جب کسی ملک میں زمین زرخیز ہو، پانی وافر ہو، مزدور محنتی ہو اور فطری ماحول موافق ہو، تو وہاں خوش حالی اور خودکفالت کا ہونا ایک فطری نتیجہ ہوتا ہے، مگر جب ان تمام نعمتوں کے باوجود کسان غربت، مقروضیت اور دیوالیہ پن کا شکار ہو، تو اس کا مطلب ہے کہ ریاست اپنے بنیادی معاشی ستونوں سے غافل ہوچکی ہے۔ آج پاکستان کی دیہی زمین پر یہی سانحہ رونما ہو رہا ہے۔ پچھلے ڈیڑھ مہینے سے ملک کے طول و عرض میں سبزیاں، خاص طور پر ٹماٹر، پیاز، آلو، توری، کدو، بینگن اور بھنڈی ایسے سستے داموں فروخت ہو رہی ہیں کہ کسان کی ہمت اور حوصلہ دونوں ٹوٹ چکے ہیں۔
زراعت کا پہلا اُصول یہ ہے کہ کاشت کار کو کم از کم اپنی لاگت واپس ملنی چاہیے…… لیکن کیا موجودہ حالات میں ایسا ممکن ہے؟
ہرگز نہیں……! جو کسان ٹریکٹر کرائے پر لیتا ہے، بیج منڈی سے خریدتا ہے، کھاد کو بلیک میں حاصل کرتا ہے، جراثیم کُش ادویہ مہنگے داموں لیتا ہے اور سب کچھ اُدھار پر کرتا ہے۔ وہ جب اپنی سبزی لے کر منڈی پہنچتا ہے، تو اُسے فی من چند سو روپے ہی ملتے ہیں۔
موجودہ منڈی ریٹ کے مطابق کسان کو ٹماٹر کا ریٹ 20 سے 30 روپے فی کلو، آلو 50 روپے اور بھنڈی 10 روپے فی کلو مل رہا ہے…… جب کہ اس کی فی ایکڑ لاگت ہزاروں میں ہے۔ اس نقصان نے کسانوں کو نہ صرف شدید مالی پریشانی میں مبتلا کر دیا ہے، بل کہ آیندہ فصل کی کاشت کی ہمت بھی سلب کر لی ہے۔
پاکستان کی زرعی منڈیاں آج بھی اسی فرسودہ اور استحصالی نظام کے تحت چل رہی ہیں، جہاں آڑھتی اور بیوپاری کسان کے خون پسینے سے کماتے ہیں۔ کسان کو منڈی میں ریٹ کا نہ علم ہوتا ہے، نہ شفاف طریقے سے اس کی فصل تولی جاتی ہے۔ اگر کوئی کسان آواز اٹھائے، تو یا تو اُسے اگلی بار جگہ نہیں دی جاتی، یا پھر اُس کی فصل کو خراب کر دیا جاتا ہے۔
کیا یہ ریاست کی ذمے داری نہیں کہ وہ کسان کو تحفظ دے؟ کیا یہ حکومت کی ناکامی نہیں کہ وہ بنیادی زرعی نظام کو اصلاحات سے پاک کرنے میں ناکام رہی ہے؟
گذشتہ دو سالوں میں یوریا، ڈی اے پی اور دیگر کھادوں کی قیمتیں کئی گنا بڑھ چکی ہیں۔ ایک کسان کو صرف ایک ایکڑ زمین پر کھاد ڈالنے کے لیے 10 سے 15 ہزار روپے کی سرمایہ کاری کرنا پڑتی ہے۔
اس طرح ڈیزل، جو پانی نکالنے اور ٹریکٹر چلانے کے لیے ضروری ہے، اُس کی قیمت بھی مسلسل بڑھتی جا رہی ہے۔ مزدور بھی مہنگے ہوگئے ہیں، اور سپرے ادویہ عام کسان کی پہنچ سے باہر ہو چکی ہیں…… مگر سب سے افسوس ناک بات یہ ہے کہ ان بڑھتے اخراجات کے باوجود کسان کو نہ کوئی سبسڈی دی جاتی ہے، نہ سہولت، نہ سہارے کی یقین دہانی۔
یہ ایک خطرناک حقیقت ہے کہ جب کسی فصل کا ریٹ مسلسل گرتا ہے، تو اگلے سیزن میں وہ فصل کاشت ہی نہیں کی جاتی۔
یہی صورتِ حال سبزیوں کے ساتھ پیش آ رہی ہے۔ کسانوں نے کھیتوں میں سبزیاں تلف کرنا شروع کر دی ہیں۔ بعض نے فصلیں جانوروں کو کھلا دی ہیں۔ کیوں کہ منڈی تک لے جانے میں مزید نقصان ہوتا ہے۔
اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آیندہ سیزن میں سبزیوں کی شدید قلت ہو گی اور قیمتیں آسمان کو چھوئیں گی۔ غریب کے دسترخوان سے سبزیاں غائب ہوجائیں گی۔ یہی قانونِ منڈی ہے، جب رسد کم ہوتی ہے، طلب بڑھتی ہے اور قیمتیں بے قابو ہو جاتی ہیں۔
’’حکومت کہاں ہے؟‘‘
یہ سوال اب عام ہوچکا ہے۔ دیہی علاقوں میں ہر کسان پوچھ رہا ہے کہ حکومت کہاں ہے، زرعی پالیسی کہاں ہے، سبسڈی کہاں ہے، کم از کم قیمت (سپورٹ پرائس) کہاں ہے، کسانوں کو بہ راہِ راست خریداری کے مراکز کیوں نہیں دیے جا رہے، آخر یہ حکومت صرف شہروں کی بات کیوں کرتی ہے؟
اس طرح وزیرِ زراعت کہاں ہیں؟ وہ کسانوں کے درمیان کیوں نہیں آ رہے ؟ اُن کے اجلاس صرف ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں، رپورٹوں اور فائلوں کے درمیان کیوں محدود ہیں؟ کسان تو کھیت میں مر رہا ہے، قرض میں ڈوبا ہے، خودکشی پر مجبور ہو رہا ہے۔ کیا یہ کافی نہیں کہ اُسے سنجیدگی سے لیا جائے؟
ایک اور سنگین مسئلہ یہ ہے کہ دیہی نوجوان زراعت سے بے زار ہوچکے ہیں۔ جو بچہ کبھی زمین کو ماں کہتا تھا، اَب وہ زمین کو بوجھ سمجھتا ہے۔ کیوں کہ وہ دیکھ رہا ہے کہ اُس کے والد کی محنت کا کوئی صلہ نہیں ملا۔ وہ شہروں میں چوکی داری کو ترجیح دیتا ہے، مگر کھیتوں میں ہل نہیں چلانا چاہتا۔
یہ رحجان اگر نہ رُکا، تو پاکستان مستقبل میں زرعی ملک کہلانے کے قابل نہیں رہے گا۔ ہمیں زراعت کو ایک باعزت، نفع بخش اور جدید پیشہ بنانا ہو گا، ورنہ ہم درآمدی خوراک کے محتاج ہو جائیں گے۔
اب بہ ہر صورت حکومت کو فوری طور پر درج ذیل اقدامات اٹھانے ہوں گے:
٭ سبزیوں کے لیے کم از کم قیمت مقرر کی جائے، جیسا کہ گندم کے لیے کی جاتی ہے۔
٭ کسانوں کو بہ راہِ راست سبزی خریدنے والے مراکز دیے جائیں، تاکہ آڑھتیوں سے نجات مل سکے۔
٭ زرعی کھاد، ادویہ اور بیج پر سبسڈی فوری طور پر فراہم کی جائے۔
٭ منڈیوں میں اصلاحات کی جائیں اور کسان کے لیے شفاف نظام متعارف کرایا جائے۔
٭ زرعی انشورنس کو عام کیا جائے، تاکہ قدرتی آفات میں کسان کو تحفظ ملے۔
٭ زرعی قرضے آسان شرائط پر ہر چھوٹے کسان تک پہنچائے جائیں۔
٭ نوجوان کسانوں کو ترغیب دینے کے لیے خصوصی پروگرام اور تربیتی مراکز قائم کیے جائیں۔
کسان صرف ایک فرد نہیں وہ ایک خاندان ہے، ایک معیشت ہے، ایک تہذیب ہے، ایک تمدن ہے۔ کسان کے بغیر ملک کا چولھا جل سکتا ہے، نہ فیکٹریاں ہی چل سکتی ہیں۔
اگر آج کسان کی فصل کا مول نہ دیا گیا، تو کل اُس کا بیٹا ہتھیار اُٹھائے گا یا ہجرت کرے گا۔ حکومت کو اب جاگنا ہو گا۔ صرف بیانات سے کچھ نہیں ہوگا، عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔
وگرنہ تاریخ یہ لکھے گی کہ ایک زرعی ملک نے اپنے کسانوں کو تنہا چھوڑ دیا اور خود قحط، افلاس اور مہنگائی کے اندھیروں میں ڈوب گیا۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










