گذشتہ دو دہائیوں میں خیبر پختونخوا کا سماجی و سیاسی منظرنامہ غیر معمولی تغیرات سے گزرا ہے۔ عسکریت پسندی، ریاستی آپریشنز، نقلِ مکانی، عالمی سیاست کے اثرات، اور اب سوشل میڈیا کی برق رفتار دنیا، یہ سب عوامل مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے چکے ہیں، جہاں ہر واقعہ فوری طور پر ایک وسیع نظریاتی بحث میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ چاہے معاملہ وزیرستان کی ایک کم سن بچی کی کرکٹ ویڈیو ہو، یا کسی جامعہ میں ثقافتی پروگرام، ردِعمل محض ایک واقعے تک محدود نہیں رہتا، بل کہ ایک گہرے فکری تصادم کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔
آئینہ وزیر: امید، پذیرائی اور سوالات:۔ حال ہی میں وزیرستان سے تعلق رکھنے والی ایک کم سن بچی، آئینہ وزیر، کی کرکٹ کھیلتے ہوئے ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی۔ اس ویڈیو میں اُس کی گیند بازی کا انداز معروف جنوبی افریقی فاسٹ باؤلر "Dale Steyn” سے مشابہ قرار دیا گیا۔ پاکستان جیسے کرکٹ سے جذباتی وابستگی رکھنے والے معاشرے میں یہ ویڈیو تیزی سے مقبول ہوئی۔ معروف کاروباری شخصیت "Javed Afridi” کی جانب سے ’’پشاور زلمی‘‘ کے لیے طویل المدتی کنٹریکٹ کی پیش کش نے اس بچی کو ایک علامتی حیثیت عطا کر دی۔ گویا ایک ایسے خطے سے امید کی کرن ابھری، جو طویل عرصے سے بدامنی کا شکار رہا ہے۔
تاہم اس مُثبت پیش رفت کے ساتھ بعض خدشات اور سوالات بھی سامنے آئے۔ اطلاعات کے مطابق ویڈیو بنانے والے شخص کو مبینہ طور پر حراست میں لیا گیا۔ بعد ازاں اُسے رہائی ملی لیکن بچی کے خاندان کو حفاظتی خدشات لاحق ہوئے۔ ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق اپنی جگہ اہم ہے، لیکن یہ امر واضح ہے کہ وزیرستان اور ملحقہ قبائلی علاقے اب بھی ایک حساس سماجی و سیاسی ماحول میں سانس لے رہے ہیں۔
عسکری پس منظر اور اجتماعی نفسیات:۔ وزیرستان اور سوات سمیت خیبر پختونخوا کے کئی علاقے گذشتہ 20 برسوں سے عسکریت پسندی اور ریاستی کارروائیوں کا مرکز رہے ہیں۔ 2009 عیسوی میں سوات میں ہونے والی کارروائی، جسے ’’آپریشن راہِ راست‘‘ (Operation Rah-e-Rast) کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک اہم موڑ ثابت ہوئی۔ اس سے قبل ایک ویڈیو منظرِ عام پر آئی تھی، جس میں ایک کم سن لڑکی کو سرِ عام کوڑے مارے جاتے دکھایا گیا۔ اس واقعے پر عالمی سطح پر ردِعمل سامنے آیا؛ اُس وقت کے اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل "Ban Ki-moon”، امریکی صدر "Barack Obama” اور وزیرِ خارجہ "Hillary Clinton” سمیت متعدد عالمی راہ نماؤں نے مذمت کی۔ بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان "Supreme Court of Pakistan” نے اس معاملے پر از خود نوٹس بھی لیا اور بعض پہلوؤں کو مشکوک قرار دیا۔
ان واقعات نے صوبے کی اجتماعی نفسیات پر گہرے اثرات مرتب کیے۔ لاکھوں افراد بے گھر ہوئے، معاشی و تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، اور ایک عدم تحفظ کا احساس طویل عرصے تک برقرار رہا۔ اسی پس منظر میں جب کوئی مُثبت واقعہ سامنے آتا ہے، تو وہ محض انفرادی کام یابی نہیں رہتا، بل کہ اجتماعی امید کی علامت بن جاتا ہے۔
ملالہ، اے پی ایس اور عالمی بیانیہ:۔ 2012 عیسوی میں سوات سے تعلق رکھنے والی طالبہ ملالہ یوسف زئی (Malala Yousafzai) پر حملہ ایک اور سنگین واقعہ تھا، جس نے عالمی توجہ حاصل کی۔ بعد ازاں اسے نوبل انعام سے بھی نوازا گیا۔ اس واقعے نے بھی معاشرے کو دو واضح طبقات میں تقسیم کر دیا۔ ایک طبقہ ملالہ کو خواتین کی تعلیم کی علامت کے طور پر پیش کرتا رہا، جب کہ دوسرا طبقہ شکوک و شبہات کا اظہار کرتا رہا۔
اسی طرح ’’آرمی پبلک سکول، پشاور‘‘ (Army Public School Peshawar) کا سانحہ قومی تاریخ کا دردناک باب ہے، جس نے ملک گیر سطح پر پالیسی سازی اور سلامتی کے اقدامات کو متاثر کیا۔ ان واقعات نے خیبر پختونخوا میں فکری تقسیم کو مزید نمایاں کیا، جہاں ہر سانحہ یا پیش رفت فوری طور پر نظریاتی بحث میں ڈھل جاتی ہے۔
ثقافتی اظہار اور جامعات کا کردار:۔ 2025 عیسوی کے اواخر میں ملاکنڈ یونیورسٹی (University of Malakand) میں ایک ثقافتی پروگرام کے دوران میں پولیٹیکل سائنس کے لیکچرار ساجد کے طلبہ کے ساتھ ’’اتنڑ‘‘ (روایتی رقص) کی ویڈیو وائرل ہوئی۔ اُسی عرصے میں ’’خیبر میڈیکل کالج‘‘ (Khyber Medical University) کی ایک کانووکیشن تقریب میں ایک طالبہ کی ڈگری وصولی کے ایک منفرد انداز کی ویڈیو بھی موضوعِ بحث بنی۔ ان واقعات نے سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل کو جنم دیا۔
دل چسپ امر یہ ہے کہ اسی دوران میں ’’پنجاب یونیورسٹی‘‘ (University of the Punjab) اور ’’قائد اعظم یونیورسٹی‘‘ (Quaid-i-Azam University) میں میوزک شوز اور بسنت میلے منعقد ہوئے، جن میں مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے شرکت کی۔ تاہم ان تقریبات پر خیبر پختونخوا جیسے شدید ردِعمل کی مثال سامنے نہیں آئی۔ یہ تضاد اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ علاقائی حساسیت اور شناختی سیاست ردِعمل کی شدت کو کس طرح متاثر کرتی ہے۔
فکری تقسیم… دلائل اور بیانیے:۔ خیبر پختونخوا میں عمومی طور پر دو فکری رجحانات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ایک طبقہ قوم پرست یا سیکولر سوچ رکھتا ہے، جس میں ’’عوامی نیشنل پارٹی‘‘ (Awami National Party)، ’’پختونخوا ملی عوامی پارٹی‘‘ (Pashtunkhwa Milli Awami Party) اور ’’پشتون تحفظ موومنٹ‘‘ (Pashtun Tahaffuz Movement) جیسے حلقے شامل کیے جاتے ہیں۔ ان کے نزدیک پشتون ثقافت اور روایات کا تحفظ اولین ترجیح ہے، اور وہ عسکریت پسندی یا سخت مذہبی تعبیرات کو اس ثقافت کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
دوسری جانب مذہبی یا اسلام پسند طبقہ موجود ہے، جس میں ’’جماعت اسلامی‘‘ (Jamaat-e-Islami) اور ’’جمیعت علمائے اسلام- فضل الرحمان‘‘ (Jamiat Ulema-e-Islam-Fazl) جیسے گروہ شامل ہیں۔ ان کے نزدیک معاشرتی نظم و ضبط اور مذہبی اقدار کا تحفظ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ ’’اتنڑ‘‘ یا جامعات میں رقص کے واقعات پر ان کا مؤقف یہ تھا کہ تعلیمی اداروں کو ایک خاص وقار اور سنجیدگی کا حامل ہونا چاہیے اور سرِ عام اس نوعیت کی سرگرمیاں روایتی اقدار سے متصادم ہوسکتی ہیں۔
اس کے برعکس لبرل حلقوں نے ’’اتنڑ‘‘ کو پشتون ثقافت کا قدیم جزو قرار دیتے ہوئے اس تنقید کو ثقافتی جبر سے تعبیر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ثقافت کی جڑیں ہزاروں سال پرانی ہیں اور اسے مذہبی تعبیرات کے ذریعے محدود کرنا درست نہیں۔ یوں دونوں طبقات کے دلائل اپنی اپنی بنیادوں پر قائم نظر آتے ہیں، مگر مکالمہ اکثر جذباتی رنگ اختیار کر لیتا ہے۔
عورت، وقار اور سماجی تضادات:۔ خواتین کی تعلیمی و ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کے حوالے سے بحث نے مزید پیچیدگی اختیار کی۔ لبرل حلقوں کا استدلال ہے کہ اگر خواتین کو جائیداد میں ان کا قانونی حق نہ دیا جائے، یا انھیں سماجی و معاشی دباو کا سامنا ہو، تو ان مسائل پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے، مگر جب وہ کسی ثقافتی تقریب میں حصہ لیں، تو اسے اخلاقی مسئلہ بنا دیا جاتا ہے۔
مذہبی حلقے اس مؤقف کو رد کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اصلاحِ معاشرہ کا مطلب حدود سے تجاوز نہیں، بل کہ ایک متوازن نظام ہے، جس میں عزت و وقار کو مقدم رکھا جائے۔ ان کے نزدیک مغربی طرز کے اظہار کو بلا تنقید قبول کرنا معاشرتی انتشار کو بڑھا سکتا ہے۔
سیاسی و جغرافیائی تناظر:۔ اگست 2021 عیسوی میں "Doha Agreement” کے بعد افغانستان میں تبدیلیاں آئیں، جن کے اثرات سرحدی علاقوں تک محسوس کیے گئے۔ اسی تناظر میں بعض افراد آئینہ وزیر کے واقعے کو موجودہ سیاسی حالات سے جوڑتے ہیں، خاص طور پر جب صوبے میں ’’پاکستان تحریکِ انصاف‘‘ (Pakistan Tehreek-e-Insaf) کی حکومت اور اس کی کرکٹ سے وابستہ قیادت کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ کچھ حلقے سوال اٹھاتے ہیں کہ آیا کھیلوں کے فروغ کے ذریعے مخصوص علاقوں میں سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کی حکمت عملی تو کار فرما نہیں، یا کیا بعض مثبت واقعات کے ذریعے سیکورٹی معاملات سے توجہ ہٹانے کی کوشش کی جاتی ہے؟
یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہوسکتے ہیں، مگر کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے کے لیے ٹھوس شواہد اور غیر جانب دار تحقیق ضروری ہے۔ قیاس آرائیوں پر مبنی بیانیہ معاشرتی تقسیم کو مزید گہرا کرسکتا ہے۔
نتیجہ… سنجیدہ مکالمے کی ضرورت:۔ خیبر پختونخوا کا معاشرہ تاریخی، ثقافتی اور مذہبی حوالوں سے نہایت متنوع ہے۔ سوشل میڈیا نے اظہارِ رائے کو وسعت دی ہے، مگر ساتھ ہی پولرائزیشن کو بھی تقویت دی ہے۔ ہر واقعہ فوری طور پر نظریاتی جنگ کا میدان بن جاتا ہے، جس کے نتیجے میں اصل مسائل (تعلیم، روزگار، سلامتی، اور سماجی انصاف) پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ جذباتی ردِعمل کے بہ جائے فکری دیانت اور سنجیدہ مکالمے کو فروغ دیا جائے۔ ثقافت اور مذہب کو ایک دوسرے کے مقابل لاکھڑا کرنے کے بہ جائے ان کے درمیان توازن تلاش کیا جائے۔ خواتین کے حقوق، نوجوانوں کے ثقافتی اظہار اور علاقائی سلامتی جیسے موضوعات پر علمی بحث ہی ایک متوازن اور باشعور معاشرے کی بنیاد رکھ سکتی ہے۔
اگر ہم ہر واقعے کو فوری نظریاتی عینک سے دیکھنے کے بہ جائے وسیع تر اجتماعی مفاد کو پیش نظر رکھیں، تو ممکن ہے کہ خیبر پختونخوا فکری تقسیم کے اس دائرے سے نکل کر ایک زیادہ معتدل، ہم آہنگ اور ترقی پسند سمت میں آگے بڑھ سکے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










