شاید ہی ’’جین ذی‘‘ (Generation Z or Gen Z) یقین کرے کہ پاکستان کے سیاسی ماضی میں اگر کسی طبقے نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، آمریتوں کے سامنے سینہ سپر ہوا، جمہوریت کی بہ حالی کی تحریکوں میں ہر اول دستے کا کردار ادا کیا اور نظریاتی سیاست کو زندہ رکھا، تو وہ طلبہ ہی تھے۔ آج کی نوجوان نسل کے لیے یہ بات شاید حیرت انگیز ہو کہ ایک وقت تھا، جب پاکستان کی جامعات صرف تعلیم کے مراکز نہیں، بل کہ سیاسی شعور، فکری مباحث، سماجی اصلاح اور جمہوری تربیت کی درس گاہیں بھی تھیں۔ طلبہ یونینیں محض انتخابات جیتنے یا ہاسٹل کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ نہیں تھیں، بل کہ وہ ملک کی سیاسی سمت متعین کرنے والی طاقت سمجھی جاتی تھیں۔
قیامِ پاکستان کے بعد نئی ریاست کو بے شمار مسائل کا سامنا تھا۔ مہاجرین کی آبادکاری، آئین سازی، معاشی بحران اور اداروں کی تشکیل جیسے چیلنج موجود تھے۔ انھی حالات میں جامعات کے نوجوان بھی ملکی سیاست میں سرگرم ہوئے۔ ابتدائی برسوں میں طلبہ کی تنظیمیں بنیادی طور پر تعلیمی سہولیات، لائبریریوں، ہاسٹلوں، ٹرانسپورٹ اور فیسوں کے مسائل پر آواز اٹھاتی تھیں، مگر جلد ہی انھوں نے قومی سیاسی معاملات میں بھی کردار ادا کرنا شروع کر دیا۔
1950 کی دہائی میں مختلف جامعات میں طلبہ یونینوں کے انتخابات ہونے لگے۔ یہ انتخابات نوجوانوں میں قیادت، برداشت، مکالمے اور جمہوری اقدار کو فروغ دیتے تھے۔ انھی یونینوں سے بعد میں ایسے راہ نما نکلے، جنھوں نے ملکی سیاست، صحافت، قانون، ادب اور انسانی حقوق کے میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔
اُسی دور میں پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست نے بھی نوجوانوں میں جگہ بنائی۔ عالمی سطح پر نوآبادیاتی نظام کے خاتمے، سوشلسٹ نظریات کے پھیلاو اور ترقی پسند تحریکوں کے اثرات پاکستان تک بھی پہنچے۔ مزدوروں، کسانوں اور طلبہ کے حقوق کی بات کرنے والی تنظیمیں وجود میں آئیں، جن میں سب سے نمایاں نام ’’نیشنل سٹوڈنٹس فیڈریشن‘‘ (NSF) تھا۔
این ایف ایس نے خود کو صرف ایک طلبہ تنظیم تک محدود نہیں رکھا، بل کہ تعلیم کے حق، جمہوریت، سماجی انصاف، طبقاتی مساوات، اظہارِ رائے کی آزادی اور آمریت کے خلاف مزاحمت کو اپنا منشور بنایا۔ اس تنظیم نے کراچی، لاہور، راولپنڈی، پشاور اور دیگر شہروں کی جامعات میں مضبوط بنیادیں قائم کیں۔ اس سے وابستہ طلبہ کا خیال تھا کہ تعلیم صرف ڈگری حاصل کرنے کا نام نہیں، بل کہ ایک باشعور معاشرہ تشکیل دینے کا ذریعہ ہے۔
1953 میں طلبہ نے تعلیمی مسائل کے خلاف بھرپور احتجاج کیا۔ اُن مظاہروں پر ریاستی طاقت کا استعمال ہوا، گرفتاریاں ہوئیں اور متعدد طلبہ زخمی ہوئے۔ انھی واقعات نے نوجوانوں کو یہ احساس دلایا کہ منظم جدوجہد ہی حقوق کے حصول کا راستہ ہے۔
اُسی زمانے میں بائیں بازو کے علاوہ دیگر نظریاتی طلبہ تنظیمیں بھی سامنے آئیں۔ ہر تنظیم کا اپنا سیاسی اور فکری نقطۂ نظر تھا، لیکن ایک قدر مشترک تھی کہ جامعات میں مباحثے، سیمینار، مکالمے اور انتخابی مقابلے علمی ماحول کو فروغ دیتے تھے۔ اختلاف کے باوجود سیاسی برداشت نسبتاً زیادہ تھی اور طلبہ سیاست کو جمہوری تربیت کا ذریعہ سمجھا جاتا تھا۔
1958 میں جنرل محمد ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا، تو ملک کی سیاسی جماعتوں کے ساتھ ساتھ طلبہ تحریک بھی دباو کا شکار ہوئی۔ آمریت ہر اُس آواز سے خوف زدہ تھی، جو عوامی شعور کو بیدار کرسکتی تھی۔ اس لیے جامعات پر بھی سخت نگرانی شروع ہوئی… لیکن نوجوانوں نے خاموشی اختیار نہ کی۔ یہی وہ مرحلہ تھا، جہاں طلبہ سیاست صرف تعلیمی مطالبات تک محدود نہ رہی، بل کہ آمریت اور جمہوریت کی کش مہ کش کا حصہ بن گئی۔
ایوب خان کے دور میں طلبہ تحریک مزید منظم ہوئی۔ اگرچہ حکومت نے پابندیوں، گرفتاریوں اور انتظامی دباو کے ذریعے انھیں محدود کرنے کی کوشش کی، لیکن یونیورسٹی کیمپس سیاسی آگاہی کے مراکز بن چکے تھے۔ نوجوان نسل سمجھ چکی تھی کہ تعلیمی آزادی اور سیاسی آزادی ایک دوسرے سے جدا نہیں۔
یہی وہ بنیاد تھی، جس پر آیندہ برسوں میں طلبہ نے جنرل ایوب خان کی حکومت کے خلاف ملک گیر تحریک میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ اس تحریک نے نہ صرف آمریت کو ہلا کر رکھ دیا، بل کہ پاکستان کی سیاست میں طلبہ کو ایک ایسی قوت کے طور پر منوایا، جسے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا تھا۔
ایوب خان کے دورِ آمریت کے خلاف جب سیاسی بے چینی بڑھتی گئی، تو طلبہ تحریک نے ایک فیصلہ کن موڑ اختیار کیا۔ جامعات کے کیمپس جو پہلے صرف تعلیمی اور فکری سرگرمیوں تک محدود تھے، اب احتجاجی سیاست کے مراکز بن چکے تھے۔ طلبہ نے نہ صرف تعلیمی مسائل، بل کہ ملک میں بڑھتی ہوئی آمریت، سیاسی جبر اور عوامی حقوق کی پامالی کے خلاف بھی آواز بلند کرنا شروع کر دی۔
1968 اور 1969 کی ملک گیر تحریک میں طلبہ کا کردار غیر معمولی تھا۔ یہ وہ وقت تھا، جب مزدور، کسان، وکلا اور سیاسی کارکن سب ایک ہی لہر میں شامل ہوگئے تھے… اور طلبہ اس تحریک کی ریڑھ کی ہڈی بن گئے تھے۔ مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاجی جلوسوں میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک ہوتی۔ کئی مواقع پر یہی طلبہ پولیس کے تشدد کا سامنا کرتے ہوئے صفِ اول میں کھڑے نظر آتے۔
اس تحریک نے بالآخر ایوب خان کے اقتدار کے خاتمے میں اہم کردار ادا کیا… لیکن اس کام یابی کے باوجود طلبہ سیاست کے لیے آنے والے دن آسان نہ تھے۔ اقتدار کی تبدیلی کے بعد بھی ریاستی پالیسیوں میں وہ بنیادی تبدیلی نہ آسکی جس کی طلبہ اور عوام توقع کر رہے تھے۔
1970 کی دہائی میں جب ملک ایک نئے سیاسی دور میں داخل ہوا، تو طلبہ یونینیں مزید منظم اور نظریاتی طور پر متنوع ہوگئیں۔ بائیں بازو کی تنظیموں کے ساتھ ساتھ مذہبی اور قوم پرست طلبہ گروہ بھی سرگرم ہوگئے۔ جامعات میں سیاسی مقابلہ آرائی بڑھ گئی، لیکن اس کے باوجود طلبہ سیاست ایک زندہ حقیقت کے طور پر موجود رہی۔
1971 کے سانحۂ مشرقی پاکستان نے پورے ملک کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ اس واقعے کے بعد طلبہ میں بھی ایک گہری فکری تبدیلی پیدا ہوئی۔ کئی طلبہ تنظیموں نے ریاستی پالیسیوں پر تنقید کو مزید واضح اور منظم انداز میں شروع کیا، جب کہ کچھ نے نظریاتی طور پر نئے راستے اختیار کیے۔
ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں طلبہ یونینوں کو نسبتاً زیادہ آزادی ملی۔ اُس دور میں جامعات میں سیاسی سرگرمیاں عروج پر تھیں۔ طلبہ یونین کے انتخابات باقاعدگی سے ہوتے اور کیمپس میں مباحثے، جلسے اور نظریاتی مکالمے عام تھے۔ تاہم اُسی دور میں طلبہ سیاست کے اندر گروہی تصادم بھی بڑھنے لگا، جس نے بعد میں اس تحریک کے لیے نئے چیلنج پیدا کیے۔
1977 کے بعد جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے طلبہ سیاست کے لیے ایک نیا اور سخت دور شروع کیا۔ اُس دور میں سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں لگائی گئیں اور جامعات میں نگرانی کا نظام مزید سخت کر دیا گیا۔ مذہبی تنظیموں کو نسبتاً زیادہ گنجایش ملی، جب کہ بائیں بازو کی طلبہ تنظیمیں شدید دباو کا شکار ہوگئیں۔ یہی وہ دور تھا، جب طلبہ یونینیں بہ تدریج کم زور ہونا شروع ہوئیں۔ اگرچہ مکمل طور پر ان کا خاتمہ فوری طور پر نہیں ہوا، لیکن ان کی سیاسی قوت اور تنظیمی ڈھانچا متاثر ہونے لگا۔ کیمپس کی سیاست میں تشدد، گروہ بندی اور بیرونی مداخلت کے اثرات بھی بڑھنے لگے، جس نے طلبہ سیاست کی اصل روح کو نقصان پہنچایا۔
یوں وہ تحریک جو کبھی جمہوریت، شعور اور فکری آزادی کی علامت سمجھی جاتی تھی، آہستہ آہستہ زوال کی طرف بڑھنے لگی۔ تاہم اس کے اثرات اور یادیں آج بھی پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہیں، جو یہ بتاتے ہیں کہ نوجوان اگر منظم ہوں، تو وہ تاریخ کا رُخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










