یونان سے پاکستان تک، سوال سے خوف…!

Blogger Fazal Manan Bazda

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدایش کے 28 سال بعد، جب رومی پراسیکیوٹر ’’پونٹس پیلاطس‘‘ نے سزا سنائی، اُس وقت ایک گروہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سزا دلوانا چاہتا تھا، مگر عام لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھے، رو رہے تھے اور ماتم کر رہے تھے۔ پھر تاریخ نے دیکھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام تو امر ہوگئے اور پراسیکیوٹر کو روم بلا کر رومیوں نے خود سزا دی۔
یونان کے شہر ایتھنز میں 339 قبل المسیح، 70 سالہ سقراط کو اس الزام میں کہ یہ دیوتاؤں کو نہیں مانتا، یہ اُن کی توہین کرتا ہے اور نوجوانوں کو گم راہ کرتا ہے، 501 افراد پر مشتمل جیوری کے سامنے پیش کیا گیا۔ جیوری نے ’’مانیلی توس‘‘، ’’لائی کون‘‘ اور ’’انی طوس‘‘ کے سقراط کے خلاف دلائل سنے اور سقراط موت کی سزا سنا دی۔ سقراط کے خلاف یہ مقدمہ اور زہر کا پیالہ پینے کی سزا، نظامِ عدل و انصاف کے خلاف ایک مؤثر دلیل کے طور پر پیش کی جاتی رہی ہے اور آج بھی پیش کی جاتی ہے۔ آج تاریخ میں سقراط کا نام درج ہے، مگر اُس کو سزا دینے اور دلوانے والے تاریخ کے اوراق میں کہیں جگہ نہ پاسکے۔
سقراط کو زہر کا پیالہ کیوں دیا گیا؟ آخر ایتھنز کے اہلِ اقتدار کو اُس سے تکلیف ہی کیا تھی؟ سقراط کوئی لیڈر تھا اور نہ کوئی جنگ جو، اُس کا سیاسی اثر و رسوخ بھی نہ تھا، جو اہلِ اقتدار کے لیے خطرہ بن سکے۔ سقراط کا جرم ایک ہی تھا کہ اُس نے اپنے طلبہ کو سوال کرنا سکھایا تھا۔ سوال کو اُس دور میں بھی اور آج کے دور میں بھی اہلِ اقتدار سوال کو اپنی اہلیت پر شک سمجھتے ہیں۔
اہلِ اقتدار سے سوال ہوا، طبقۂ امرا سے سوال ہوا کہ تم اگر آسایش میں ہو، تو خلقِ خدا آخر کیوں پریشان ہیں؟ اِن سوالات کے جوابات اُن کے پاس نہ تھے، اس لیے سقراط کو زہر کا پیالہ دیا گیا۔ ایتھنز کے اساتذہ بھی سقراط کے خلاف تھے۔ کیوں کہ وہ پہلے جو کچھ اپنے طلبہ کو پڑھاتے تھے، اُسے قبول کرلیتے تھے، لیکن اب طلبہ نے سوال کرنا شروع کر دیا تھا۔
ابنِ رشد کو فلسفے میں اعلا مقام حاصل ہے۔ آج سے 823 سال پہلے ہسپانیہ کے حاکمِ وقت منصور بن یعقوب نے اُن کو اس لیے جَلاوطن کر دیا تھا کہ اُس نے حاکم کو ’’بربروں کا بادشاہ‘‘ لکھا تھا۔ منصور بن یعقوب کو یہ بھی بتایا گیا کہ ابنِ رشد ملحد اور بے دین ہوگیا ہے اور توہین کرتا ہے۔ تب تاریخی مسجدِ قرطبہ میں ایک عدالت یا دربار منعقد کیا گیا۔ ابنِ رشد اپنے شاگردوں سمیت عدالت میں حاضر ہوا، تمام فقہا و علما بھی شریک تھے۔ ابو محمد علی حجاج نے بادشاہ کی اجازت سے اعلان کیا کہ ابنِ رشد ملحد اور بے دین ہوگیا ہے، چناں چہ اُسے سزا سنا کر یہودیوں کی بستی بوسنیا میں جَلاوطن کر دیا گیا ہے۔
آج اُسی توہین کرنے والے ’’ابنِ رشد‘‘ کا نام زندہ ہے، محمد علی حجاج اور حاکم منصور بن یعقوب، جنھوں نے ابنِ رشد کے خلاف فیصلہ دیا، وہ تاریخ کی کتابوں میں معتوب ٹھہر چکے ہیں۔ ابنِ رشد کو سزا دینے سے فلسفہ ختم نہیں ہوا، حال آں کہ حاکمِ وقت منصور بن یعقوب یہی چاہتا تھا، لیکن سزا کے باوجود سوچ کے در بند نہیں ہوئے۔ فلسفہ اور سائنس کی کتابیں جلا دی گئیں، مگر فلسفہ اور سائنس نے مزید ترقی کی۔
شمالی کوریا کی جیل میں تین نسلیں قید ہوتی ہیں۔ 70 سال کا دادا اور ایک سال کا پوتا سمیت ایک ہی جیل میں پابندِ سلاسل ہیں۔ دادے، دادی، پوتے اور پوتی کا کوئی جرم بھی نہیں ہوگا، مگر پھر بھی جیل میں بند۔ شمالی کوریا میں اگر ایک شخص بادشاہ پر سوال اُٹھاتا ہے، تو صرف اُسے ہی نہیں، بل کہ اُس کی بیوی، بچوں اور والدین تک کو اُٹھا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ اہلِ اقتدار کل بھی سوال سے پریشان تھے اور آج بھی پریشان ہیں۔ اس لیے وہ سوال کرنے والوں کو زِنداں میں دیکھنا چاہتے ہیں۔
قارئین! ذکر شدہ سچے تاریخی واقعات عقل مندوں کے لیے کھلی نشانی ہیں، لیکن پاکستانی سیاست دان اِن سے سبق سیکھنے میں دل چسپی نہیں رکھتے۔ پاکستان میں بھی سوال کرنے والوں کو خاندان سمیت اِغوا کیا جاتا ہے، اُن کے گھروں پر چھاپے مارے جاتے ہیں، اُن کے خلاف ملک کے ہر تھانے میں مقدمے درج کیے جاتے ہیں، اُن کے کاروبار کو تباہ کیا جاتا ہے۔
یہاں تک کہ بعض سیاست دانوں کے خلاف بھینسیں چوری کرنے تک کے مقدمات بھی درج ہوئے ہیں۔ ججوں پر اپنے حق میں فیصلے دینے کے لیے اُنھیں بلیک میل کیا جاتا ہے، جو جج قانون کے مطابق فیصلہ دیتا ہے، وہ زیرِ عتاب آ جاتا ہے، حکم نہ ماننے والے ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں ریفرنس دائر کیے جاتے ہیں۔ ایف آئی اے، اینٹی کرپشن اور پولیس سمیت دیگر ریاستی اداروں کو سیاست زدہ کیا جاچکا ہے۔
پاکستان میں اقتدار کی خاطر مخالفین کو قتل کرنے کی مثالیں بھی موجود ہیں۔ لیاقت علی خان کو قتل کیا گیا، بھٹو کو راستے سے ہٹایا گیا، بے نظیر بھٹو کو منظم طریقے سے قتل کیا گیا، اکبر بگٹی کو میزائل سے نشانہ بنایا گیا، یہاں تک کہ جنرل ضیاء الحق کو بھی نہیں بخشا گیا۔
اس طرح اسی ملک میں سیاست دانوں پر غداری کا الزام لگانا کوئی نئی بات نہیں۔ قائدِ اعظم محمد علی جناح کی بہن فاطمہ جناح غدار ٹھہرائی گئیں، جی ایم سید غدار، اکبر بگٹی غدار، خان عبدالغفار خان غدار، خان عبدالولی خان غدار، بے نظیر سکیورٹی رسک اور اب عمران خان بھی غدار اور دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیے جاچکے ہیں۔
عمران خان کے سوا مذکورہ بالا ’’غدار‘‘ سب پیوندِ خاک ہوچکے ہیں، جب کہ عمران خان اڈیالہ جیل میں بند ہیں اور اُن کے خلاف غداری کا مقدمہ دائر کرنے کی افواہیں زیرِ گردش ہیں۔ اُن کا جرم یہ ہے کہ اُنھوں نے عوام، اور خاص کر نوجوان طبقے میں، سوال کرنے اور اپنا حق چھیننے کا شعور بیدار کیا۔ اب عوام حکم رانوں اور ریاستی اداروں پر سوال اُٹھا کر جواب مانگتے ہیں، تو حکم ران اور ریاستی ادارے اسے اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ اس لیے اُنھیں دہشت گرد گردانا جاتا ہے۔ اُن کے خلاف آرٹیکل 6 کی خلاف ورزی پر غداری کا مقدمہ درج کیے جانے کے لیے صلاح و مشورے ہو رہے ہیں۔
یہ میرا ذاتی خیال ہے، اس سےکسی کا اتفاق لازمی نہیں کہ اگر حکم رانوں اور طبقۂ اشرافیہ نے اپنا رویہ نہ بدلا، تو تاریخ میں اُن کے لیے کوئی جگہ نہیں ہوگی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے