حکومتِ پنجاب کی ہدایت پر ’’پنجاب بیوٹی فیکشن پراجیکٹ‘‘ (Punjab Beautification Project) کے تحت ضلع جہلم کی تحصیل دینہ میں نصب شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹاکر اُس کی جگہ ’’سلطان سارنگ گھکڑ‘‘ کا مجسمہ نصب کر دیا گیا ہے۔ مجسمے کی تختی کی نقاب کشائی دینہ کی اسسٹنٹ کمشنر محترمہ صفا عبد نے کی۔
نقاب کشائی کی تختی پر درجِ الفاظ رقم ہیں:
’’سلطان سارنگ گھکڑ۔ اے یادگاری مجسمہ پنجابی قوم دی جرأت، بہادری، غیرت تے تاریخی ورثے نوں خراجِ تحسین پیش کرن لئی قائم کیتا گیا اے۔ پنجاب نیشنل موومنٹ پاکستان۔ جیوے پنجابی قوم جیوے، جیوے پنجاب، وسے سوہنڑا پاکستان!‘‘
اس میں کوئی شک نہیں کہ سلطان سارنگ گھکڑ ایک بہادر سردار تھا اور اُس نے غلامی کی ذلت بھری زندگی پر موت کو ترجیح دیتے ہوئے اپنی دھرتی پر جان نچھاور کی۔ یہ اُس کا حق بنتا ہے کہ اُس کی خدمات کو یاد رکھنے کے لیے اُس کی یادگار تعمیر کی جائے، لیکن شیر شاہ سوری، جو غیر پنجابی سردار تھا، کا مجسمہ ہٹا کر اُس کی جگہ سلطان سارنگ گھکڑ کا مجسمہ نصب کرنا دانش مندی اور ریاست کے لیے اچھا شگون نہیں۔ حکومتِ پنجاب کو چاہیے تھا کہ سلطان سارنگ گھکڑ کا مجسمہ جہلم یا دینہ میں کسی اور مقام پر نصب کرتی، تو اس عمل سے بہتر تاثر جاتا۔
اگر شیر شاہ سوری کے مجسمے کو ہٹانے کی یہ توجیہ پیش کی جا رہی ہے کہ وہ غیر پنجابی تھا، تو سلطان سارنگ گھکڑ کے بارے میں بھی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کہ وہ بھی پنجابی نہیں تھا۔ خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ اُس کا تعلق تاتار قوم سے تھا اور اُس کے والد نے اپنا نام بھی تاتار خان رکھا تھا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گھکڑ، ترک آریائی (کیانی) تھے، جو پہلے زرشتی مذہب سے تعلق رکھتے تھے، اس لیے اُسے گھکڑ (سنسکرت میں آگ کی پوجا کرنے والے) کہا جاتا تھا۔ اس طرح بعض اُسے ساسانی فارسی اُمرا سے بھی منسوب کرتے ہیں۔
کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ گھکڑ فارسی لقب ’’کی‘‘ یا ’’کیانی‘‘ استعمال کرتے تھے، جیسا کہ ساسانی اشرافیہ کیا کرتی تھی، کیوں کہ وہ قدیم ایران کے افسانوی بادشاہ کیانی سے تعلق کا دعوا کرتے تھے، جب کہ ’’محمد قاسم فرشتہ‘‘ (تاریخِ فرشتہ کے مصنف) اسے ہندوستانی کھشتری قبیلہ قرار دیتے ہیں۔
ہم کسی بھی بنیاد پر کسی کا مجسمہ ہٹائیں یا نصب کریں، اس سے تاریخ کی صحت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس فیصلے کے ساتھ پنجاب کے حکم رانوں کو یہ فیصلہ بھی کرنا چاہیے کہ ’’پنجاب دا سلطان‘‘ مہاراجہ رنجیت سنگھ تھا، جس کا مجسمہ 27 جون 2019ء کو اُن کی برسی کے موقع پر شاہی قلعہ میں مائی جنداں حویلی میں نصب کیا گیا تھا، یا ’’پنجاب دا سلطان‘‘ سارنگ گھکڑ ہے؟
اگر پنجاب حکومت غیر پنجابی ہونے کی بنیاد پر تاریخی مقامات یا یادگاروں کو مسمار کرنا چاہتی ہے، تو پھر اُن تمام یادگاروں کو مسمار کرنا ہوگا جو غیر پنجابیوں نے تعمیر کیں، یا جو اُن کی یادگاریں ہیں۔
شیر شاہ سوری نے بنگال سے پشاور تک جی ٹی روڈ تعمیر کروائی اور جہلم میں قلعۂ روہتاس تعمیر کیا۔ پھر تو مذکورہ مقامات کا نام و نشان بھی مٹانا ہوگا۔ کیوں کہ وہ بھی تو کسی غیر پنجابی کی تعمیر کردہ ہیں۔
حضرت داتا گنج بخش، جن کا مزار لاہور میں ہے اور جو افغانستان سے آئے تھے، کے مزار کو بھی مسمار کرنا ہوگا۔
ملتان میں بہاؤ الدین زکریا، جن کا تعلق خوارزم شاہی خاندان سے تھا اور جو افغانستان سے آئے تھے، کے مزار کا بھی نام و نشان مٹانا پڑے گا۔
پاکپتن میں مدفن بابا فرید، جن کا تعلق بھی افغانستان سے تھا، کے مزار کو بھی ملیامیٹ کرنا ہوگا۔
مغل بادشاہ، جو افغانستان سے آئے تھے، کی تعمیرات )لاہور کا شاہی قلعہ، شاہی مسجد، شالامار باغ اور مقبرۂ جہانگیر) کو بھی پنجاب کی دھرتی سے مٹانا ہوگا۔ کیوں کہ وہ بھی غیر پنجابی تھے۔
سلطان سارنگ گھکڑ ’’پنجاب دا سلطان‘‘ کیسے ہوسکتا ہے، جب کہ اُس نے مغلوں کی مدد کی اور اُس کی سرداری مغلوں ہی کی مرہونِ منت تھی؟
انگریز، جو سات سمندر پار سے ہندوستان آئے، نے پنجاب میں ریلوے لائنیں بچھائیں، اُنھیں بھی اُکھاڑنا ہوگا۔
لاہور میں گنگا رام ہسپتال بھی ایک انگریز نے تعمیر کیا تھا، اُس کی مذکورہ یادگار بھی مسمار کرنا ہوگی۔
اسلام، جو غیر پنجابیوں محمد بن قاسم اور سلطان محمود غزنوی کے ذریعے ہندوستان اور پنجاب میں پھیلا، کا دروازہ بھی بند کرنا ہوگا۔
سرکاری سرپرستی میں شیر شاہ سوری کا مجسمہ ہٹاکر اُس کی جگہ سلطان سارنگ گھکڑ کا مجسمہ نصب کرنے کا تعلق تاریخ سے زیادہ مستقبل میں پیدا ہونے والی نسلوں کی تقسیم سے ہے، جو مقامی و غیر مقامی، سندھی، بلوچی، پٹھان اور پنجابی کی بنیاد پر ہوگی۔ اس سے باہمی نفرت بڑھے گی اور لڑائی جھگڑے جنم لیں گے۔
دوسری طرف نسلی بنیادوں پر مجسمہ نصب کرنے کے بعد اس کے اثرات سامنے آنا شروع ہوچکے ہیں۔ ایک فیس بک صارف، جس نے اپنا نام ظاہر نہیں کیا، لکھتا ہے کہ ’’احمد شاہ ابدالی اور دیگر افغان حملہ آور پنجاب پر حملہ کرکے لوٹ مار کرتے تھے۔ اب اُن کی نسل پنجاب میں ریڑھیاں لگا کر عینکیں، رومال اور چھلیاں بیچتی ہے۔‘‘
اُردو شاعری کے ایک فیس بک پیج پر افغانوں کو مٹی ڈھونے اور بوٹ پالش کرنے والوں کا طعنہ دیا گیا۔ مزید لکھا گیا کہ جی ٹی روڈ اور قلعہ روہتاس شیر شاہ سوری نے نہیں بنائے… اور اگر بنائے بھی ہیں، تو وہ پیسے افغانستان سے نہیں لایا، بل کہ یہیں سے لوٹ کر لگائے۔ نیز مذکورہ پوسٹ میں پشتونوں کے خلاف نازیبا الفاظ بھی استعمال کیے گئے۔
نسلی اور غیر پنجابی بنیاد کو ہوا دے کر وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف اور وزیرِ اعظم کے مشیر رانا ثناء اللہ کی جانب سے بھی احمد شاہ ابدالی، سلطان شہاب الدین غوری اور دیگر پشتون مسلم سرداروں کو لٹیرے قرار دینا ریاست کے لیے بالکل نیک شگون نہیں۔
قابلِ غور بات یہ ہے کہ شیر شاہ سوری کا مزار ہندوستان کی ریاست بہار کے شہر ساسارام میں آج بھی موجود ہے، لیکن وہاں کے حکم رانوں نے اُسے بیرونی حملہ آور قرار دے کر اُس کے مزار کو مسمار نہیں کیا، بل کہ اُس پر 24 گھنٹے سرکاری گارڈ تعینات ہے۔ پنجاب حکومت اپنے ہیروز (راجہ پورس، مہاراجہ رنجیت سنگھ اور بھگت سنگھ) کے مجسمے لگائے، ہمیں کوئی اعتراض نہیں… لیکن سارنگ گھکڑ پنجابی تھا اور نہ پنجاب کے ساتھ مخلص، بل کہ اُس نے پنجاب کے خلاف مغلوں کا ساتھ دیا۔
پنجاب کے حکم رانوں کو یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ وہ خود بھی پنجابی نہیں، بل کہ کشمیری النسل ہیں… اور بعید نہیں کہ کوئی اس بنیاد پر جاتی امرا کو ’’کشمیریوں کی راجدھانی‘‘ قرار دے کر مسمار کرنے کا مطالبہ کر دے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفت گو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










