ہر ہفتے کی شام شہید عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کے ساتھ ایک سنجیدہ محفل جمتی تھی۔ مختلف موضوعات پر گفت گو ہوتی، بعض بحثیں ادھوری رہ جاتیں اور کئی سوالات اپنے پیچھے پیغامات چھوڑ جاتے۔
ہیگل کے بارے میں شہید جان کا خیال تھا: ’’اس فلسفی (ہیگل) کو کھل کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ہیگل آسانی سے سمجھ میں نہیں آتا، مگر جس دن اُس کی فکری جست و جو شروع ہو جائے، تو معاشرے کے بہت سے مسائل سمجھ میں آنے لگتے ہیں۔ پھر کارل مارکس کو سمجھنا بھی آسان ہو جاتا ہے، تاریخ کی حرکت بھی واضح ہونے لگتی ہے اور طبقاتی جد و جہد کا اصل مفہوم بھی سامنے آتا ہے۔
شہید جان کی زندگی میں تو یہ کام نہ ہوسکا، مگر اُن کی وفات کے بعد مَیں نے اپنی سی کوشش کی کہ آسان ترین الفاظ میں ہیگل کے فلسفے اور اُس کے تعارف کو ایک مضمون کی صورت میں لکھوں، جسے میں اسی پلیٹ فارم (لفظونہ ڈاٹ کام) پر شائع کرچکا ہوں۔
جان شہید اکثر اپنے مخصوص انداز میں کہا کرتے تھے کہ ہم برسوں سے بیٹھتے چلے آ رہے ہیں، مگر ہفتے کی اِس شام میں آخر ایسی کیا خاص بات ہوتی ہے… کون لوگ ہوتے ہیں اور کیا گفت گو ہوتی ہے؟ ان لمحوں کو کسی نہ کسی شکل میں مجسم ہونا چاہیے۔
جان شہید کی زندگی میں ’’بیا ھغہ ماخام دے‘‘ کے عنوان سے لفظونہ ڈاٹ کام اور روزنامہ آزادی میں میرا مضمون شائع ہوا، مگر افسوس کہ وہ اس کے شائع ہونے کے صرف دو دن بعد ہی شہید کر دیے گئے۔
مولانا خان زیب شہید کی تصنیف شتمندہ پختونخوا کے بارے میں جان شہید کی رائے یہ تھی کہ یہ ایک مؤثر کتاب ہے۔ اس میں وسائل اور خزینوں کا ذکر تو موجود ہے، مگر ان کے خیال میں اس کا دوسرا حصہ بھی آنا چاہیے تھا۔ مولانا خان زیب کو زندگی نے اس کی مہلت نہ دی۔ جان شہید کہتے: ’’اس حوالے سے مَیں خود کوشش کروں گا، یا کسی ماہر جیالوجسٹ کی مدد لوں گا، یا کسی اور کو یہ ذمے داری سونپوں گا، تاکہ اس تشنگی کو دور کیا جاسکے۔‘‘
یہ کام نامکمل رہ گیا… مگر مجھے یقین ہے کہ کوئی نہ کوئی وطن دوست ضرور جان شہید کی اس خواہش کو پورا کرے گا۔
ہماری آخری ہفتہ وار نشست کا موضوع یہ تھا کہ اگر پاکستان کی فیڈریشن میں بلوچ مسلح جد و جہد جاری ہے اور وہ نمایندگی کے لحاظ سے متحرک ہیں، تو کیا ریاست کی تحلیل کی صورت میں وہ کام یاب ہوسکیں گے… اور کیا پختون قیادت کے فقدان اور واضح حکمت عملی کے نہ ہونے کی وجہ سے پختون مزید استحصال اور تقسیم کا شکار ہو جائیں گے، جب کہ شعوری سطح کا بھی برا حال ہے؟
اس کے جواب میں میرا کہنا تھا: ’’مَیں اس منظرنامے کو اس طرح نہیں دیکھتا۔ پاکستان اپنی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے چاہے بھی تو آسانی سے تحلیل نہیں ہوسکتا۔ کیوں کہ بھارت، چین، ایران، روس اور دیگر طاقتیں افغانستان کی موجودگی میں ایک اور ’’افغانستان‘‘ وجود میں آنے نہیں دیں گی۔ ایسی صورت میں جو نئی ریاستیں وجود میں آئیں گی، وہاں قومی اور مذہبی طبقات کی حکم رانی ہوگی، جو پورے خطے کو مزید عدم استحکام اور غیر یقینی کی طرف لے جائے گی۔ دوسری بات یہ کہ اگر ہم مارکسی نقطۂ نظر سے دیکھیں، تو بلوچ مزاحمت، پختون قوم پرستی کی تحریکیں یا مذہبی دہشت گردی حقیقی طبقاتی حقوق کی جد و جہد نہیں۔ نہ یہ حکم ران اشرافیہ کو واقعی پریشان کر رہی ہیں… بل کہ اس صورتِ حال سے اشرافیہ کو فائدہ ہی پہنچتا ہے۔ کیوں کہ خوف اور غیر یقینی کی فضا برقرار رہتی ہے۔ وہ لوگ جو طبقاتی جد و جہد میں اہم کردار ادا کرسکتے تھے، مبہم اور غلط فلسفوں میں الجھ کر اصل جد و جہد سے دور ہو جاتے ہیں۔ اس طرح حکم ران طبقات کے لیے یہ ایک ایسا کھیل بن جاتا ہے، جس میں توجہ اصل مسئلے سے ہٹ جاتی ہے۔‘‘
جان شہید نے جواباً کہا کہ آپ کی بات میں وزن ہے، مگر اس پر مزید گفت گو کی ضرورت ہے۔ اِس وقت گفت گو بہت سنجیدہ ہوچکی ہے اور ماحول اس کے لیے مناسب نہیں۔ بہتر ہے کہ منگل یا بدھ کو آپ کے دفتر میں، مَیں اور ڈاکٹر عطاء الرحمان عطاء آجائیں، ایک کپ چائے بھی پی لیں گے اور اس گفت گو کو آگے بھی بڑھالیں گے۔‘‘
مگر بدھ جان شہید کی زندگی کا آخری دن ثابت ہوا، اور مذکورہ موضوع دوبارہ نشست نہ ہونے کی وجہ سے تشنہ کام رہی۔
مَیں ایک اور موضوع پر لکھنا چاہتا تھا، اور وہ تھا: ’’والی صاحب کی زندگی کے پانچ سانحات۔‘‘ جان شہید نے اس سلسلے میں مواد فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ مَیں ہر بار اُن سے پوچھتا اور وہ مسکرا کر کہتے: ’’صبر کریں، آپ کو خوشی ہوگی جو مواد میں فراہم کروں گا۔‘‘
پاکستانی ڈراموں پر میرے دو تبصرے جان شہید نے نہ صرف پسند کیے، بل کہ ایک ڈراما وہ آخر تک دیکھتے بھی رہے۔ اس طرح میرا ایمن اداس پر لکھا ہوا مضمون اُنھیں بہت پسند آیا۔ انہوں نے مضمون کو کئی جگہ شیئر بھی کیا اور کہا کہ مَیں اسے پڑھتے پڑھتے واقعی رو پڑا تھا۔ مضمون پر جان شہید کا تبصرہ اب بھی اُن کے وال پر موجود ہے۔
چند سال قبل مَیں نے جان شہید کی ہمہ جہت شخصیت پر بھی ایک مضمون لکھا تھا، جو اُنھیں بہت پسند آیا تھا۔ جان شہید کا خاندان انتہائی خوددار تھا۔ وہ چاہتے، تو بڑی بڑی جاگیریں حاصل کر سکتے تھے، مگر اُنھوں نے باچا صاحب اور شاہی خاندان سے وفاداری کے عہد کو ہی سب کچھ سمجھا اور پوری زندگی اپنے کیے گئے عہد پر قائم رہے۔
عطاء اللہ جان ایڈوکیٹ کی شہادت صرف ایک شخص کی شہادت نہیں تھی۔ ہم ایک فکر، ایک تحریک بل کہ ایک عہد کھوچکے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے زمانے سے پہلے پیدا ہوئے تھے… اور کوچ بھی جلدی ہی کرگئے۔
آخر میں پروین شاکر کی نظم کا یہ حصہ جان شہید کے نام:
یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گھل رہی ہے
ترے پیرہن کی خوشبو
ابھی جس میں کھل رہے ہیں
میرے خواب کے شگوفے
ذرا دیر کا ہے منظر!
ذرا دیر میں افق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ
ترے دل کو آئیگا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصۂ جدائی
کوئی کار نامکمل
کوئی خواب نا شگفتہ
!کوئی بات کہنے والی
کسی اور آدمی سے
ہمیں چاہیے تھا ملنا
کسی عہد مہرباں میں
کسی خواب کے یقیں میں
کسی اور آسماں میں!
کسی اور سر زمیں میں!!
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










