ہمارے ہاں کچھ چیزوں کو ’’سٹیٹس سمبل‘‘ کا درجہ حاصل ہے اور کچھ فیشن اور ماحول کے زیرِ اثر اچھے یا برے سمجھے جاتے ہیں… جس میں شراب (الکحل) کا استعمال بھی ہے۔
مذاہبِ عالم شراب نوشی کو ممنوع قرار دیتے ہیں… مگر ہم اس تحریر میں شراب کی تاریخی، سماجی، سائنسی اور طبی اطراف کو دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
شراب نوشی انسانی تاریخ کے قدیم ترین سماجی رویوں میں سے ایک ہے۔ ہزاروں سال پہلے مختلف تہذیبوں میں خمیر شدہ مشروبات مذہبی رسومات، سماجی تقریبات، تجارتی سرگرمیوں اور روزمرہ زندگی کا حصہ رہے ہیں۔ تاہم جدید دور میں شراب صرف ایک ثقافتی یا تفریحی شے نہیں رہی، بل کہ یہ عالمی سطح پر ایک اہم طبی، سماجی، معاشی اور عوامی صحت کا مسئلہ بن چکی ہے۔
آج دنیا بھر کے طبی ماہرین، ماہرینِ نفسیات، ماہرینِ امراضِ قلب، جگر کے ماہرین اور عوامی صحت کے ادارے شراب نوشی کے اثرات کا مسلسل مطالعہ کر رہے ہیں، تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ یہ انسانی جسم، ذہن اور معاشرے کو کس حد تک متاثر کرتی ہے۔ سادہ الفاظ میں شراب نوشی سے مراد ایسے مشروبات کا استعمال ہے، جن میں الکحل، خصوصاً ’’ایتھانول‘‘ (Ethanol)، موجود ہو۔
’’ایتھانول‘‘ ایک نفسیاتی اثر رکھنے والا کیمیائی مادہ ہے، جو مرکزی اعصابی نظام کو متاثر کرتا ہے۔ شراب پینے کے بعد یہ معدے اور آنتوں سے جذب ہوکر خون میں شامل ہوتی ہے اور چند منٹوں میں دماغ تک پہنچ جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انسان کے رویے، فیصلے کرنے کی صلاحیت، یادداشت، ردِعمل کی رفتار اور جذباتی کیفیت میں تبدیلی آنا شروع ہو جاتی ہے۔
شراب کی متعدد اقسام ہیں، جنھیں عام طور پر الکحل کی مقدار، تیاری کے طریقے اور خام مال کی بنیاد پر تقسیم کیا جاتا ہے۔
بیئر (Beer):۔ بیئر دراصل جو، گندم یا دوسرے اناج سے تیار کی جاتی ہے اور اس میں نسبتاً کم الکحل ہوتی ہے۔
وائن (Wine):۔ یہ انگور یا دیگر پھلوں کے خمیر سے بنتی ہے۔
سپرٹس (Spirits):۔ سپرٹس یا کشید شدہ شراب میں وہسکی، ووڈکا، رَم، جن، ٹیکیلا اور برانڈی شامل ہیں، جن میں الکحل کی مقدار زیادہ ہوتی ہے۔
ان اقسام کے علاوہ مختلف علاقوں میں مقامی طور پر تیار ہونے والی روایتی شرابیں بھی موجود ہیں۔ اگرچہ ان کے نام اور تیاری کے طریقے مختلف ہوتے ہیں، عام طور پر معروف نام ’’ٹھرّا‘‘ ہے، جو دیسی طریقے سے خمیر شدہ اجزا سے تیار ہوتا ہے، یا اب جدید دور میں مشین کچھ اس طرح کی خدمات دیتی ہے… لیکن جسم پر ان کے بنیادی حیاتیاتی اثرات تقریباً ایک جیسے ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اصل فعال جز ’’ایتھانول‘‘ ہی ہوتا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق شراب جسم کے تقریباً ہر عضو کو متاثر کرتی ہے، لیکن سب سے زیادہ اثر دماغ، جگر، دل، لبلبے، معدے اور مدافعتی نظام پر پڑتا ہے۔ ابتدا میں بعض افراد کو سکون، خوشی، بے فکری یا اعتماد میں اضافے کا احساس ہوتا ہے، جس کو طبی یوپوریا کہتے ہیں۔ الکحل استعمال کرنے والا وہ محسوس نہیں کرتا, جو دراصل ہوتا ہے… بل کہ وہ محسوس کرتا ہے، جو اُس کا تخیل پیش کرتی ہے… لیکن یہ خوش کن اثرات عارضی ہوتے ہیں۔
الکحل دراصل دماغی خلیات کے درمیان پیغامات کی ترسیل کو سست کرتی ہے، جس کے نتیجے میں سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔
جگر شراب کے نقصان کا سب سے بڑا شکار بنتا ہے۔ کیوں کہ یہی عضو الکحل کو توڑنے اور جسم سے خارج کرنے کا کام کرتا ہے۔ مسلسل شراب نوشی جگر میں چربی جمع ہونے، الکحلک ہیپاٹائٹس، جگر کے سکڑنے یعنی سیروسس اور بالآخر جگر کے ناکارہ ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ دنیا بھر میں جگر کی متعدد سنگین بیماریوں کی ایک بڑی وجہ شراب نوشی سمجھی جاتی ہے۔ اس لیے جن لوگوں کو جگر کا کسی قسم کا مسئلہ ہو، اُن کے لیے الکوحلک مشروبات استعمال کرنا زہر قاتل ثابت ہوسکتے ہیں۔
شراب، دل اور خون کی شریانوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ اگرچہ ماضی میں بعض مشاہداتی مطالعات میں یہ خیال پیش کیا گیا تھا کہ بہت کم مقدار میں شراب بعض افراد میں دل کے امراض کے خطرات کم کرسکتی ہے… لیکن جدید طبی تحقیق اس دعوے کو بہت احتیاط سے دیکھتی ہے۔ حالیہ برسوں میں متعدد بڑی تحقیقات نے واضح کیا ہے کہ شراب کو دل کی صحت کے لیے بہ طورِ دوا یا حفاظتی تدبیر تجویز نہیں کیا جاسکتا۔ صحت مند زندگی کے لیے ورزش، متوازن غذا، مناسب نیند اور تمباکو نوشی سے پرہیز کہیں زیادہ مؤثر اور محفوظ طریقے ہیں۔
میڈیکل سائنس کی جدید رائے یہ ہے کہ شراب کی کوئی بھی مقدار مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دی جاسکتی۔ عالمی سطح پر ہونے والی بڑی آبادیاتی تحقیقات کے مطابق شراب مختلف اقسام کے سرطان، خصوصاً منھ، حلق، غذائی نالی، جگر، بڑی آنت اور چھاتی کے سرطان کے خطرات میں اضافہ کرسکتی ہے۔ اسی وجہ سے دنیا کے کئی صحتِ عامہ کے ادارے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جتنا کم الکحل استعمال کیا جائے اتنا بہتر ہے۔
شراب، ذہنی صحت پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اگرچہ بعض لوگ ذہنی دباو، اداسی یا بے خوابی سے وقتی نجات کے لیے شراب استعمال کرتے ہیں، لیکن طویل مدت میں یہ اضطراب، ڈپریشن، یادداشت کی خرابی، مزاج کی بے اعتدالی اور انحصار یا لت پیدا کرنے کا سبب بن سکتی ہے۔ بعض افراد میں شراب نوشی خود کُشی کے خطرات اور خطرناک رویّوں میں بھی اضافہ کرتی ہے۔
معاشرتی سطح پر شراب نوشی کے اثرات صرف پینے والے فرد تک محدود نہیں رہتے۔ گھریلو تشدد، خاندانی تنازعات، ازدواجی مسائل، بچوں کی نفسیاتی مشکلات، سڑکوں کے حادثات، جرائم، کام کی جگہ پر پیداوار میں کمی اور معاشی نقصانات جیسے مسائل اس سے وابستہ پائے گئے ہیں۔ عالمی سطح پر حکومتیں ہر سال اربوں ڈالر ان مسائل سے نمٹنے پر خرچ کرتی ہیں۔
جہاں تک شراب نوشی کے فوائد کا تعلق ہے، تو یہ موضوع اکثر غلط فہمیوں کا شکار رہتا ہے۔ ماضی میں ’’ریڈ وائن‘‘ (سرخ شراب) کے بارے میں یہ تصور عام ہوا کہ اس میں موجود بعض نباتاتی مرکبات دل کے لیے مفید ہیں، لیکن موجودہ طبی رائے یہ ہے کہ ان مفید اجزا کو بغیر شراب کے بھی پھلوں، سبزیوں اور متوازن غذا سے حاصل کیا جاسکتا ہے۔ طبی ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی ایسے شخص کو جو شراب نہیں پیتا، محض ممکنہ فوائد کی بنیاد پر شراب شروع کرنے کا مشورہ نہیں دیا جانا چاہیے۔
میڈیکل سٹڈیز یہ بھی بتاتی ہیں کہ شراب کا اثر ہر انسان میں یک ساں نہیں ہوتا۔ عمر، جنس، جسمانی وزن، جینیاتی عوامل، ادویہ کا استعمال، جگر کی صحت، غذائی عادات اور مجموعی طرزِ زندگی اس کے اثرات کو بدل سکتے ہیں۔ حاملہ خواتین کے لیے شراب نوشی خاص طور پر خطرناک سمجھی جاتی ہے۔ کیوں کہ یہ رحم میں موجود بچے کی جسمانی اور ذہنی نشو و نما کو متاثر کرسکتی ہے۔
شراب کی لت ایک تسلیم شدہ طبی عارضہ ہے، جسے طبی زبان میں ’’الکحل یوز ڈس آرڈر‘‘ (Alcohol Use Disorder) کہا جاتا ہے۔ یہ محض قوتِ ارادی کی کم زوری نہیں، بل کہ ایک پیچیدہ حیاتیاتی، نفسیاتی اور سماجی مسئلہ ہے۔ اس کے علاج میں ماہرِ نفسیات، نشہ چھوڑنے کے ماہرین، ادویہ، مشاورت، خاندانی تعاون اور بہ حالی کے پروگرام اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
جدید میڈیکل سائنس کا مجموعی پیغام واضح ہے کہ شراب نوشی کو بے ضرر یا صحت بخش عادت سمجھنا درست نہیں۔ اگر کوئی شخص شراب استعمال نہیں کرتا، تو اسے محض ممکنہ فوائد کی خاطر شروع نہیں کرنا چاہیے… اور اگر کوئی شخص شراب نوشی کرتا ہے، تو اس کے استعمال میں کمی یا اس سے مکمل اجتناب اس کی مجموعی صحت کے لیے زیادہ محفوظ راستہ سمجھا جاتا ہے۔ صحت مند معاشرہ صرف بیماریوں کے علاج سے نہیں، بل کہ اُن عوامل کی روک تھام سے تشکیل پاتا ہے، جو جسم، ذہن اور سماج کو طویل مدت میں نقصان پہنچاتے ہیں۔ شراب نوشی انھی عوامل میں سے ایک ہے، جس کے بارے میں آگاہی، سائنسی شعور اور احتیاط آج پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوچکی ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










