کون نہیں جانتا کہ جب مسلم لیگ کے خان بہادروں، سر کا خطاب پانے والوں، جاگیرداروں اور وڈیروں نے انگریز کی تن خواہ دار بیوروکریسی کے ساتھ سیاسی اتحادی بنایا، تو پہلا وار عوامی مقبول لیڈروں پر کیا گیا۔ پاکستان میں ایسے الزامات اور مذموم روایات کا آغاز قیامِ پاکستان کے ساتھ ہوا۔ یہ عمل آج تک کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔
محب وطن سیاسی راہ نماؤں پر غداری کے الزامات کا استعمال، سیاسی مخالفین کو دبانے، جمہوری عمل کو کم زور کرنے اور اختلافِ رائے کو کچلنے کے لیے ایک پرانا ہتھ کنڈا ہے۔ ایسے الزامات ملک کے آئینی اور سیاسی استحکام کے لیے شدید نقصان دِہ ثابت ہوئے۔ پاکستان کی سیاسی تاریخ گواہ ہے کہ اکثر اُن راہ نماؤں کو غدار قرار دیا گیا، جو عوامی حقوق، آئینی بالادستی اور جمہوریت کی بہ حالی کے لیے کوشاں رہے۔
حسین شہید سہروردی، جنھوں نے مشرقی بنگال کو پاکستان میں شامل کیا، پہلے محبِ وطن قرار پائے، پھر غداری کا سرٹیفکیٹ تھما دیا گیا۔ بعد ازاں وزیرِ اعظم بنے اور بیروت میں بہ طور ’’غدار‘‘ وفات پائی۔
جون 1948ء میں خان عبدالغفار خان، اُن کے بیٹے خان عبدالولی خان اور سیکڑوں ساتھیوں کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا گیا اور خدائی خدمت گار تنظیم پر پابندی لگا دی گئی۔
جنرل یحییٰ خان نے 27 نومبر 1971ء کو عوامی نیشنل پارٹی کو ملک دشمن قرار دے کر کالعدم کیا، مگر ذوالفقار علی بھٹو نے اقتدار سنبھالتے ہی اسے واپس بہ حال کر دیا۔ تاہم بعد میں بھٹو نے پھر بھی اُسے غدار قرار دیا۔ 1975ء میں خان عبدالولی خان پر حیات شیرپاؤ کے قتل اور غداری کا مقدمہ درج ہوا اور عوامی نیشنل پارٹی پر پابندی لگائی گئی، مگر جنرل ضیاء الحق نے 1978ء میں سیاسی مفاہمت کے تحت رہائی دی۔
جی ایم سید، جو تحریکِ پاکستان کے اہم راہ نما تھے اور قراردادِ لاہور میں مرکزی کردار ادا کیا، بعد میں غداری اور ملک توڑنے کے الزام میں نشانہ بنے۔
جنرل ایوب خان نے 1958ء میں شیخ مجیب الرحمان سمیت عوامی لیگ کی قیادت کو ’’انڈین ایجنٹ‘‘ قرار دے کر اگرتلہ سازش کیس بنایا۔ عوامی لیگ کے مینڈیٹ کو تسلیم نہ کیا گیا، نتیجتاً مشرقی پاکستان ’’بنگلہ دیش‘‘ بن گیا۔
1978ء میں خان عبدالولی خان نے بی بی سی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ جب تک پنجاب اپنی قیادت پیدا نہیں کرتا، پاکستان کی سیاست میں توازن ممکن نہیں۔ اُن کے مطابق جمہوریت مضبوط ہوگی، تو چھوٹے صوبوں کے حقوق محفوظ رہیں گے۔
اکبر بھٹی، جو زندگی بھر اسٹیبلشمنٹ نواز سمجھے جاتے تھے، آخر میں غدار ٹھہرے۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف بھی کسی وقت مقتدرہ کی نظر میں ’’سیکورٹی رسک‘‘ رہے، مگر دونوں وزیرِ اعظم منتخب ہوئے۔ عمران خان، جو ابتدا میں محبِ وطن قرار پائے، جب حقیقی وزیرِ اعظم کی طرح فیصلے کرنے لگے، تو اُن پر ملکی سالمیت دشمنی اور لاقانونیت کے الزامات لگے۔
مولانا مودودی، فیض احمد فیضؔ، حسین حقانی، عاصمہ جہانگیر، نجم سیٹھی اور حامد میر سمیت درجنوں شخصیات پر بھی ایسے الزامات لگائے گئے۔
پاکستان کے زیرِ انتظام آزاد کشمیر میں 27 جولائی کے انتخابات سے قبل حکومت نے جموں کشمیر جائنٹ ایکشن کمیٹی کو کالعدم قرار دے کر اُس کے راہ نماؤں کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ کے تحت فہرست میں شامل کر دیا۔ کشمیری حکومت کا دعوا ہے کہ کمیٹی دہشت گردی میں ملوث ہے، مگر سینٹر مشاہد حسین سید نے اسے غلط قرار دیا اور کہا کہ اختلافِ رائے کو دبانے کے لیے ماضی کی غلطیاں دہرائی جا رہی ہیں۔
اچھنبے کی بات یہ ہے کہ سیاسی عمائدین پر غداری کے مقدمات اُس وقت بنائے گئے، جب بھی کسی نے عوامی حقوق، آئین کی پاس داری اور سیاسی استحکام کی بات کی۔ حیران کن امر یہ بھی ہے کہ خفیہ اداروں کو اُن کی سرگرمیوں کا علم کبھی نہ ہوا، مگر اچانک الزامات لگا دیے گئے، جو کبھی ثابت نہ ہوسکے۔
آج بھی یہی روش جاری ہے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










