ہُو‘‘ کے سنہری کام کا موازنہ مصر، آشور اور گندھارا کے فن سے کیا جائے، تو ایک دل چسپ مماثلت سامنے آتی ہے۔ ہر تہذیب میں کاریگر اپنے دست یاب مواد کو خوب صورتی اور طاقت کی علامت میں بدلتے رہے۔ کہیں پتھر کو تراشا گیا، کہیں سونے کو ڈھالا گیا، کہیں لکڑی کو رنگا گیا اور کہیں کپڑے پر نقش بنائے گئے۔ مواد مختلف تھا، لیکن کاریگر کی بنیادی خواہش ایک جیسی تھی: اپنی دنیا، اپنے عقیدے اور اپنے مرتبے کو خوب صورت اور یادگار شکل دینا۔
چینی اور جنوبی ایشیائی گیلریاں، کمرا نمبر 33، میرے لیے اس لیے اہم تھیں کہ یہاں ایشیا کی طویل تاریخ اور فن ایک وسیع تناظر میں دکھائی دیتا ہے۔ چین، ہندوستان اور جنوبی ایشیا کی اشیا دیکھتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ ایشیا کے مختلف معاشروں میں فن صرف محلوں یا عبادت گاہوں تک محدود نہیں تھا۔ برتن، زیورات، مجسمے، لکڑی کا کام، دھات کی اشیا اور کپڑے سب انسانی زندگی کا حصہ تھے۔ ان گیلریوں میں ہنرمندی کے مختلف طریقوں کے درمیان ایک گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ جو کاریگر پتھر پر نقش بناتا تھا، وہ شکل، توازن اور باریک تفصیل کو سمجھتا تھا۔ جو کاریگر کپڑا بُنتا یا اس پر نقش بناتا تھا، وہ دھاگے، رنگ، ترتیب اور تکرار کو سمجھتا تھا۔ دونوں کے کام میں ہاتھ کی مہارت کے ساتھ صبر اور منصوبہ بندی ضروری تھی۔ پتھر کی تراش خراش اور کپڑے کی بُنائی بہ ظاہر الگ فن ہیں، لیکن دونوں میں نقش بنانے، ترتیب قائم رکھنے اور خام مواد کو قابلِ قدر چیز میں بدلنے کی ایک جیسی صلاحیت کام کرتی ہے۔
کپڑا بُننے کا فن، خاص طور پر اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ تہذیبیں صرف بڑے مجسموں اور محلوں سے نہیں بنتیں۔ کپڑا روزمرہ زندگی، لباس، مذہبی رسومات، تجارت اور سماجی شناخت کا حصہ رہا ہے۔ بُننے والے کاریگر دھاگوں کو ایک ترتیب میں لا کر رنگ، نقش اور مضبوطی پیدا کرتے تھے۔ یہی اُصول ہمیں پتھر پر اُبھرے ہوئے نقش، زیورات اور دھات کے کام میں بھی دکھائی دیتا ہے: مختلف چھوٹے حصوں کو ترتیب دے کر ایک مکمل شکل بنانا۔
چینی اور جنوبی ایشیائی گیلریوں میں کپڑوں، شالوں اور چادروں پر بنے نقش و نگار دیکھتے ہوئے مجھے اپنا گاؤں اسلام پور یاد آیا۔ اسلام پور کی چادروں اور شالوں میں بھی رنگوں کی ترتیب، بار بار دہرائے جانے والے نقش، پھول پتی، جیومیٹری کی شکلیں اور حاشیوں کی خوب صورتی نمایاں ہوتی ہے۔ میوزیم میں دیکھے گئے قدیم کپڑوں اور اسلام پور کی شالوں کے درمیان یہ مماثلت محسوس ہوتی ہے کہ دونوں میں کاریگر دھاگوں، رنگوں اور نقشوں کو محض سجاوٹ کے لیے نہیں، بل کہ ایک مکمل بصری زبان کے طور پر استعمال کرتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ میوزیم میں موجود ہر قدیم نمونہ بہ راہِ راست اسلام پور کی شالوں کا ماخذ ہے، لیکن دونوں میں ہنرمندی کا ایک مشترک اُصول ضرور دکھائی دیتا ہے۔ اسلام پور کا کاریگر بھی چھوٹے چھوٹے نقشوں کو ترتیب دے کر ایک بڑی، متوازن اور خوب صورت چادر بناتا ہے، جیسے قدیم کاریگر کپڑے پر رنگوں اور نمونوں کو بار بار دہرا کر ایک مکمل ڈیزائن تیار کرتا تھا۔ اس مماثلت سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ بُنائی کا فن زمانے اور علاقے بدلنے کے باوجود انسانی تخلیق اور ہاتھ کی مہارت کو ایک دوسرے سے جوڑتا رہتا ہے۔
سوات سے متعلق گندھاری اشیا کو دیکھتے ہوئے مَیں نے اسی مشترک ہنرمندی کو ایک مختلف انداز میں محسوس کیا۔ برٹش میوزیم میں سوات سے منسوب کئی ایسی اشیا موجود ہیں، جو بدھ مت اور گندھارا کے فن سے تعلق رکھتی ہیں۔ اُن میں پتھر پر تراشے گئے پینل، انسانی مجسمے اور بودھی ستوا کے پیکر شامل ہیں۔
بودھی ستوا دراصل بدھ مت کی ایک ایسی روحانی شخصیت کو کہا جاتا ہے، جو خود نجات حاصل کرنے کے باوجود دوسروں کی مدد کے لیے دنیا میں رہنے کا انتخاب کرتی ہے۔ گندھارا ایک قدیم خطہ تھا، جو موجودہ پاکستان کے شمال مغربی علاقوں اور افغانستان کے مشرقی حصے تک پھیلا ہوا تھا۔ اس خطے میں مختلف تہذیبوں کے اثرات ایک دوسرے سے ملے۔ یہاں بدھ مت سے متعلق فن پارے بنے، لیکن اُن میں مقامی فن کے ساتھ یونانی، رومی، ایرانی، وسطی ایشیائی اور ہندوستانی اثرات بھی نظر آتے ہیں۔ اسی لیے گندھارا کا فن دنیا کے اہم فنون میں شمار ہوتا ہے۔ اسے صرف ایک تہذیب یا ایک ملک کے فن کے طور پر دیکھنا اس کی پوری حقیقت بیان نہیں کرتا۔
سوات قدیم گندھارا کے علاقے کا ایک اہم حصہ تھا۔ یہاں بدھ مت سے متعلق کئی مراکز، اسٹوپے اور خانقاہیں قائم تھیں۔ سوات سے منسوب ایک مجسمہ دوسری یا تیسری صدی کا بتایا جاتا ہے۔ یہ گندھارا سے تعلق رکھتا ہے اور شِسٹ نامی پتھر سے تراشا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ’’سوات وادی‘‘ کا حوالہ بھی ملتا ہے۔ ایک بودھی ستوا کا مجسمہ بھی دوسری یا تیسری صدی اور کشان دور سے تعلق رکھتا ہے، جس کے ساتھ ’’سوات وادی‘‘ اور ’’بونیر‘‘ دونوں علاقوں کے نام وابستہ ہیں۔
میوزیم میں سوات سے منسوب پتھر کے کئی پینل بھی موجود ہیں۔ اُن میں بعض دوسری اور تیسری صدی کے بتائے جاتے ہیں۔ کچھ پینل سوات سے، جب کہ کچھ سوات اور بونیر دونوں علاقوں سے منسوب ہیں۔ اُن پینلوں پر بنے مناظر مذہبی عقائد، فن اور لوگوں کے طرزِ زندگی کے بارے میں اہم معلومات فراہم کرتے ہیں۔ سوات کے پینل اور مجسموں کو دیکھتے ہوئے مجھے یونانی گیلری کے مجسموں سے ایک دل چسپ مماثلت محسوس ہوئی۔ گندھارا کے فن کار بھی انسانی جسم، لباس، بالوں اور چہرے کے تاثرات کو بڑی توجہ سے پیش کرتے تھے۔ فرق یہ تھا کہ گندھارا کے فن کار اس فنی زبان کو بدھ مت کے موضوعات اور مقامی روایت کے ساتھ ملا رہے تھے۔ یوں سوات کا فن ہمیں بتاتا ہے کہ ہنرمند دوسرے علاقوں کے اثرات قبول کرتے ہوئے اُنھیں اپنی مقامی ضرورت اور عقیدے کے مطابق نئی شکل دے سکتے ہیں۔
مصر کے مجسموں، آشوری اُبھرے ہوئے سنگی نقش، پارتھینون کے پیکر، سٹن ہُو کے سنہری ہیلمٹ اور سوات کے گندھاری مجسموں میں ایک بنیادی مماثلت ہے۔ ہر جگہ کاریگر نے خام مواد کو معنی دیے۔ کہیں پتھر بادشاہ، دیوتا یا محافظ بن گیا، کہیں سونا جنگی اور سماجی مرتبے کی علامت بنا، کہیں کپڑا شناخت اور روزمرہ زندگی کا حصہ بن گیا۔ یہ سب چیزیں اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ انسانی تہذیب کی ترقی میں ہنرمندوں کا کردار بہت بنیادی رہا ہے۔
مصری ممیوں کی گیلری دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں چترال کی کیلاشہ تہذیب بھی آئی۔ قدیم مصر میں مردوں کو ممی بنا کر محفوظ کیا جاتا تھا اور اُن کے ساتھ تابوت، کپڑے، زیورات اور دوسری تدفینی اشیا رکھی جاتی تھیں۔ کیلاشہ تہذیب میں بھی مرنے والوں کے ساتھ خاص رسومات، لکڑی کے تابوت، لباس اور دوسری علامتی اشیا کا تعلق رہا ہے۔ دونوں کے درمیان یہ مماثلت محسوس ہوتی ہے کہ موت کو محض اختتام نہیں سمجھا گیا، بل کہ اسے یاد، رسم اور سماجی شناخت سے جوڑا گیا۔ تاہم مصر کی ممیوں اور کیلاشہ تہذیب کے تدفینی طریقوں کو ایک ہی روایت یا بہ راہِ راست تاریخی تعلق کا حصہ قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ مصر میں جسم کو محفوظ رکھنے کا ایک باقاعدہ طریقہ رائج تھا، جب کہ کیلاشہ روایت میں لکڑی کے تابوت، کھلے تدفینی مقامات، مجسم نما علامتوں، لباس اور اجتماعی رسومات کی اپنی الگ اہمیت ہے۔ مماثلت یہاں طریقۂ کار کی مکمل یک سانیت میں نہیں، بل کہ اُس انسانی جذبے میں ہے کہ مرنے والے کو عزت، یاد اور مخصوص رسم کے ساتھ رخصت کیا جائے۔
ممیوں، کیلاشہ لباس اور اسلام پور کی شالوں کو ایک ساتھ سوچنے سے ایک وسیع حقیقت سامنے آتی ہے۔ مختلف معاشروں میں کپڑا صرف جسم ڈھانپنے کے لیے نہیں تھا۔ وہ موت، مذہب، سماجی مرتبے، تہوار، شناخت اور یادداشت کا حصہ بھی تھا۔ مصر کے تابوتوں پر بنے رنگ اور نقش، کیلاشہ لباس کی علامتیں اور اسلام پور کی شالوں کے دہرائے ہوئے نمونے ہمیں بتاتے ہیں کہ انسان نے ہر دور میں رنگ، کپڑے اور نقش کے ذریعے اپنی اجتماعی کہانیاں محفوظ کی ہیں۔
این لائٹنمنٹ گیلری، کمرا نمبر 1، نے ان تمام تجربات کو سمجھنے کے لیے ایک مختلف زاویہ فراہم کیا۔ یہ گیلری اُس دور کی یاد دلاتی ہے، جب یورپ میں علم، تحقیق، کتابوں، نمونوں اور عجائب گھروں کا تصور مضبوط ہو رہا تھا۔ یہاں سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ لوگ دنیا کو جمع کرنے، ترتیب دینے اور سمجھنے کے لیے ادارے قائم کرنے لگے… لیکن اسی گیلری نے میرے ذہن میں ایک سوال بھی پیدا کیا۔ جب یورپ میں عجائب گھروں اور تحقیق کا تصور ترقی کر رہا تھا، اُس وقت دنیا کے کئی دوسرے خطے سیاسی اور نوآبادیاتی دباو کا سامنا کر رہے تھے۔ ان حالات میں بہت سی اشیا اپنے اصل علاقوں سے دور ہوئیں اور یورپی عجائب گھروں کا حصہ بنیں۔ اس لیے عجائب گھر علم اور تحفظ کی جگہ ہونے کے ساتھ ساتھ طاقت اور ملکیت کے سوالات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
مصر، یونان، آشور، سٹن ہُو، چین، جنوبی ایشیا اور سوات کی گیلریاں دیکھتے ہوئے میرے لیے سب سے اہم بات یہ تھی کہ فن کی زبان مختلف ہونے کے باوجود انسانی محنت میں بہت سی یک سانیت موجود ہے۔ ہر جگہ کاریگر نے مواد کو سمجھا، اوزار استعمال کیے، نقش اور تناسب پر توجہ دی اور اپنی تہذیب کے خیالات کو کسی نہ کسی شکل میں محفوظ کیا۔ پتھر تراشنے والے، دھات ڈھالنے والے، سونے پر کام کرنے والے، لکڑی کو شکل دینے والے اور کپڑا بُننے والے سب اپنے اپنے زمانے کے ماہر تھے۔
بُنائی کے فن نے مجھے خاص طور پر یہ سوچنے پر مجبور کیا کہ تہذیب کی اصل بنیاد صرف بادشاہوں اور جنگوں میں نہیں، بل کہ اُن ہنرمند ہاتھوں میں بھی ہے، جو روزمرہ استعمال کی چیزیں بناتے ہیں۔ کپڑا بُننے والا کاریگر دھاگوں کو ایک دوسرے میں جوڑ کر مضبوط کپڑا بناتا ہے۔ مجسمہ ساز پتھر کے مختلف حصوں کو تراش کر چہرہ اور جسم بناتا ہے۔ دونوں کاموں میں ہاتھ، آنکھ، صبر اور ترتیب کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی مشترک صلاحیت مختلف زمانوں اور علاقوں کے فن کو ایک دوسرے سے جوڑتی ہے۔
چھے دن بعد جب مَیں برٹش میوزیم سے باہر نکلا، تو میرے ذہن میں یہی بات رہی کہ عجائب گھر صرف ماضی کی چیزیں رکھنے کی جگہ نہیں ہوتا۔ یہ ہمیں حال کے بارے میں بھی سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ مصر کی گیلری نے مجھے قدیم دنیا کی حیرت انگیز ترقی دکھائی۔ پارتھینون اور آشوری گیلریوں نے مجسمہ سازی اور طاقت کا تعلق سمجھایا۔ سٹن ہُو نے دھات کاری کی باریکی دکھائی، چینی اور جنوبی ایشیائی گیلریوں نے بُنائی اور روزمرہ ہنرمندی کی اہمیت یاد دلائی. اس طرح سوات سے منسوب مجسموں اور پینل نے مجھے اپنے خطے کی گہری تاریخی اہمیت کا احساس دلایا۔
برٹش میوزیم کی سب سے بڑی کشش اس کا حَجم ہے، لیکن اس کی سب سے بڑی ذمے داری بھی اسی حَجم سے پیدا ہوتی ہے۔ ایک عالمی میوزیم کو صرف یہ نہیں دکھانا چاہیے کہ مختلف قوموں نے کیا بنایا؟ اسے یہ بھی بتانا چاہیے کہ یہ چیزیں اُس کے پاس کیسے پہنچیں؟ سوات سے منسوب گندھاری پینل اور بودھی ستوا کے مجسمے اسی بڑی کہانی کا حصہ ہیں۔ وہ مجھے یاد دلاتے ہیں کہ آثارِ قدیمہ صرف ماضی کے خاموش ٹکڑے نہیں ہوتے۔ اُن میں شناخت، یادداشت، اختیار اور انصاف کے سوال بھی زندہ رہتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










