کامریڈ کم ایل سنگ

Blogger Comrade Sajid Aman

تاریخ کے کینوس کو غور سے دیکھیں، تو کچھ افراد محض شخصیات نہیں ہوتے، وہ پورے عہد کے ترجمان ہوتے ہیں۔ مزاحمت کی دھڑکن، خودمختاری کا استعارہ اور طاقت و نظریے کے درمیان جاری کش مہ کش کا زندہ حوالہ…!
کامریڈ کم ایل سونگ بھی ایسے ہی فرد کا تعارف ہے، جس نے نہ صرف ایک ریاست کی بنیاد رکھی، بل کہ ایک ایسا بیانیہ تخلیق کیا، جو آج بھی شمالی کوریا  کی فضاؤں میں گونجتا ہے۔ایک بیانیہ جس میں انقلاب، قوم پرستی اور مارکسی فکر کی انوکھی اور مخصوص تعبیر گھل مل جاتی ہے۔
جاپانی سامراج کے سائے میں پلنے والا یہ نوجوان جب مزاحمت کی راہ پر نکلا، تو شاید اُسے بھی اندازہ نہ تھا کہ وہ ایک دن ایک مکمل ریاستی فلسفے کا بانی بن جائے گا۔ سامراجی جاپان کے خلاف گوریلا جد و جہد نے اُنھیں ایک انقلابی شناخت دی، مگر اُن کی اصل طاقت اُس وقت سامنے آئی، جب اُنھوں نے اقتدار کو محض حکم رانی نہیں، بل کہ نظریاتی تشکیل کا ذریعہ بنایا۔ مارکسزم اور لینن ازم سے متاثر ہو کر اس نے ’’جوچے‘‘ کا نظریہ پیش کیا… ایک ایسا ماڈل جو بہ ظاہر مارکسی خود انحصاری کی توسیع تھا، مگر درحقیقت قومی خود مختاری اور قیادت کی مرکزیت کا ایک منفرد امتزاج بھی تھا۔
یہاں مارکسی نقطۂ نظر سے ایک دل چسپ تضاد سامنے آتا ہے۔ کلاسیکی مارکس ازم ریاست کے بہ تدریج خاتمے اور طبقاتی نظام کے انہدام کی بات کرتا ہے، مگر کم ایل سونگ کے ماڈل میں ریاست نہ صرف برقرار رہتی ہے، بل کہ ایک مقدس ادارے کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ قیادت، پارٹی اور عوام کے درمیان تعلق ایک انقلابی جمہوریت کے بہ جائے ایک منظم مرکزیت میں ڈھل جاتا ہے۔ یوں انقلاب ایک مسلسل عمل کے بہ جائے ایک مستحکم ڈھانچے میں تبدیل ہو جاتا ہے۔
کوریا کی جنگ نے اس نظریے کو مزید سخت کر دیا۔  سامراجی امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ تصادم نے شمالی کوریا کو ایک مستقل عسکری اور نظریاتی محاصرہ فراہم کیا، جس کے نتیجے میں ریاستی کنٹرول اور بھی مضبوط ہوتا گیا۔ چین کے ساتھ تعلقات نے وقتی سہارا دیا، مگر کم ایل سنگ ہمیشہ اس توازن کو برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہے کہ کوئی بیرونی طاقت اُن کے نظام پر حاوی نہ ہو۔
1994 میں کامریڈ کم ال سنگ کا انتقال ایک ایسا لمحہ تھا، جب دنیا نے سمجھا کہ شاید یہ باب بند ہو جائے گا… مگر تاریخ نے ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ کم جونگ ال  نے اقتدار سنبھالا اور ’’سونگون‘‘ یعنی فوج کو اولین حیثیت دینے کی پالیسی کو فروغ دیا۔ یہ ایک طرح سے مارکسی ریاست کے اندر عسکریت کی بالادستی کا اعلان تھا… ایک ایسا ماڈل جہاں انقلاب کی حفاظت کے نام پر عسکری ادارہ مرکزیت اختیار کرلیتا ہے۔
پھر کم جونگ ان کا دور آتا ہے… ایک نوجوان قیادت، مگر ایک پرانا نظام۔ یہاں ایک دل چسپ تبدیلی نظر آتی ہے۔ توجو جدید ٹیکنالوجی، جوہری پروگرام اور عالمی سیاست میں جارحانہ موجودگی کی صورت میں سامنے آتا ہے… مگر اس سب کے باوجود نظریاتی ڈھانچا وہی رہتا ہے جوچے، خودانحصاری، اور قیادت کی مرکزیت۔
مارکسی زاویے سے دیکھا جائے، تو یہ ایک پیچیدہ تجربہ ہے۔ ایک طرف سامراج کے خلاف ڈٹ جانے کی مثال، دوسری طرف اندرونی سطح پر طاقت کا ارتکاز۔ ایک طرف طبقاتی مساوات کا دعوا، دوسری طرف قیادت کا موروثی تسلسل۔ یہ وہ تضاد ہے جو شمالی کوریا کے پورے ماڈل میں سرایت کیے ہوئے ہے… اور مارکسی نظریات کی ایک مختلف انداز میں تشریح۔
مگر شاید تاریخ کو صرف سیاہ اور سفید میں نہیں بانٹا جاسکتا۔ کم ایل سنگ اور اُن کے جانشینوں نے ایک ایسی ریاست کو برقرار رکھا، جو دنیا کی سب سے بڑی طاقتوں کے دباو کے باوجود قائم ہے۔  امریکہ کے ساتھ سخت کشیدگی اور پابندیوں کا سامنا، جاپان کے ساتھ تاریخی دشمنی اور ان دونوں کے سامراجی و کاروباری دباو پر عالمی تنہائی کے باوجود یہ نظام ٹوٹا نہیں، بل کہ ایک مخصوص استحکام کے ساتھ آگے بڑھتا رہا۔
یہاں ایک بڑا سوال ابھرتا ہے۔ کیا یہ استحکام ایک کام یاب انقلاب کی نشانی ہے، یا ایک ایسے نظام کی، جو خود کو تبدیل ہونے نہیں دیتا…؟ کیا یہ سامراج کے خلاف مزاحمت کی آخری دیوار ہے، یا ایک بند معاشرہ جو اپنے ہی نظریے میں قید ہوچکا ہے؟
کم ایل سنگ کی کہانی اور اُن کے بعد آنے والی قیادت کا تسلسل، ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انقلاب صرف ایک لمحہ نہیں ہوتا۔ وہ ایک مسلسل بیانیہ ہوتا ہے… مگر اس بیانیے کی سمت کیا ہو؟ یہ ہمیشہ ایک کھلا سوال رہتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ شمالی کوریا کو سمجھنا محض ایک ریاست کو سمجھنا نہیں، بل کہ ایک ایسے خواب، ایک ایسے خوف، اور ایک ایسے نظریے کو سمجھنا ہے، جو وقت کے ساتھ بدلنے کے بہ جائے خود کو دہراتا رہتا ہے اور ہر بار ایک نئے سوال کے ساتھ ہمارے سامنے آ کھڑا ہوتا ہے۔ (ختم شد!)
نمایاں اصطلاحات کی وضاحت:
1) مارکسی فکر (Marxist Ideology):۔ کارل مارکس اور فریڈرک اینگلز کے نظریات پر مبنی ایک فکری و سیاسی فلسفہ، جو معاشرتی مساوات، طبقاتی جد و جہد اور سرمایہ دارانہ نظام کے خاتمے پر زور دیتا ہے۔
2) لینن ازم (Leninism):۔ یہ دراصل مارکس ازم کی ایک عملی اور انقلابی شکل ہے، جسے ولادیمیر لینن نے روسی حالات کے مطابق ڈھالا۔ اس کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ مزدور طبقے کی راہ نمائی ایک منظم اور باشعور ’’وینگارڈ پارٹی‘‘ کرے، تاکہ سرمایہ داری کو ختم کرکے سوشلسٹ نظام قائم کیا جاسکے۔
3) کلاسیکی مارکس ازم (Classical/ Orthodox or Original Marxism):۔ مارکس ازم ایک وسیع تر فکری روایت ہے، جب کہ کلاسیکی مارکس ازم اس کی خالص اور ابتدائی شکل ہے۔ کلاسیکی مارکس ازم نے دنیا بھر میں انقلابی تحریکوں اور سماجی نظریات کو گہرا اثر دیا۔
تحریر میں شامل نمایاں اصطلاحات کی وضاحت ’’مائیکروسافٹ کوپائیلٹ‘‘ کی مدد سے کی گئی ہے، مدیر لفظونہ ڈاٹ کام۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے