پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ نام ایسے بھی ہیں، جو کسی بڑے عہدے، کسی اسمبلی کی نشست یا کسی وزارت کے باعث نہیں پہچانے جاتے۔ وہ اس لیے یاد رکھے جاتے ہیں کہ انھوں نے ایک مشکل زمانے میں ایک مشکل راستہ اختیار کیا تھا۔ ایسا راستہ جس میں اقتدار نہیں ہوتا، مگر یقین ہوتا ہے… شہرت نہیں ہوتی، مگر ایک نظریہ ہوتا ہے۔ سی آر اسلم انھی لوگوں میں سے تھے۔ اگر پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست، مزدور تحریک اور ترقی پسند فکر کی پوری تاریخ کو ایک طویل داستان سمجھا جائے، تو اس داستان کے کئی موڑ ایسے ہیں، جہاں یہ نام خاموشی سے سامنے آتا ہے، جیسے کسی پرانی یاد کا چراغ جو ابھی بجھا نہیں۔
1913 میں پنجاب کے قصبے شاہکوٹ میں پیدا ہونے والے چوہدری رحمت اللہ اسلم (سی آر اسلم) کا زمانہ ایک عجیب تاریخی ہلچل کا زمانہ تھا۔ دنیا ابھی پہلی عالمی جنگ کے اثرات سے نکل رہی تھی، روس میں انقلاب برپا ہوچکا تھا اور نوآبادیاتی دنیا میں آزادی کی تحریکیں مچل رہیں تھیں۔ لاہور آکر تعلیم حاصل کرنے والے اس نوجوان نے جلد ہی محسوس کیا کہ سیاست صرف حکومتیں بدلنے کا نام نہیں، بل کہ اصل میں معاشروں کو بدلنے کی جد و جہد ہے۔ مارکس ازم اور سوشلسٹ نظریات اُس زمانے کے نوجوان ذہنوں کو اپنی طرف کھینچ رہے تھے اور اسلم بھی ان خیالات کی طرف مائل ہوگئے۔ یہی وہ مرحلہ تھا، جب انھوں نے کمیونسٹ سیاست کو اپنی زندگی کا راستہ بنالیا۔
1940 کی دہائی میں جب انھوں نےکمیونسٹ پارٹی میں شمولیت اختیار کی، تو ان کی سیاست کا مرکز کسی دانش گاہ کی علمی بحث نہیں، بل کہ مزدوروں کی عملی زندگی بن گئی۔ فیکٹریوں کے گیٹ، ریلوے ورک شاپ اور مزدور بستیاں ان کی سیاست کا اصل میدان تھے۔ اس زمانے میں مزدوروں کے حقوق کی بات کرنا ایک سیاسی بغاوت سمجھا جاتا تھا۔ نوآبادیاتی نظام اور سرمایہ دارانہ طاقتیں ایسی ہر آواز کو خطرہ سمجھتی تھیں… مگر اسلم اور ان کے ساتھیوں کے لیے یہ جد و جہد محض معاشی مطالبات کی سیاست نہیں، بل کہ سماجی انصاف کی ایک بڑی لڑائی تھی۔
پاکستان کے قیام کے بعد امید تھی کہ نئی ریاست میں جمہوری سیاست کو فروغ ملے گا، مگر جلد ہی حالات مختلف رُخ اختیار کرنے لگے۔ عالمی سطح پر سرد جنگ شروع ہوچکی تھی اور کمیونزم عالمی سیاست کا ایک بڑا تنازع بن گیا تھا۔ پاکستان کی ریاستی پالیسی بھی تیزی سے مغربی بلاک کی طرف جھک رہی تھی۔ ایسے ماحول میں بائیں بازو کے کارکنوں پر شک کی نظر ڈالی جانے لگی۔ کمیونسٹ سیاست کو ریاستی سلامتی کے لیے خطرہ سمجھا جانے لگا اور یہی وہ فضا تھی، جس میں سی آر اسلم اور ان کے ساتھیوں کو بار بار گرفتاریوں اور نگرانی کا سامنا کرنا پڑا۔
1951 کا راولپنڈی سازش کیس اس فضا کا سب سے ڈرامائی اظہار تھا۔ فوج کے چند افسران اور بائیں بازو کے دانش وروں پر حکومت کے خلاف بغاوت کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا۔ اس مقدمے نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایک نئی لکیر کھینچ دی۔ انقلابی شاعر فیض احمد فیضؔ اور کمیونسٹ راہ نما سجاد ظہیر جیسے نام اس کیس میں سامنے آئے، تو یہ معاملہ صرف ایک عدالتی کارروائی نہ رہا، بل کہ ریاست اور ترقی پسند سیاست کے درمیان ایک بڑے تصادم کی علامت بن گیا۔ اس کے بعد بائیں بازو کی سیاست پر ایک لمبا سایہ پڑگیا، جس کے اثرات آنے والی دہائیوں تک محسوس کیے جاتے رہے۔
1954 میں کمیونسٹ پارٹی پر پابندی نے اس عمل کو مزید گہرا کر دیا۔ سرد جنگ کے ماحول میں یہ پابندی صرف ایک سیاسی جماعت کے خلاف اقدام نہیں تھی، بل کہ ایک پورے نظریاتی دھارے کو محدود کرنے کی کوشش تھی۔ بہت سے کارکن جیلوں میں ڈال دیے گئے اور تنظیمی ڈھانچے ٹوٹنے لگے… مگر نظریات پابندیوں سے ختم نہیں ہوتے۔ سی آر اسلم جیسے کارکنوں نے نئی راہیں تلاش کیں اور نیشنل عوامی پارٹی جیسے پلیٹ فارموں کے ذریعے اپنی سیاست جاری رکھی۔ اس جماعت میں مولانا بھاشانی، ولی خان اور دوسرے ترقی پسند راہ نما بھی شامل تھے اور ایک وقت ایسا آیا، جب یہ پاکستان میں جمہوری اور بائیں بازو کی سیاست کی سب سے اہم آواز بن گئی۔
سی آر اسلم کی جد و جہد صرف تنظیمی سیاست تک محدود نہیں رہی۔ وہ صحافت کو بھی سیاسی جد و جہد کا ایک اہم محاذ سمجھتے تھے۔ اسی فکر کے تحت انھوں نے ہفتہ وار اخبار ’’عوامی جمہوریت‘‘ جاری کیا۔ یہ اخبار دراصل ایک فکری پلیٹ فارم تھا، جہاں مزدور تحریک، عالمی سیاست، سامراج اور جمہوریت کے سوالات پر مسلسل بحث ہوتی تھی… مگر ایسے اخبارات اکثر طاقت ور حلقوں کو زیادہ دیر برداشت نہیں ہوتے اور یہی ’’عوامی جمہوریت‘‘ کے ساتھ بھی ہوا۔ ریاستی دباو اور سنسرشپ نے اسے بھی زیادہ دیر آزاد نہ رہنے دیا۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ میں آمریتوں نے بھی بائیں بازو کی سیاست کو کم زور کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ 1958 کی فوجی مداخلت کے بعد سیاسی جماعتوں کی سرگرمیاں محدود ہوگئیں، اخبارات پر پابندیاں لگیں اور مزدور یونینوں کو سخت کنٹرول میں رکھا گیا۔ اس ماحول میں نظریاتی سیاست کرنا آسان نہیں تھا۔ بہت سے کارکن مایوس ہوکر الگ ہوگئے یا سیاست سے دور ہوگئے… مگر سی آر اسلم ان لوگوں میں سے تھے جو ہر نئی پابندی کے بعد کسی نہ کسی شکل میں دوبارہ سیاسی میدان میں آ جاتے تھے۔ زندگی کے آخری برسوں میں بھی ان کی سیاسی سرگرمیاں ختم نہیں ہوئیں۔ نیشنل ورکرز پارٹی کے قیام میں ان کی شرکت دراصل اس بات کا اظہار تھی کہ وہ آخری وقت تک پاکستان میں بائیں بازو کی سیاست کو منظم دیکھنا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک سیاست محض اقتدار کی کش مہ کش نہیں، بل کہ معاشرے کو زیادہ انصاف پسند بنانے کی ایک مسلسل جد و جہد تھی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی طویل زندگی میں کئی بار جیل گئے، کئی بار سیاسی ناکامیوں کا سامنا کیا، مگر اپنے نظریات سے پیچھے نہیں ہٹے۔
2007 میں جب سی آر اسلم اس دنیا سے رخصت ہوئے، تو ان کے ساتھ ایک ایسا عہد بھی آہستہ آہستہ تاریخ میں بدلنے لگا، جس میں نظریاتی سیاست کا رنگ زیادہ گہرا تھا۔ آج پاکستان کی سیاست میں بائیں بازو کی قوتیں پہلے جیسی مضبوط نہیں رہیں، مگر اسلم اور ان کے ساتھیوں کی جد و جہد اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ سیاست صرف اقتدار کا کھیل نہیں ہوتی۔ کبھی کبھی وہ ایک ایسے خواب کا نام بھی ہوتی ہے، جو فوری طور پر پورا نہیں ہوتا، مگر تاریخ کے کسی نہ کسی موڑ پر پھر سے سر اٹھالیتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ سی آر اسلم جیسے لوگوں کی زندگیوں کو یاد کرنا دراصل اس سوال کو زندہ رکھنا ہے کہ کیا اس معاشرے میں سماجی انصاف اور جمہوری مساوات کا خواب کبھی مکمل ہوسکے گا۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات اور ان کی وضاحت:
1) ’’مارکس ازم‘‘ (Marxism):۔ یہ کارل مارکس اور اینگلز کا نظریہ ہے، جو کہتا ہے کہ تاریخ، طبقاتی جدوجہد سے چلتی ہے، سرمایہ داری مزدوروں کا استحصال کرتی ہے اور اس کا انجام ایک مساوات پر مبنی کمیونسٹ معاشرہ ہے۔
2) ’’سوشلسٹ نظریات‘‘ (Socialist Ideologies):۔ سوشلسٹ نظریات اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ذرائع پیداوار اجتماعی یا ریاستی ملکیت میں ہوں۔ ان کا مقصد دولت اور وسائل کی منصفانہ تقسیم ہے تاکہ ہر فرد کو بنیادی سہولتیں میسر آئیں۔ یہ نظام طبقاتی فرق کو کم کرنے اور امیر و غریب کے درمیان فاصلے کو ختم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تعلیم، صحت اور روزگار کو عوامی فلاح کے لیے سب کے لیے برابر مواقع فراہم کیے جاتے ہیں۔ سرمایہ داری کے استحصالی ڈھانچے پر تنقید کرتے ہوئے سوشلسٹ نظریات مساوات اور انصاف کو فروغ دیتے ہیں۔
3) ’’نیشنل عوامی پارٹی‘‘ (National Awami Party):۔ اسے ’’نیپ‘‘ (NAP) بھی کہا جاتا ہے، پاکستان کی ایک بڑی بائیں بازو کی جماعت تھی، جو 1957ء میں ڈھاکا (سابقہ مشرقی پاکستان) میں قائم ہوئی۔ یہ مختلف ترقی پسند اور سوشلسٹ گروہوں کے اتحاد سے بنی اور فوجی حکومتوں کے خلاف اپوزیشن کا اہم کردار ادا کرتی رہی۔
4) ’’راولپنڈی سازش کیس‘‘ (Rawalpindi Conspiracy Case):۔ 1951 میں پاکستان میں ایک مبینہ بغاوت کا منصوبہ سامنے آیا، جس میں فوجی افسران اور ترقی پسند ادیب شامل تھے۔ اس مقدمے میں فیض احمد فیضؔ اور سجاد ظہیر جیسے بڑے نام گرفتار ہوئے۔ حکومت نے اسے ریاست کے خلاف سازش قرار دیا اور سخت کارروائی کی گئی۔
5) ’’نیشنل ورکرز پارٹی‘‘ (National Workers Party):۔ نیشنل ورکرز پارٹی (NWP)، پاکستان کی ایک بائیں بازو کی جماعت تھی، جو 1 مئی 1999ء کو قائم ہوئی اور 2010ء میں تحلیل ہوکر دیگر ترقی پسند جماعتوں کے ساتھ مل کر ورکرز پارٹی پاکستان اور بعد میں عوامی ورکرز پارٹی (AWP) کا حصہ بنی۔
تمام نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










