پاپین خیل میاں گان (دوسرا حصہ)

Blogger Afzal Shah Bacha

فتحِ باجوڑ کے بعد ظہیر الدین بابر، گبری سرداروں اور خواجہ کلاں کو اپنے ہم راہ ہندوستان لے گئے، جہاں انھوں نے ابراہیم لودی کے خلاف جنگ میں حصہ لیا۔ فتح کے بعد خواجہ کلاں کو باجوڑ سے کابل تک کا نگران حاکم مقرر کرکے واپس جانے کی اجازت دی گئی، جب کہ دیگر مَلَکان کو اپنے ساتھ رہنے کی تلقین کی گئی۔
تاریخی طور پر یہ واضح نہیں کہ خواجہ کلاں کتنے عرصے تک باجوڑ کے حکم ران رہے؟
چوں کہ پاپین خیلوں اور یوسف زئیوں کے درمیان پہلے ہی سے اتحاد قائم تھا، اس لیے دونوں نے 1511ء تا 1525ء کے دوران میں ملک حیدر علی گبری کو شکست دی۔ اسی عرصے میں سلطان اویس کے خلاف بھی پے در پے جنگیں جاری رہیں، جس کے نتیجے میں سوات میں آبادکاری کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔
فتحِ سوات کے بعد پاپین خیل، سیدو میں آباد ہوگئے۔ اس مہم میں دیگر قبائل بھی شریک تھے۔ بعد ازاں پاپین خیل قبیلے کے افراد باجوڑ، مہمند اور چارسدہ کی تحصیل شبقدر میں بھی آباد ہوئے۔ اسی طرح ملک گجو خان کے دور میں پاپین خیل، مردان اور صوابی میں آباد ہوئے۔
ملا سںجر پاپینی جنکا اور ملا سید محمد زنگی پاپینی  اخون درویزہؒ کے اساتذہ تھے۔ ملا سنجر پاپینی نے روشنائی تحریک کے سربراہ پیر روخان کے ساتھ مناظروں کو لیڈ کیا تھا۔ یہ مناظرے اور تحریک 1565 سے 1632 عیسوی تک چلے تھے۔
ملک بھاکو خان کے دور میں پاپین خیل، خدوخیل اور تحصیل مندنڑ میں بھی آباد ہوئے۔ اسی دوران میں راقم کے جدِ امجد محمد شریف نے ملک بھاکو خان کی بہن ہادیہ بی بی سے شادی کی۔ ہادیہ بی بی سوات کے پاپین خیلوں کی دادی سمجھی جاتی ہیں۔ ان کا مزار موضع ناٹ میرہ، نجیگرام میں واقع ہے، جو آج بھی اُدے ابئی قبرستان کے نام سے مشہور ہے۔
بعد ازاں ہادیہ بی بی نے اپنی بھتیجی، یعنی ملک بھاکو خان کی بیٹی، اپنے چھوٹے بیٹے محمد یوسف ابا صاحب سے بیاہ دی۔ اس لحاظ سے ملک بھاکو خان، راقم کے جدِ امجد محمد یوسف ابا صاحب کے ماموں بھی تھے اور سسر بھی۔
ملک بھاکو خان کے دور میں ڈوما راجگیری کے خلاف جہاد کا آغاز ہوا، جس میں متعدد قبائل نے حصہ لیا۔ اس جہاد میں راقم کے جدِ امجد محمد یوسف ابا صاحب اور ان کے دیگر تین بھائی بھی شریک تھے۔ اخوند محمد صدیق اور راقم کے جدِ امجد محمد یوسف ابا صاحب لیلونئی کے مقام پر برسرِ پیکار تھے، جہاں اخوند محمد صدیق شہید ہوگئے، جب کہ محمد یوسف ابا صاحب کے پاؤں پر تیر لگا، جس سے وہ شدید زخمی ہوئے۔
اخوند محمد صدیق کو ان کے ساتھی لیلونئی سے مینگورہ نوے کلے لے آئے، جہاں انھیں سپردِ خاک کیا گیا۔ اُس زمانے میں پاپین خیل سیدو میں رہایش پذیر تھے۔ اسی عرصے میں اخوند محمد شریف پاپین چلے گئے، جہاں انھوں نے دوسری شادی کی۔
اسی طرح محمد یوسف ابا صاحب کے تیسرے بھائی، اخوند محمد صادق، لڑتے لڑتے بنکڈ، کوہستان پہنچ گئے۔ چوں کہ وہ اس معرکے میں زندہ بچ گئے تھے، اس لیے انھوں نے بنکڈ کو مستقل جائے رہایش بنالیا، اور بعد ازاں وہیں مدفون ہوئے۔
اخوند محمد صدیق 1623ء میں لیلونئی کے مقام پر شہید ہوئے تھے۔ ان کی شہادت کے بعد مدین کے علاقے چورڑئی میں اخوند درویزہؒ کے صاحب زادے، اخوند کریم داد المعروف شہید بابا بھی شہید ہوگئے۔
اخوند محمد صدیق کی شہادت کے بعد ہمارے گھرانے کے بعض افراد موجودہ اخوند کلے اور ڈڈھرہ منتقل ہوگئے۔ اخوند محمد صدیق کے بڑے بیٹے، اخوند محمد قاسم پاپین خیل، اخوند کریم داد کے شاگرد تھے۔ وہ ایک صاحبِ دیوان شاعر، صوفی بزرگ اور دینی شخصیت تھے۔ انھیں ’’صوفیِ سرحد‘‘ کے لقب سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے والد اور اپنے استاد کی شہادت پر ایک مرثیہ بھی تحریر کیا، جسے بعد کے متعدد اہلِ قلم نے نقل کیا ہے۔ یہ مرثیہ رحیم شاہ رحیم کی ’’پٹہ خزانہ‘‘، ’’علما و مشائخِ کبار و عظامِ سوات‘‘ اور حالیہ ’’تذکرۂ ساداتِ ترمذی‘‘ سمیت مختلف کتب میں شائع ہوچکا ہے۔
بعض تواریخ کے مطابق ڈوما راجگیری کے خلاف جنگیں 1610ء سے 1680ء تک جاری رہیں۔
شیخ ملی کے ویش میں سوات کے پاپین خیلوں کے ہر گھرانے کے سربراہ کو چھے نسبت کے حساب سے شمار کیا گیا تھا۔ پاپین خیل جہاں کہیں بھی کوز سوات میں آباد تھے، ہر گھرانے کو شیخ ملی کے ویش میں چھے روپے دوتر ملا تھا۔
ڈوما راجگیری کا جو علاقہ جس خاندان نے فتح کیا، وہی علاقہ انھیں بہ طورِ مالِ غنیمت ملا۔ پاپین خیلوں نے ڈوما راجگیری کے لیلونئی، چھڑئی، پیرخانہ، اوپل، شلاوو، زوڑہ اور انڈس کوہستان کے علاقے بنکڈ کو فتح کیا، جہاں خانگی ویش کے نتیجے میں آج تک پاپین خیل آباد ہیں۔
سلطان تومنا کے دورِ حکومت میں نام ور مبلغین سید محمود ولی بخاری، سید محمد اور میر سید علی ہمدانی تشریف لائے۔ یہ شخصیات سلسلۂ تصوف چشتیہ سے وابستہ تھیں۔ انھوں نے پاپینی حضرات میں تصوف کی تعلیمات کو فروغ دیا، جس کے نتیجے میں پاپین خیل حضرات سلسلۂ چشتیہ اور دیگر سلاسلِ تصوف سے وابستہ ہوئے۔
جب احمد سرہندی کا 1624ء میں انتقال ہوا، تو ان کے ممتاز خلفا میں سے آدم بنوری ان کے جانشین بنے۔ یہ مغل بادشاہ نور الدین محمد جہانگیر کا دورِ حکومت تھا۔ سید آدم بنوریؒ اُس زمانے میں پختونخوا تشریف لائے، جہاں انھوں نے ہزاروں افراد کو اپنے حلقۂ ارادت میں شامل کیا۔ اُن کے مریدین میں پاپین خیل قبیلے کے متعدد نمایاں افراد شامل تھے، جن میں اخوند محمد شریف، ان کے بیٹے محمد صادق، محمد یوسف ابا صاحب، محمد امین، اخوند محمد شریف کے بھائی محمد طاہر، جو اُس وقت پاپین خیل قبیلے کے سربراہ تھے، نیز ان کے بیٹے یار محمد اور فاضل محمد قابلِ ذکر ہیں۔ ان مریدین میں یار محمد اس لحاظ سے خصوصی اہمیت رکھتے ہیں کہ وہ سید آدم بنوریؒ کے خلفا میں شامل ہوئے۔
1640ء /1641ء میں مغل بادشاہ شاہجہاں کے دربار میں سید آدم بنوریؒ کے خلاف سازش کی گئی۔ درباریوں نے شاہجہاں سے کہا کہ سید آدم بنوریؒ مستقبل میں اقتدار کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔ اس کے بعد شاہ جہاں نے انھیں حج پر جانے کا مشورہ دیا۔
1641ء میں سید آدم بنوریؒ اپنے ایک بڑے قافلے کے ہم راہ حج کے لیے روانہ ہوئے۔ اس قافلے میں ان کے متعدد مریدین اور خلفا بھی شامل تھے۔ حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد جب وہ مدینہ منورہ پہنچے، تو 1643ء میں وہیں اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ اُس وقت یار محمد پاپینی ان کے پاس موجود تھے۔ ایک روایت کے مطابق سید آدم بنوریؒ نے ان کی گود میں وفات پائی۔
بعض تواریخ کے مطابق 1656ء میں پاپین خیل قبیلے کے افراد وطن واپس لوٹے۔ اُس وقت سوات میں قبیلے کی قیادت محمد یوسف ابا صاحب کے پاس تھی۔ چوں کہ وہ ڈوما راجگیری کے خلاف جنگ میں زخمی بھی ہوئے تھے اور حج کے طویل سفر کی وجہ سے جسمانی طور پر کم زور ہوچکے تھے، اس لیے انھوں نے قبیلے کی مشری (سرداری) اخوند محمد قاسم پاپین خیل کے سپرد کر دی اور خود گوشہ نشینی اختیار کرلی۔
اسی دوران میں اخوند محمد قاسم پاپین خیل نے اپنا شعری دیوان مرتب کیا اور مزید دو کتابیں بھی تصنیف کیں۔ ان میں ’’فوائد المونین‘‘ اور ’’فوائدِ شریعت‘‘ خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں، کیوں کہ پشتو زبان کی تاریخ میں یہ ابتدائی کتابوں میں شمار ہوتی ہیں۔
اخوند محمد قاسم پاپین خیل کے بعد قبیلے کی سربراہی دوست محمد، المعروف انگنڑ بابا آف سیدو، کو ملی، جو بعد میں یوسف زئیوں کے سربراہ بھی بنے۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے