دنیا کی رنگینیوں اور مادہ پرستی کے اس ہجوم میں جہاں ہر شخص اپنی ذات کے حصار میں مقید ہے اور نفسا نفسی کا عالم ہر سو برپا ہے، وہاں کچھ نفوسِ قدسیہ ایسے بھی ہوتے ہیں، جن کا جینا اور مرنا محض اپنی ذات کے لیے نہیں، بل کہ انسانیت کی فلاح کے لیے ہوتا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ جہاں میں وہی لوگ مرتبۂ کمال پاتے ہیں، جو دوسروں کے دکھ درد کو اپنا سمجھتے ہیں اور جن کی زندگی کا محور و مرکز مخلوقِ خدا کی خدمت ہوتا ہے۔
بلاشبہ اللہ تعالیٰ کی خوش نودی کا راستہ اُس کے بندوں کی خدمت کے راستوں سے ہو کر گزرتا ہے، مگر افسوس کہ آج کے دور میں ایسے بے لوث خدمت گار آٹے میں نمک کے برابر رہ گئے ہیں۔ انسانیت کی اصل معراج یہی ہے کہ کسی صلے اور ستایش کی تمنا کیے بغیر انسانی تکلیفوں کو سمیٹا جائے اور ’’نیکی کر دریا میں ڈال‘‘ کے مصداق خاموشی سے اپنا فرض نبھایا جائے۔
حکیم الامت علامہ محمد اقبال نے شاید ایسے ہی مخلص اور درویش صفت انسانوں کے لیے کہا تھا کہ وہی لوگ انسانیت کا فخر ہوتے ہیں، جو معاشرے کی بقا کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیتے ہیں۔
ذکر شدہ فرشتہ صفت انسانوں میں ایک نمایاں نام 55 سالہ محمد ہلال کا بھی ہے، جنھیں اُن کی بے لوث خدمات کی بنیاد پر اگر ایدھی کا دوسرا جنم کہا جائے، تو یہ مبالغہ نہ ہوگا۔ 1971 میں پیدا ہونے والے محمد ہلال کا تعلق سوات کے خوب صورت علاقے علی گرامہ سے ہے۔ قدرت نے اُنھیں جہاں جذبۂ خیر سے نوازا ہے، وہاں اُنھیں مخلص بھائیوں اور فرماں بردار اولاد کی نعمت بھی عطا کی ہے، جن کے تعاون اور مدد کی بہ دولت وہ اپنی زندگی کا بیش تر حصہ سماجی کاموں اور انسانیت کی خدمت کے لیے وقف کرنے میں کام یاب رہتے ہیں۔ ایک ایسے وقت میں جب لوگ اپنے خاندانی جھمیلوں سے فرصت نہیں پاتے، محمد ہلال کا اپنی تمام تر توجہ سماجی بہبود پر مرکوز رکھنا، ان کے بلند حوصلے اور نیک نیتی کی دلیل ہے۔
محمد ہلال کی خدمات کا دائرۂ کار انتہائی وسیع اور کٹھن ہے۔ وہ ایک ایسے خدائی خدمت گار ہیں، جو دریائے سوات کی بپھری ہوئی لہروں میں زندگی اور موت کی جنگ لڑنے والوں کے لیے امید کی کرن بن کر ابھرتے ہیں۔ جب بھی دریا میں کوئی ناخوش گوار واقعہ پیش آتا ہے اور لہریں کسی جیتے جاگتے انسان کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہیں، تو محمد ہلال مشکل ترین حالات کی پروا کیے بغیر وہاں سب سے پہلے پہنچتے ہیں۔ ڈوبنے والوں کی جان بچانا ہو یا پھر لہروں کی نذر ہو جانے والے بدقسمت افراد کی تلاش، یہ ایک ایسا جان جوکھوں کا کام ہے، جس کے لیے فولادی اعصاب اور بے پناہ ہمت درکار ہوتی ہے۔ وہ گھنٹوں، بل کہ بسا اوقات کئی دنوں تک تلاطم خیز موجوں سے نبرد آزما رہتے ہیں، تاکہ کسی بچھڑے ہوئے کا سراغ لگا کر اس کے لواحقین کے تڑپتے دلوں کو قرار دے سکیں۔ ہلال کا یہ جذبہ محض ایک ڈیوٹی نہیں، بل کہ انسانیت سے محبت کا ایک ایسا باب ہے، جو بہت کم لوگوں کے حصے میں آتا ہے۔
محمد ہلال کی خدمات صرف دریا کی لہروں تک محدود نہیں، بل کہ وہ ایک ہمہ جہت سماجی شخصیت کے طور پر ابھرے ہیں۔ شہر اور گلی محلوں کی صفائی ستھرائی کا معاملہ ہو، قبرستانوں کی دیکھ بھال ہو یا جنازہ گاہ کی تزئین و آرایش… وہ ہر جگہ ایک متحرک کارکن کے طور پر نظر آتے ہیں۔ اگر ایک طرف ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے شجر کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا اُن کا شعار ہے، تو دوسری جانب رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں غریبوں اور مسافروں کے لیے افطار دسترخوان کا اہتمام کرنا اُن کی سخاوت کا ثبوت ہے۔ سیلاب جیسی قدرتی آفات کے دوران میں جب بستیاں اجڑ جاتی ہیں اور خاندان بے سہارا ہو جاتے ہیں، تو محمد ہلال ایک مسیحا کی صورت میں متاثرین کے آنسو پونچھنے اور ان کا ہاتھ تھامنے کے لیے میدانِ عمل میں موجود ہوتے ہیں۔ ان کا وجود سوات کے عوام کے لیے ایک سائبان کی مانند ہے، جو ہر مشکل گھڑی میں ان کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔
یہ خوش آیند بات ہے کہ محمد ہلال کی اُن بے لوث اور گراں قدر خدمات کا اعتراف نہ صرف عوامی سطح پر کیا گیا، بل کہ کئی غیر سرکاری تنظیموں نے بھی ان کے کام کو سراہا ہے۔ مزید برآں، حکومتِ وقت نے بھی سرکاری سطح پر اُن کی خدمات کی پزیرائی کرتے ہوئے اُنھیں مختلف ایوارڈز سے نوازا ہے، جو کہ یقیناً اُن کی مخلصانہ جد و جہد کا ثمر ہے۔ تاہم محمد ہلال جیسے درویش منش انسان کے لیے سب سے بڑا انعام وہ دعا اور سکون ہے، جو اُنھیں کسی دکھی انسان کی خدمت کرکے حاصل ہوتا ہے۔
ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ محمد ہلال کو صحت و تن درستی کے ساتھ طویل عمر عطا فرمائے، تاکہ وہ اسی تن دہی سے انسانیت کی خدمت کرتے رہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنے رہیں، آمین!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










