ثور انقلاب کی تاریخ (چوتھی قسط)

Blogger Comrade Sajid Aman

ثور انقلاب کی کام یابی کے بعد کابل کی فضا میں فتح کے نعرے گونج رہے تھے، مگر اقتدار کے ایوانوں میں خاموشی سے ایک ایسی کش مہ کش جنم لے رہی تھی، جو آنے والے مہینوں میں خود انقلاب کے معماروں کو ایک دوسرے کا دشمن بنا دے گی۔ افغانستان کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اور دور ایسا آیا ہو، جس میں اقتدار اتنی تیزی سے دوستوں کو دشمن اور ساتھیوں کو حریف بنا رہا تھا۔ ’’خلق‘‘ اور ’’پرچم‘‘ کے راہ نما، جو چند ہفتے پہلے ایک ہی انقلاب کے پرچم تلے کھڑے تھے، اب ایک دوسرے کی نیت، وفاداری اور مستقبل کے عزائم پر شک کرنے لگے تھے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد نور محمد ترکئی کو ریاست کا سربراہ قرار دیا گیا، جب کہ حفیظ اللہ امین تیزی سے حکومت کے طاقت ور ترین افراد میں شامل ہوتے گئے۔ ابتدا میں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ترکئی نظریاتی راہ نما ہیں اور امین انتظامی امور سنبھال رہے ہیں، مگر جلد ہی واضح ہونے لگا کہ امین اپنی غیر معمولی تنظیمی صلاحیت، فوج پر اثر و رسوخ اور فیصلہ کن انداز کی وجہ سے اقتدار کا اصل مرکز بنتے جا رہے ہیں۔
دوسری طرف ببرک کارمل اور پرچم دھڑے کے دیگر راہ نماؤں کو یہ احساس ہونے لگا کہ انقلاب کے ثمرات پر خلق دھڑا قابض ہوتا جا رہا ہے۔ کابینہ میں اگرچہ انھیں نمایندگی حاصل تھی، لیکن اہم فوجی، سکیورٹی اور انتظامی اداروں پر خلق سے وابستہ افراد کا غلبہ بڑھ رہا تھا۔ یہ صرف سیاسی اختلاف نہیں تھا، بل کہ اقتدار کی سمت متعین کرنے کی جنگ بن چکا تھا۔
چند ہی ماہ بعد خلق قیادت نے پرچم دھڑے کے متعدد ممتاز راہ نماؤں کو بیرونِ ملک سفیر مقرر کر دیا۔ ببرک کارمل کو بھی کابل سے دور بھیج دیا گیا۔ بہ ظاہر یہ سفارتی تقرریاں تھیں، مگر بہت سے مؤرخین کے نزدیک ان کا اصل مقصد پرچمی قیادت کو مرکزِ اقتدار سے الگ کرنا تھا۔ اس کے بعد پرچم سے وابستہ متعدد فوجی افسران اور سرکاری اہل کاروں کے خلاف بھی کارروائیاں شروع ہوئیں۔ کچھ گرفتار ہوئے، کچھ ملازمتوں سے ہٹا دیے گئے، جب کہ کئی راہ نما جَلاوطنی پر مجبور ہوئے۔
یوں خلق اور پرچم کے درمیان برسوں پرانی رقابت اب کھلی دشمنی میں تبدیل ہوگئی۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ دونوں مارکس ازم، لینن ازم اور سوشلسٹ ریاست کے قیام کے حامی تھے، مگر ایک دوسرے کو اقتدار کے لیے خطرہ سمجھنے لگے تھے۔ نظریاتی ہم آہنگی، شخصی عدم اعتماد کے سامنے بے بس دکھائی دیتی تھی۔
اُدھر حکومت نے ملک بھر میں اپنی اصلاحات پر عمل درآمد کی رفتار مزید تیز کر دی۔ زرعی اصلاحات کے تحت بڑے زمین داروں کی زمینیں تقسیم کی جانے لگیں۔ خواندگی کی مہم شروع ہوئی، خواتین کی تعلیم کی حوصلہ افزائی کی گئی اور بعض قبائلی روایات کے خلاف قوانین نافذ کیے گئے۔ ان اقدامات میں ایسے پہلو بھی تھے، جنھیں جدید ریاست کی تعمیر کی کوشش سمجھا گیا، لیکن دیہی افغانستان میں ان اصلاحات کو اکثر مقامی سماجی اور مذہبی ڈھانچے میں اچانک مداخلت کے طور پر دیکھا گیا۔
یہاں حکومت کی ایک بڑی غلطی سامنے آئی۔ اصلاحات کا مقصد کچھ بھی ہو، ان کے نفاذ میں مقامی حالات، قبائلی حساسیت اور مذہبی قیادت کے اثر کو مناسب اہمیت نہ دی گئی۔ کئی علاقوں میں حکومتی اہل کاروں نے سختی سے فیصلے نافذ کیے، جس سے عوامی ناراضی میں اضافہ ہوا۔ نتیجتاً مختلف صوبوں میں حکومت مخالف مزاحمت کے آثار نمایاں ہونے لگے۔
اسی دوران میں حکومت نے اپنے مخالفین کے خلاف وسیع پیمانے پر گرفتاریاں شروع کر دیں۔ سیاسی کارکن، مذہبی شخصیات، قبائلی عمائدین، اساتذہ اور بعض سرکاری اہل کار بھی اس کارروائی کی زد میں آئے۔ متعدد بین الاقوامی تاریخی مطالعات کے مطابق اُس دور میں ہزاروں افراد قید، لاپتا یا ہلاک ہوئے۔ حکومت کا مؤقف تھا کہ وہ ’’جوابی انقلاب‘‘ کو روک رہی ہے، جب کہ ناقدین کے نزدیک یہ سخت گیر پالیسیاں خود عوامی مزاحمت کو بڑھانے کا سبب بنیں۔
ان حالات نے سوویت یونین کی قیادت کو بھی تشویش میں مبتلا کرنا شروع کر دیا۔ ماسکو نے افغانستان میں اپنے اتحادیوں کی کام یابی کا خیر مقدم کیا تھا، لیکن اب اُسے محسوس ہونے لگا کہ نئی حکومت بہت تیزی اور سختی سے فیصلے کر رہی ہے۔ سوویت مشیروں کی بعض رپورٹوں میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا کہ اگر یہی روش برقرار رہی، تو حکومت عوامی حمایت کھوسکتی ہے۔
اسی دوران میں ترکئی اور حفیظ اللہ امین کے تعلقات میں بھی دراڑیں نمودار ہونے لگیں۔ ابتدا میں دونوں ایک دوسرے کے قریبی ساتھی تھے، مگر اقتدار کی سیاست نے اعتماد کو کم زور کر دیا۔ امین کے حامی انھیں انقلاب کا اصل معمار قرار دیتے تھے، جب کہ ترکئی کے وفادار سمجھتے تھے کہ امین حد سے زیادہ طاقت اپنے ہاتھ میں جمع کر رہے ہیں۔ اختلاف آہستہ آہستہ خفیہ ملاقاتوں، الگ دھڑوں اور ایک دوسرے پر شبہات میں بدلنے لگا۔
کابل کے سیاسی حلقوں میں افواہیں گردش کرنے لگیں کہ حکومت کے اندر ایک اور انقلاب کی تیاری ہو رہی ہے۔ ایک طرف ترکئی اپنے اقتدار کو محفوظ بنانے کی کوشش کر رہے تھے، دوسری طرف امین ریاستی اداروں اور فوج میں اپنا اثر بڑھاتے جا رہے تھے۔ دونوں ایک دوسرے کے بغیر حکومت نہیں چلا سکتے تھے، لیکن دونوں ایک دوسرے پر مکمل اعتماد بھی نہیں کرتے تھے۔
ملک کے باہر بھی حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ مختلف سرحدی علاقوں میں حکومت مخالف مسلح مزاحمت منظم ہونا شروع ہوگئی تھی۔ مذہبی اور قبائلی قیادت حکومت کی پالیسیوں کو اسلام اور روایتی معاشرتی نظام کے لیے خطرہ قرار دے رہی تھی۔ یہ مزاحمت ابھی ابتدائی مرحلے میں تھی، مگر آنے والے برسوں میں یہی تحریک ایک بڑی جنگ کی بنیاد بننے والی تھی۔
1979 کے وسط تک کابل کی حکومت بہ ظاہر مضبوط نظر آتی تھی، لیکن حقیقت میں وہ تین محاذوں پر بہ یک وقت دباو کا شکار تھی۔ عوامی ناراضی، خلق اور پرچم کی باہمی دشمنی اور خود ’’خلق‘‘ کی قیادت کے اندر ترکئی اور امین کی بڑھتی ہوئی رقابت… ان میں سے ہر بحران دوسرے کو مزید گہرا کر رہا تھا۔
تاریخ کا پہیا ایک بار پھر تیزی سے گھوم رہا تھا۔ چند ماہ پہلے جو انقلاب کام یابی کی علامت سمجھا جا رہا تھا، اب اپنے ہی راہ نماؤں کے درمیان اقتدار کی جنگ میں تبدیل ہوچکا تھا۔ کابل کے ایوانوں میں سازشیں تیار ہو رہی تھیں۔ ماسکو میں تشویش بڑھ رہی تھی اور افغانستان کے دیہات میں بغاوت کی چنگاریاں شعلوں میں بدلنے لگی تھیں۔ کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اگلا موڑ نہ صرف ایک صدر کی جان لے گا، بل کہ ایک عالمی طاقت کو بھی بہ راہِ راست جنگ میں دھکیل دے گا۔ (جاری ہے)
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے