پاکستان میں ’’ثقافتی تاخیر‘‘ کا بحران

Blogger Zubair Torwali

امریکی ماہرِ عُمرانیات ’’ولیم فیلڈنگ اوگبرن‘‘  (William Fielding Ogburn) نے اپنی تصنیف Social Change with Respect to Culture and Original Nature میں ”ثقافتی تاخیر‘‘ (Cultural Lag) کا تصور پیش کیا ہے۔ مذکورہ تصور کے مطابق مادی ثقافت (جیسے ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر، تعمیرات اور مادی اشیا)، غیر مادی ثقافت (یعنی اقدار، سماجی روایات، عقائد، قوانین اور اخلاقی نظام) کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے ترقی کرتی ہے۔
اوگبرن کے مطابق مادی ترقی اکثر تیز رفتاری سے آگے بڑھتی ہے، جب کہ سماجی رویے اور فکری ڈھانچے ماضی کے سانچوں میں جکڑے رہتے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف سماجی مسائل جنم لیتے ہیں۔
اوگبرن کے نظریے کی بنیاد، مادی ثقافت اور غیر مادی ثقافت کے درمیان فرق پر قائم ہے۔ مادی ثقافت میں ٹیکنالوجی، انفراسٹرکچر اور دیگر مادی ایجادات شامل ہیں، جب کہ غیر مادی ثقافت میں اقدار، سماجی ضابطے، قوانین، اخلاقیات اور عقائد شامل ہوتے ہیں۔ جب مادی ثقافت تیزی سے بدلتی ہے اور غیر مادی ثقافت اُس رفتار سے خود کو ہم آہنگ نہیں کر پاتی، تو ’’ثقافتی تاخیر‘‘ پیدا ہوتی ہے۔ اس کے نتیجے میں سماجی کشیدگی، اخلاقی ابہام اور ادارہ جاتی بے ترتیبی جنم لیتی ہے۔ کیوں کہ سماجی ادارے اور اخلاقی نظام نئی مادی حقیقتوں کے مطابق خود کو ڈھالنے میں دشواری محسوس کرتے ہیں۔
معاصر پاکستانی معاشرہ اس کش مہ کش کی ایک نمایاں مثال ہے۔ انٹرنیٹ، ڈیجیٹل میڈیا، سوشل میڈیا، جدید اسمارٹ فونز، بڑے پیمانے کے ترقیاتی منصوبوں اور مشینی زراعت نے پاکستان کے مادی منظرنامے کو یک سر بدل دیا ہے۔ اس کے برعکس سماجی شعور، خاندانی ضابطے، قانونی فریم ورک اور سماجی اقدار اسی رفتار سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ نتیجتاً ایک ایسا تضاد پیدا ہوا ہے، جہاں 21ویں صدی کے اوزار تو موجود ہیں، مگر ذہنیت کئی معاملات میں 18ویں صدی میں رُکی ہوئی ہے۔ یہ تضاد شمالی پاکستان کی بلند وادیوں سے لے کر سندھ اور پنجاب کے جاگیردارانہ میدانوں تک تقریباً ہر طبقے اور خطے میں موجود ہے۔
اس عدم توازن کو سمجھنے کے لیے چند مثالیں کافی ہیں۔
پشتون معاشرے میں ”ثقافتی تاخیر“ کی ایک واضح شکل دیکھی جاسکتی ہے، جہاں جدید اطلاعاتی ٹیکنالوجی صدیوں پرانے سماجی اور اخلاقی ضابطۂ حیات یعنی پشتونولی، سے بہ راہِ راست ٹکراتی ہے۔ پشتون غیر مادی ثقافت میں ”پردہ“ اور ’’ننگ/ غیرت‘‘ جیسے تصورات بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ نسلوں تک ان اقدار کو مخصوص سماجی اور مکانی حدود کے ذریعے برقرار رکھا گیا، مثلاً: حجرہ بہ طور مردانہ عوامی جگہ اور گھر بہ طور نجی دائرہ۔
تاہم گذشتہ ایک دہائی میں اسمارٹ فونز اور سوشل میڈیا کے پھیلاو نے ان حدود کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔ اب عوامی دنیا گھر کے اندر تک داخل ہوچکی ہے۔ جب ٹیکنالوجی خصوصاً خواتین کو ٹک ٹاک، فیس بک، یوٹیوب اور ایکس جیسے عالمی پلیٹ فارمز پر اپنی موجودگی قائم کرنے کا موقع دیتی ہے، تو غیر مادی ثقافت جو اس رفتار سے خود کو تبدیل نہیں کر پاتی… ان سرگرمیوں کو روایتی عزت و غیرت کے پیمانوں سے جانچتی ہے۔ نتیجتاً عزت کے نام پر قتل، قبائلی تنازعات، مسلسل نگرانی اور سماجی فیصلے سامنے آتے ہیں۔ ٹیکنالوجی تو بدل گئی، مگر عزت و غیرت کے روایتی تصورات بڑی حد تک وہی رہے۔
شمالی پاکستان کے بلند پہاڑی علاقوں، مثلاً: سوات، انڈس کوہستان، چترال اور گلگت بلتستان میں بھی ثقافتی تاخیر ایک ماحولیاتی بحران کی صورت اختیار کرچکی ہے۔ صدیوں تک یہاں کی مقامی اور مقامی النسل/ آبائی (Indigenous) برادریوں کی غیر مادی ثقافت دراصل ماحول دوست دانش، زبانی روایات اور رسمی قوانین پر مبنی تھی، جو قدرتی وسائل کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بناتے تھے۔ ان کے لیے پہاڑ، دریا اور جنگلات محض وسائل نہیں، بل کہ بقا کے مقدس ستون تھے… لیکن حالیہ برسوں میں ریاستی منصوبوں اور عالمی سرمایہ کاری نے ان علاقوں میں بڑے پیمانے پر تبدیلیاں متعارف کروائی ہیں۔ بڑے ڈیم، پن بجلی کے منصوبے، تجارتی سیاحت اور شاہ راہوں کے جال نے مادی ثقافت کو تیزی سے بدل دیا ہے۔ اس کے مقابلے میں مقامی برادریوں کے پاس وہ قانونی، تکنیکی اور انتظامی صلاحیتیں موجود نہیں، جو اُنھیں اس سرمایہ دارانہ یلغار کا مؤثر جواب دینے کے قابل بنائیں۔ جرگہ یا ’’یرک‘‘ (توروالی زبان کا لفظ) جیسے روایتی ادارے جو مقامی تنازعات حل کرنے میں مؤثر تھے، اب کارپوریٹ سرمایہ، منڈی کی معیشت اور پیچیدہ ترقیاتی تنازعات سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ مزید یہ کہ پارٹی سیاست اس کمزوری کو اور بڑھاتی ہے کیونکہ اس کا بنیادی مقصد ووٹ حاصل کرنا ہوتا ہے نہ کہ اجتماعی مفاد، اخلاقی ذمے داری یا سماجی یک جہتی کو فروغ دینا۔
جب تک یہ برادریاں نئے قانونی فریم ورک، نئے سماجی ضابطے اور نئے دفاعی طریقۂ کار اختیار کرتی ہیں، تب تک اکثر اُن کی زمینیں حاصل کی جاچکی ہوتی ہیں، دریا موڑے جاچکے ہوتے ہیں، زبانیں کم زور ہوچکی ہوتی ہیں اور ماحولیاتی توازن متاثر ہوچکا ہوتا ہے۔ یہ تیز رفتار مادی ترقی اور سست سماجی موافقت کے درمیان ایک الم ناک تصادم ہے۔
پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں بھی یہی بحران ایک مختلف صورت میں سامنے آتا ہے۔ گذشتہ چند دہائیوں میں زراعت بڑی حد تک مشینی ہوچکی ہے۔ کمبائن ہارویسٹر، لیزر لینڈ لیولر، خودکار ٹیوب ویل اور جدید کیمیائی کھادوں نے زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ کیا ہے۔ بیلوں سے ہل چلانے کے روایتی طریقے جدید مشینری نے لے لیے ہیں۔ اس کے باوجود زرعی معاشرے کا غیر مادی ڈھانچا بڑی حد تک قرونِ وسطیٰ کے سماجی رشتوں پر قائم ہے۔ وڈیروں اور زمین داروں کا غلبہ برقرار ہے۔ نسلی قرض داری، ذات پات، برادریوں کے جال اور کسانوں (ہاریوں اور کمیوں) اور جاگیرداروں کے درمیان طاقت کا عدم توازن آج بھی موجود ہے۔ کسان 21ویں صدی کی مشینری استعمال کرتے ہیں، مگر ان سے اطاعت کی توقعات صدیوں پرانے جاگیردارانہ نظام کے مطابق کی جاتی ہیں۔ مادی اوزار بدل گئے ہیں، مگر سماجی درجہ بندی اور سرپرستی کے نظام بہ دستور قائم ہیں۔
یہ ’’تاخیر‘‘ صرف سماجی نہیں، بل کہ سیاسی بھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آزاد اور منصفانہ جمہوری شرکت محدود رہتی ہے اور سیاسی خاندانوں کی گرفت مضبوط رہتی ہے۔ یہ خاندان اکثر ریاستی طاقت کے مراکز کے ساتھ ہم آہنگ رہتے ہیں اور جمہوری اقدار کے فروغ میں رکاوٹ بنتے ہیں۔
تحریر کے آغاز میں اوگبرن کا بیان شدہ نظریہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانی معاشرے سیدھی لکیر میں ترقی نہیں کرتے۔ پاکستان میں موجود سماجی بے چینی، سیاسی کشیدگی اور اجتماعی اضطراب دراصل ثقافتی تاخیر کے فطری نتائج ہیں۔ ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کو روکا نہیں جاسکتا اور نہ روکنا ہی چاہیے۔ اصل ضرورت اس امر کی ہے کہ غیر مادی ثقافت میں تبدیلی کو شعوری، منظم اور تیز تر بنایا جائے۔
ڈیجیٹل دور کے تقاضوں کے مطابق عدالتی اور قانونی نظام کو جدید بنایا جاسکتا ہے… لیکن پاکستان میں اکثر صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔  یہاں بعض اوقات ثقافتی تاخیر کو دانستہ طور پر برقرار رکھا جاتا ہے، جس سے معاشرہ ایک شیطانی دائرے میں پھنسا رہتا ہے۔
تعلیمی نظام کو رٹّے سے تنقیدی سوچ کی طرف منتقل ہونا چاہیے، مگر اسے اکثر اسی تاخیر کو برقرار رکھنے کے آلے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
ڈیجیٹل میڈیا سماجی تبدیلی کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے، مگر اسے اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ پھلنے پھولنے نہیں دیا جاتا۔
مقامی قیادت کو جدید انتظامی اور قانونی اوزاروں سے لیس ہونا چاہیے، تاکہ وہ ریاست اور عالمی سرمایہ کے ساتھ مؤثر مذاکرات کرسکے، لیکن بعض اوقات ایسے قوانین وضع کیے جاتے ہیں، جو تاریخ کے پہیے کو پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اگر مادی ترقی اور سماجی شعور کے درمیان یہ خلیج برقرار رہی، تو پاکستانی معاشرہ مزید انتشار کا شکار ہوگا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اجتماعی شعور کو بیدار اور متحرک کیا جائے، تاکہ وہ ٹیکنالوجی اور مادی ترقی کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہوسکے۔ بہ صورتِ دیگر ’’ثقافتی تاخیر‘‘ پاکستان کے سماجی، سیاسی اور ماحولیاتی بحرانوں کو مزید گہرا کرتی رہے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے