ماضی کی حکمت اور حال کی کم زوری (تقابلی جائزہ)

Blogger Tauseef Ahmad Khan

اگر تاریخ کے اوراق پر نظر دوڑائی جائے، تو ہمیں ایسے صاحبِ نظر، صاحبِ بصیرت اور دور اندیش شخصیات کا ذکر ملتا ہے، جو جغرافیائی سیاست کی نبض پر ہاتھ رکھ کر نہ صرف آنے والے حالات کا پیشگی ادراک کرلیتے تھے، بل کہ اپنی مضبوط اور بروقت حکمتِ عملی کے ذریعے حالات کا رُخ بھی موڑ دیتے تھے۔
برصغیر کی تاریخ میں شاہ ولی اللہ دہلوی ایسی ہی ایک عظیم شخصیت کے طور پر سامنے آتے ہیں کہ جب مغل سلطنت زوال کا شکار تھی، دہلی کا نظام بکھر چکا تھا اور مرہٹہ طاقت، شمالی ہند میں تیزی سے اپنا اثر و رسوخ قائم کر رہی تھی… اُس وقت مسلمان حکم ران کسی واضح حکمتِ عملی یا کسی خاص پیشگی تیاری سے محروم تھے اور مسلمان شدید تذبذب کا شکار تھے۔
ایسے نازک وقت میں شاہ ولی اللہ نے اُس وقت کے جیو پالیٹکس کے توازن کو ایک خاص تناظر میں دیکھتے ہوئے اس حقیقت کا ادراک کرلیا کہ اگر کسی مضبوط مسلم قوت کو مرہٹوں کے خلاف بروقت نہ بلایا گیا، تو دہلی اور شمالی ہند ایک ایسی غیر مسلم طاقت کے زیرِ اثر چلا جائے گا، جو ہمیشہ کے لیے مسلمانوں کے سیاسی و جغرافیائی وجود کے لیے سنگین خطرہ بن سکے گا۔
اسی بصیرت کی بنیاد پر انھوں نے احمد شاہ ابدالی کو خط لکھا اور برصغیر کے حالات و واقعات سے مکمل آگاہ کیا۔ نتیجے کے طور پر احمد شاہ ابدالی نے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے افغانستان سے لشکر کشی کی اور پانی پت کی تیسری جنگ (1761) میں مرہٹوں کو فیصلہ کن شکست دی۔ اس فیصلہ کن مرحلے کے بعد مرہٹہ طاقت برصغیر پر دوبارہ مکمل غلبہ حاصل نہ کرسکی اور اس کے اثرات تاریخ میں طویل عرصے تک محسوس ہوتے رہے۔
اس کے علاوہ تاریخ میں سلطان محمد فاتح کا ذکر بھی ملتا ہے، جس نے اپنی کم عمری ہی میں یہ حقیقت سمجھ لی تھی کہ قسطنطنیہ محض ایک شہر نہیں، بل کہ یورپ اور ایشیا کی جیو پولیٹیکس کا کلیدی مرکز ہے۔ چوں کہ یہ دونوں براعظموں کے درمیان تجارت اور مختلف تہذیبوں کا مرکز بھی تھا۔ اسی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سلطان محمد فاتح کو یہ محسوس ہو رہا تھا کہ جب تک یہ شہر بازنطینی سلطنت کے قبضے میں رہے گا، خطے میں طاقت کا توازن یک طرفہ ہی رہے گا۔
لیکن دوسری طرف قسطنطنیہ کی جغرافیائی اہمیت اس قدر تھی کہ وہ صدیوں سے ناقابلِ تسخیر سمجھا جاتا تھا۔ کیوں کہ ایک طرف اس شہر کے ارد گرد مضبوط فصیلیں تھیں، تو دوسری طرف سمندر سے گھرا محلِ وقوع تھا، جس کی وجہ سے اس شہر تک بہ راہِ راست رسائی ناممکن تھی۔ چوں کہ اس سے پہلے بھی کئی مہمات ہوچکی تھیں اور مسلمانوں کے کئی سپہ سالار ان مہمات میں شکست کھاچکے تھے، اس لیے سلطان محمد فاتح نے بہ راہِ راست فوجی مہم یا روایتی جنگی حکمتِ عملی سے ہٹ کر خاص حکمتِ عملی اپنائی۔ وقت کی مطابق جدید ٹیکنالوجی کو بروئے کار لاتے ہوئے ایک ایسا عظیم منصوبہ بنایا، جس نے اُس وقت کے جیوپولیٹکس کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا۔
سلطان محمد فاتح کو معلوم تھا کہ قسطنطنیہ اپنی بحری دفاعی لائن کی وجہ ہی سے ہی ناقابلِ تسخیر ہے، خاص طور پر گولڈن ہارن، جہاں ایک بھاری زنجیر باندھ کر دشمن کے جہازوں کو داخل ہونے سے روکا جاتا تھا، اور اسی وجہ سے قسطنطنیہ کو سمندر کی طرف سے شکست دینا تقریباً ناممکن تھا۔
قسطنطنیہ کی اسی بحری دفاعی حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے سلطان محمد فاتح نے اپنے بحری جہازوں کو خشکی کے راستے پہاڑیوں کے اوپر سے گزار کر گولڈن ہارن میں اتارنے کا فیصلہ کیا۔ اس مقصد کے لیے لکڑی کے تختے بچھائے گئے، ان پر چکنائی لگائی گئی، تاکہ ان پر جہاز آسانی سے سرک سکیں۔ پھر رات کی تاریکی میں درجنوں جہازوں کو کھینچ کر سمندر کے اُس حصے میں اُتار دیا گیا، جہاں دشمن کو کوئی خطرہ محسوس نہیں ہورہا تھا۔
صبح جب بازنطینی فوج نے اپنے محفوظ سمجھے جانے والے اس محاذ پر عثمانی جہاز دیکھے، تو اُن کے حوصلے پست ہوگئے اور پہلے ہی فرصت میں وہ نفسیاتی جنگ ہار گئے، جس کی وجہ سے شہر میں افراتفری پھیل گئی۔ عثمانی افواج نے شہر کو ہر طرف سے گھیر لیا، رسد کے راستے بند کر دیے اور مسلسل دباو کے نتیجے میں بالآخر 1453 عیسوی میں قسطنطنیہ فتح ہوگیا۔
اس عظیم فتح کے نتیجے میں نہ صرف بازنطینی سلطنت کا خاتمہ کیا گیا، بل کہ عثمانی سلطنت کو ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھارا۔ اس کے بعد مسلمانوں کا ’’عہدِ دریافت‘‘ (Age of Exploration) کا آغاز ہوا، اور یوں عالمی تجارتی راستوں کا رُخ بدل گیا۔
تاریخ کے ان روشن ابواب کے برعکس، اگر دیکھا جائے، تو آج کا منظرنامہ ایک فکری اور تذویراتی بانجھ پن کی تصویر پیش کرتا ہے۔ ایک طرف وہ دور تھا، جب قلیل وسائل کے باوجود مسلم حکم ران سمندروں اور پہاڑوں کے جغرافیے کو اپنی مٹھی میں رکھتے تھے۔ دوسری طرف آج کا عہد ہے، جہاں جغرافیائی وسعت، ایٹمی قوت اور بے پناہ معدنی وسائل کے باوجود امتِ مسلمہ کا وجود بکھرا ہوا ہے۔
افسوس کہ اس وقت اسرائیل، جو جغرافیائی طور پر ایک نقطے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا، اِس وقت پورے مشرقِ وسطیٰ کے اعصاب پر سوار ہوچکا ہے۔ آج مسلم ممالک کی عددی برتری ان کی کم زوری بن چکی ہے۔ کیوں کہ ان کے پاس نہ تو شاہ ولی اللہ جیسی کوئی دور اندیش قیادت ہے، جو سرحدوں سے ماورا خطرات کو بھانپ سکے اور نہ مسلمانوں کے پاس اس وقت سلطان محمد فاتح جیسی کوئی ایسی آؤٹ آف دی باکس حکمت عملی بنانے والا ہی موجود ہے، جو دشمن کے دفاعی حصار کو نفسیاتی اور تکنیکی طور پر توڑ کر پاش پاش کرسکے۔
جب تک مسلمان اپنی جغرافیائی اہمیت کو ایک ڈھال کے بہ جائے ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نہیں سیکھتے اور مصلحتوں کے خول سے باہر نہیں نکلتے، تب تک وہ عالمی بساط پر محض تماشائی بنے رہیں گے اور ان کی تقدیر کے فیصلے عالمی صیہونی طاقتوں کے ہاتھوں میں رہیں گے، جو جغرافیائی سیاست کی نبض شناسی میں مہارت رکھتے ہیں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے