پاکستان افغانستان تنازع اور بگرام ایئربیس

Blogger Tauseef Ahmad Khan

قارئینِ کرام! اس تحریر میں ہم پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پس منظر اور اُن عوامل کا جائزہ لینے کی کوشش کریں گے، جنھوں نے دونوں برادر اسلامی ممالک کو ایک نہایت نازک موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ صورتِ حال اس حد تک کشیدہ ہوچکی ہے کہ پاکستان نے کئی مرتبہ پاک فضائیہ کے ذریعے افغانستان کے اندر بہ راہِ راست کارروائیاں کیں اور بعد ازاں ’’آپریشن غضب للحق‘‘ کا آغاز کیا گیا۔ ابتدائی کارروائی پاکستان کی جانب سے کی گئی، جس کے ردِعمل میں افغانستان نے گذشتہ جمعرات کے روز جوابی اقدامات کرتے ہوئے باقاعدہ جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد پاکستان نے بھی سخت ردِعمل دیتے ہوئے افغانستان پر شدید فضائی حملے کیے، جن میں کابل اور دیگر شہروں کے مختلف اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ یوں ایک محدود نوعیت کی کشیدگی بہ تدریج کھلی جنگ کی صورت اختیار کرتی دکھائی دے رہی ہے۔
اگر وسیع تر تناظر میں دیکھا جائے، تو افغانستان گذشتہ پانچ دہائیوں سے مسلسل جنگوں اور بیرونی مداخلت کا شکار رہا ہے۔ ابتدا میں سوویت یونین نے اپنے مفادات کے حصول کے لیے اس سرزمین پر قدم رکھا۔ بعد ازاں امریکہ نے مختلف حیلوں بہانوں سے افغانستان میں داخل ہوکر اپنے قدم جمالیے۔ یہاں پراکسی نیٹ ورکس قائم کیے گئے اور خطے میں دیرپا مفادات کے حصول کی کوششیں کی گئیں۔ تاہم یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ افغانستان میں موجود طالبان کو دنیا کے ماہر گوریلا جنگ جوؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ طالبان کی بھرپور مزاحمت کے نتیجے میں بالآخر امریکہ کو افغانستان سے اپنا بوریا بستر گول کرنا پڑا۔
یہ بات ذہن نشین رہنی چاہیے کہ امریکہ بہ ظاہر افغانستان سے نکل تو چکا ہے، مگر اس کے مفادات آج بھی اس خطے سے جڑے ہوئے ہیں اور اس کی نظر بہ دستور افغانستان پر مرکوز ہے۔ چوں کہ افغانستان سے انخلا کا فیصلہ جو بائیڈن انتظامیہ نے کیا تھا، اس لیے ڈونلڈ ٹرمپ اس فیصلے سے مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ ٹرمپ کے نزدیک افغانستان، بالخصوص بگرام ایئر بیس، چین اور ایران جیسے ایشیائی حریف ممالک پر نظر رکھنے کے لیے ایک اسٹریٹیجک مرکز کی حیثیت رکھتا ہے۔ ابتدا میں ٹرمپ انتظامیہ نے اس ایئر بیس کے حصول کے لیے سفارتی ذرائع استعمال کیے، مگر جب طالبان نے دو ٹوک مؤقف اپناتے ہوئے ایک بھی انچ تک زمین دینے سے انکار کر دیا، تو معاملہ سخت بیانات اور دھمکیوں تک جا پہنچا۔ ٹرمپ نے متعدد بیانات اور ٹویٹس کے ذریعے افغانستان کو سخت نتائج کی تنبیہ کی۔
قارئینِ کرام! یہاں بگرام ایئر بیس کے حوالے سے چند اہم حقائق پر روشنی ڈالنا ضروری ہے، تاکہ یہ سمجھا جاسکے کہ امریکہ اس اڈے کے حصول کے لیے کیوں بے چین نظر آتا ہے۔ بگرام ایئر بیس افغانستان کے صوبہ پروان میں، کابل سے تقریباً 40 کلومیٹر شمال میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر 1950 عیسوی کی دہائی میں سوویت یونین کی مدد سے کی گئی۔ 2001 عیسوی میں نیٹو افواج کی آمد کے بعد اسے افغانستان میں مرکزی امریکی فوجی اڈے کی حیثیت حاصل ہوگئی۔ 2001 عیسوی سے 2021 عیسوی تک بگرام امریکی اور نیٹو افواج کا سب سے بڑا عسکری مرکز رہا، جہاں سے فضائی حملے، ڈرون آپریشنز، انٹیلی جنس سرگرمیاں اور لاجسٹک سپورٹ وغیرہ فراہم کیا جاتا تھا۔ جولائی 2021 عیسوی میں امریکی افواج نے اچانک یہ بیس خالی کر دیا، جس کے بعد طالبان نے فوری طور پر اس پر کنٹرول سنبھال لیا، جو تاحال برقرار ہے۔
جغرافیائی اعتبار سے بھی اس بیس کی اہمیت غیر معمولی ہے۔ کیوں کہ یہ چین کے صوبہ سنکیانگ کے قریب واقع ہے اور واخان کوریڈور کے ذریعے افغانستان اور چین کے درمیان مختصر سرحد بھی موجود ہے۔ چین کو ہمیشہ یہ خدشہ رہا ہے کہ سنکیانگ میں سرگرم شدت پسند عناصر افغانستان کی سرزمین استعمال نہ کریں، جب کہ امریکہ، بگرام ایئر بیس حاصل کرنے کے بعد اسی مقصد کے لیے اسے استعمال کرسکتا ہے۔ مزید برآں، سنکیانگ کا دارالحکومت اُرمچی، بگرام سے تقریباً ایک ہزار کلومیٹر، جب کہ چین کی لوپ نور نیوکلیئر ٹیسٹ سائٹ تقریباً چودہ سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہی عوامل بگرام ایئر بیس کو امریکہ کے لیے غیر معمولی اہمیت دیتے ہیں۔
ان حقائق کے تناظر میں اگر ہم اس خطے میں مغربی استعماری طاقتوں کے کردار پر نظر ڈالیں، تو یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو کس طرح اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے… اور خصوصاً پاکستان اس پالیسی کا سب سے بڑا شکار رہا ہے۔ پاکستان کے موجودہ وزیرِ دفاع کی متعدد تقاریر اس امر کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان میں پاکستان کی لڑی گئی جنگیں درحقیقت مغربی مفادات کے لیے تھیں۔ اس سے یہ نتیجہ اخذ کیا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی طویل عرصے تک خودمختار نہیں رہی، بل کہ عالمی طاقتوں کے دباو کے تحت تشکیل پاتی رہی، جس کا خمیازہ افغانستان اور خود پاکستان دونوں نے بھگتا۔
اسی تناظر میں ٹرمپ کا یہ بیان بھی قابلِ غور ہے کہ پاکستان کا ایک مخصوص حکم ران ’’میری ڈکٹیشن بہت اچھے طریقے سے لیتا ہے!‘‘ یہی وجہ ہے کہ وہ اس وقت پاکستان کی خارجہ پالیسی پر اطمینان کا اظہار کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
یہ بھی ایک افسوس ناک حقیقت ہے کہ جب پاکستان کے حکم ران امریکی مطالبات تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہیں، تو رجیم چینج یا سیاسی دباو کے ذریعے ایسے حکم ران لائے جاتے ہیں، جو امریکی ڈکٹیشن پر عمل کرتے ہیں۔ میرے ناقص علم کے مطابق اس کی واضح مثال عمران خان ہیں، جنہوں نے "Absolutely Not” کی پالیسی اپنائی اور امریکہ کو اڈے دینے سے انکار کیا، جس کا خمیازہ وہ آج تک بھگت رہے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ عالمی طاقتوں کے سامنے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی خودمختاری محدود ہی رہی ہے۔
ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کئی دہائیوں سے جاری ہے، اور اس سے پاکستان کو بے پناہ نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ تاہم رمضان المبارک جیسے مقدس مہینے میں افغانستان پر اچانک فضائی اور زمینی حملوں کا آغاز کئی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ خصوصاً اس پس منظر میں کہ ماضی میں پاکستان کی سرزمین بھی افغانستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے اور نیٹو کی سپلائی لائنز بھی یہی سے گزرتی تھیں۔ ایسے میں حملوں سے قبل مذاکرات اور ڈائیلاگ کا راستہ اختیار کیا جانا زیادہ مناسب تھا۔ کیوں کہ افغانستان ایک برادر اسلامی اور ہمسایہ ملک ہے… اور دونوں مغربی استعماری قوتوں کی وجہ سے ایک دوسرے کے خلاف استعمال ہوئے۔
آئینی اعتبار سے بھی یہ اقدام سنگین سوالات کو جنم دیتا ہے۔ اگر دیکھا جائے، تو آئین پاکستان کی دفعہ 243 کے تحت مسلح افواج کا انتظامی اختیار وفاقی حکومت کے پاس ہے، جب کہ اعلا کمان صدرِ مملکت کے سپرد ہے، جو وزیرِ اعظم اور کابینہ کے مشورے ہی سے فیصلے کرنے کے پابند ہیں۔ پارلیمان کو اعتماد میں لیے بغیر کسی جنگی اقدام کا فیصلہ آئینی تقاضوں کے منافی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ فیصلہ جمہوری عمل کے بہ جائے شخصی بنیادوں پر کیا گیا۔
آخر میں یہ حقیقت بھی نظر انداز نہیں کی جاسکتی کہ پاکستان شدید اقتصادی اور سفارتی دباو کے باعث امریکہ کی رضامندی کے بغیر کسی بڑے عسکری آپریشن کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ اسی لیے افغانستان پر حملہ ایک پیچیدہ عالمی سیاسی کھیل کا حصہ دکھائی دیتا ہے، جس میں امریکی مفادات نمایاں ہیں۔ خود ٹرمپ کا یہ کہنا کہ ’’پاکستان، افغانستان کے ساتھ جو کچھ کر رہا ہے وہ ’درست‘ ہے۔‘‘ ٹرمپ کا یہ بیان اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ اقدامات امریکی مفادات کے تحت ہی ہو رہے ہیں، جن کا حتمی مقصد بگرام ایئر بیس جیسے اسٹریٹیجک مراکز کا حصول اور افغانستان میں ممکنہ رجیم چینج ہے۔
حالیہ حملوں کے بعد افغانستان کے پاس آپشنز تیزی سے محدود ہوتے جا رہے ہیں، اور بعید نہیں کہ امریکہ مستقبل قریب میں بگرام ایئر بیس کے بدلے افغانستان کو کسی رعایت یا تعاون کی پیش کش کرے۔ یوں ایک بار پھر پاکستان ایک نہ ختم ہونے والی جنگوں اور دہشت گردی کی دلدل میں پھنستا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔ وہی دہشت گردی، جو بڑی مشکل سے تھمی تھی، اب دوبارہ زور پکڑتی محسوس ہو رہی ہے۔ اس جنگ سے اگرچہ پاکستان کو وقتی کام یابی حاصل ہوسکتی ہے، مگر اس کے سنگین نتائج پاکستان کو کئی دہائیوں تک بھگتنا پڑیں گے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے