بدلتی فکر اور معاشرتی بحران

Blogger Izhar Amin

میڈیکل کالج میں آنے کے بعد بہت کچھ دیکھا اور سنا، لیکن یہاں زندگی میں پہلی بار کچھ ایسے الفاظ سننے کو ملے، جن کا نہ مَیں نے اپنے بڑوں سے کبھی ذکر سنا تھا اور نہ ہماری تاریخ میں ان کا کوئی حوالہ ہی ملتا ہے۔ ابتدا میں جب ایسے الفاظ سماعت سے ٹکراتے، تو میں انھیں نظر انداز کر دیتا، یہ سوچ کر کہ ان کے کوئی اجتماعی منفی اثرات نہیں ہوں گے اور ان کا دائرہ صرف فرد کی ذاتی زندگی تک محدود رہے گا… مگر وقت کے ساتھ مجھے اپنی یہ سوچ غلط محسوس ہوئی۔
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ آج مَیں کچھ مختلف بات کر رہا ہوں۔ جی ہاں، آج مَیں آپ سے نئی نسل، یعنی جنریشن زی (Gen Z) کے انداز میں گفت گو کرنا چاہتا ہوں۔ مَیں آپ کو چند ایسی اصطلاحات سے متعارف کرانا چاہتا ہوں، جیسے ’’بوائے فرینڈ‘‘ (BF)، ’’گرل فرینڈ‘‘ (GF)، ’’کرش‘‘ (crush) اور ’’بریک اپ‘‘ (breakup)۔ بہ ظاہر یہ الفاظ بہت جدید اور ’’کول‘‘ (Cool) محسوس ہوتے ہیں، لیکن دوسری جانب یہ ہمارے معاشرے کی جڑوں کو کم زور کرنے میں ایک اہم کردار ادا کررہے ہیں۔
ان قارئین کے لیے تھوڑا وضاحت کرتا چلوں، جو ان اصطلاحات سے کلی طور پر واقف نہیں:
بوائے فرینڈ سے مراد مرد رومانوی ساتھی ہے، جب کہ گرل فرینڈ سے مراد خاتون رومانوی ساتھی ہے۔ یہ ایسا تعلق ہوتا ہے، جو شادی کے بندھن سے آزاد ہوتا ہے، مگر اس آزادی میں محبت، قربت اور حتی کہ جسمانی تعلق کی گنجایش بھی موجود ہوتی ہے۔ سادہ الفاظ میں، یہ ایک ایسا رشتہ ہے، جس میں نکاح کو ضروری نہیں سمجھا جاتا۔
مزید یہ کہ ایسے تعلقات میں یہ پابندی بھی نہیں ہوتی کہ فریقین کسی اور سے نکاح نہیں کرسکتے۔ وہ بہ یک وقت دیگر تعلقات بھی قائم رکھ سکتے ہیں۔ مغربی دنیا میں اس رجحان کو ’’پولی ایمورس‘‘ (Polyamorous) تعلق کہا جاتا ہے، جہاں ایک فرد بہ یک وقت ایک سے زائد رومانوی تعلقات رکھ سکتا ہے۔ شادی کے بعد بھی بعض اوقات یہ طے کیا جاتا ہے کہ تعلق یک زوجگی (Monogamy) پر مبنی ہوگا، یا کثیر تعلقات (Polyamory) پر۔ اسی تناظر میں، اگر ایک عورت ایک سے زیادہ مردوں سے تعلق رکھے، تو اسے ’’پولی اینڈری‘‘ (Polyandry) کہا جاتا ہے، جب کہ ایک مرد کے ایک سے زائد خواتین سے تعلق کو ’’پولی جِنی‘‘ (Polygyny) کہا جاتا ہے۔
یہ تفصیل بیان کرنے کا مقصد صرف آگاہی دینا ہے۔ کیوں کہ جلد ہی یہ اصطلاحات اور رجحانات ہمارے معاشرے میں عام ہونے والے ہیں۔ مغربی معاشروں میں یہ رویے معمول کا حصہ سمجھے جاتے ہیں اور انھیں معیوب نہیں سمجھا جاتا۔ تاہم، جب ہم اپنے معاشرے پر نظر ڈالتے ہیں، تو افسوس ہوتا ہے کہ ایک مسلمان معاشرہ ہونے کے باوجود ہم دوسروں کی تہاذیب تیزی سے اپنا رہے ہیں۔
آج کے نوجوانوں میں یہ رجحان عام ہوتا جا رہا ہے کہ لڑکے اور لڑکیاں سوشل میڈیا کے ذریعے ایک دوسرے سے رابطہ قائم کرتے ہیں اور یہ تعلقات آگے بڑھ کر ملاقاتوں (Dates) تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہ رجحان بہ تدریج ہمارے معاشرے میں سرایت کر رہا ہے اور سوشل میڈیا کے ذریعے غیر معمولی رفتار سے پھیل رہا ہے، جو معاشرتی ڈھانچے کو کم زور کرنے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے اثرات فوری طور پر نظر نہ آئیں، لیکن مستقبل میں یقیناً ہمیں ان کے نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بالخصوص، اس سے خاندانی نظام متاثر ہو کر بکھرنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ آج کا نوجوان، خواہ لڑکا ہو یا لڑکی… اپنے دین، تہذیب اور تاریخ سے پوری طرح آگاہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دیگر ثقافتوں سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اگر کسی کو دین سیکھنے یا اپنی تاریخ پڑھنے کا مشورہ دیا جائے، تو اکثر اسے ناگوار محسوس کیا جاتا ہے… اور بعض اوقات ایسے افراد کو ’’انتہا پسند‘‘ یا ’’بنیاد پرست‘‘ جیسے القابات سے بھی نوازا جاتا ہے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ مَیں سائنس اور ٹیکنالوجی کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا، نہ اسلام یا ہماری تہذیب ہی اس کی مخالفت کرتی ہے۔ مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے، جب ہم ترقی کے نام پر دوسروں کا طرزِ زندگی اور ثقافت اندھا دھند اپنانے لگتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ وہ اقوام جو اپنے دین اور شناخت سے دور ہوگئیں، وہ حقیقی معنوں میں ترقی نہ کرسکیں۔
بدقسمتی سے ہم نے بھی یہی غلطی کی ہے کہ ہم ان کی سائنسی ترقی سے زیادہ ان کے طرزِ زندگی سے متاثر ہوگئے ہیں۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارا معاشرہ تیزی سے مغرب زدہ ہوتا جا رہا ہے۔ ’’بوائے فرینڈ‘‘ اور ’’گرل فرینڈ‘‘ جیسی اصطلاحات تو محض ایک مثال ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کئی ایسی روایات ہیں، جو ہم شعوری یا لاشعوری طور پر اپنا چکے ہیں۔ ان پر تفصیل سے گفت گو پھر کسی اور موقع پر کی جائے گی۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے