سواستو سے گندے نالے تک، دریائے سوات کا زوال

Blogger Fazal Khaliq

ایک وقت تھا جب دریائے سوات کو تہذیب اور قدرتی خوب صورتی کا مرکز سمجھا جاتا تھا، لیکن آج یہ تجاوزات، کان کنی اور بے قابو آلودگی کی زَد میں ہے۔ ایک وقت تھا جب دریائے سوات کو تہذیب اور قدرتی خوب صورتی کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا جسے قدیم ’’رگ وید‘‘ میں ’’سواستو‘‘ کہا گیا تھا، لیکن آج یہ اپنی بقا کے لیے جنگ لڑ رہا ہے۔
یہ گلیشیر سے غذا حاصل کرنے والا دریا تقریباً 320 کلومیٹر طویل ہے، جو وادیِ سوات کو کالام کے دورافتادہ علاقوں گبرال اور مٹلتان سے لے کر پشاور کے قریب چارسدہ، نستہ میں دریائے کابل سے ملتا ہے۔ دریا ئے سوات کا جنوبی ایشیا کے ثقافتی اور مذہبی تہذیب سے گہرا تعلق ہے۔
آج، یہ گلیشیر سے جڑا دریا ایک ڈمپنگ گراؤنڈ اور سیاسی مفادات، بے جا ترقی اور ماحولیاتی بے حسی کی جنگ کا میدان بن چکا ہے۔
٭ تہذیبوں کا دریا:۔ سنگاپور کے فوٹو گرافر اور مصنف ایڈون، جو سوات وادی پر ایک تصویری مونوگراف ’’پیراڈائز‘‘ کے مصنف ہیں، کہتا ہے: ’’سوات کا نام سواستو سے بنا ہے، یہ نام قدیم آریائیوں نے اپنے اس عظیم دریا کو دیا تھا، جس کا مطلب ہے ’اچھا‘، یونانی ریکارڈز میں بھی یہ دریا ایک اسٹریٹیجک اور مقدس راستے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔‘‘
سکندر یونانی کے مطابق اس نے اپنے لشکر کے ساتھ دریائے سوات کو عبور کیا تھا، اس سے پہلے کہ وہ اوڈیگرام اور بریکوٹ کو فتح کرے۔
پروفیسر ڈاکٹر لوکا ماریا اولیویری، جو پاکستان میں اطالوی آثارِ قدیمہ مشن کے سربراہ ہیں، بتاتے ہیں کہ یہ دریا ’’رگ وید میں سواستو کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، جس کا مطلب ہے وہ دریا جس پر آبادیاں بسائی جا سکتی ہیں۔‘‘
آج بھی دریائے سوات لاکھوں زندگیوں اور روزگار میں معاونت کرتا ہے۔ یہ دریا، کالام کے اُوشو اور گبرال ندیوں کی برف پوش پہاڑیوں کے سنگم سے شروع ہو کر تقریباً 320 کلومیٹر کی مسافت طے کرتا ہے اور دریائے کابل سے ’’نستہ‘‘ (چارسدہ) میں جاکر ملتا ہے۔
خیبر پختونخوا کے زرعی محکمہ کے اعداد و شمار کے مطابق دریائے سوات کے زرعی علاقے سے گزرتا ہے اورتقریباً 160,000 ایکڑ زرعی زمین کو آب پاشی فراہم کرتا ہے۔
وادیِ مدین کے سماجی کارکن زبیر خان کا کہنا ہے کہ یہ دریا آبی زراعت میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے۔ ’’مقامی لوگ یہاں ٹراؤٹ مچھلی کے فارمز سے اچھی آمدنی کماتے ہیں۔‘‘
ماہی گیری صرف روزگار کا ذریعہ نہیں، بل کہ یہ ایک ثقافتی روایت بھی ہے۔ موسمِ گرما میں، دریا کے کنارے مقامی اور سیاحوں کے لیے اہم سماجی جگہوں میں بدل جاتے ہیں۔
’’جب موسمِ گرم ہوتا ہے، تو دریا کے کنارے بیٹھنے کے لیے جگہ ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے۔‘‘ مینگورہ کے رہایشی اظہرعلی کہتے ہیں۔ ’’رات کو خاندان اکٹھے ہوکر آرام کرتے ہیں، کھاتے ہیں، اور ہوا کا لطف اٹھاتے ہیں۔‘‘
دریا مختلف مقامات پر ایک مشہور سیاحتی مقام ہے، جہاں مقامی اور قومی سیاح کھانا، موسیقی، ٹھنڈی ہوا اور تازہ پانی سے لطف اندوز ہوتے ہیں، جو گرمیوں کے مہینوں میں ایک خوش گوار جھونکے کی مانند ہوتا ہے…… لیکن اس ثقافتی رونق کے نیچے تباہ کن ماحولیاتی المیہ سر اُٹھا چکا ہے۔
٭ دریا کے کنارے تجاوزات:۔ گذشتہ دہائیوں میں، طاقت ور جاگیرداروں، سیاست دانوں اورلینڈ مافیا گروپ غیر قانونی طور پر دریائے سوات کے کنارے اراضی پر قبضہ جما چکے ہیں اور یہ مکروہ عمل تیزی سے جاری ہے۔ کالام سے چکدرہ تک جو ملاکنڈ، دیر، چترال اور سوات کے سنگم کے نقطے سے تقریباً 41 کلومیٹر دور ہے، دریا کے کنارے 100 سے زائد غیر قانونی عمارات، ہوٹل، پلازے اور نجی رہایش گاہیں تعمیر ہوچکی ہیں۔ ان غیر قانونی تجاوزات نے دریا کے قدرتی راستے کو تنگ کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں موسمی سیلابوں کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔
شیر محمد خان، جو کہ ایک مقامی کسان ہیں اور جن کا گھر سیلاب میں تباہ ہو گیا تھا، کہتا ہے: ’’ہمارے گھروں کو کبھی خطرہ نہیں تھا، لیکن اب تو دریا میں بغیر کسی پیش گوئی کے سیلاب آتا ہے، کیوں کہ تجاوزات نے اس کے قدرتی راستے کو بند کر دیا ہے۔‘‘
خیبر پختونخوا کے آبی وسائل کے محکمے کی 2022ء کی ایک رپورٹ کے مطابق 100 میٹر کے اندر 400 سے زائد غیر قانونی عمارات درج کی گئی ہیں، جو کہ دریاؤں کے تحفظ کے قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، تاہم اس پر عمل درآمد کم زور ہے۔
٭ کنکریٹ مائننگ کی تباہی:۔ شاید سب سے زیادہ تباہ کن عمل ’’گریول مائننگ‘‘ (بجری نکالنا) ہے، جو عموماً غیر قانونی اور بعض اوقات مشکوک قانونی اور انتظامی چھوٹ کے تحت کی جاتی ہے۔ دن رات ٹرک اور بھاری مشینری دریا سے پتھر اور ریت نکال رہی ہیں، جو کہ پاکستان کے ماحولیاتی تحفظ کے قانون (1997ء) کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
’’بجری کے لیے کھودے کئے گہرے کھڈے موت کے جال کی مانند ہیں۔ کئی افراد، بہ شمول سیاحوں، ان کھڈوں میں ڈوب کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔‘‘ حسیب خان، جو کہ سوات کے ماحولیاتی کارکن ہیں، کہتے ہیں۔
’’اس کے علاوہ یہ مائننگ دریا کے کناروں کو غیر مستحکم کر دیتی ہے، اس کی روانی کو بدل دیتی ہے، اور آبی حیات کے لیے مسکن کو تباہ کرتی ہے ۔‘‘
خیبر پختونخوا کی ماحولیاتی تحفظ کی ایجنسی کی 2023ء کی رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ دریا میں غیر سائنسی طریقے سے کنکریٹ نکالنے کی وجہ سے دریا میں ناقابلِ تلافی تبدیلیاں رونما ہورہی ہیں۔
٭ دریائے سوات آلودکی کی زد میں:۔ دریائے سوات کے مسائل میں اضافی طور پر آلودگی کی بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ ساتھ سوات کی آبادی میں اضافے کی وجہ سے،جو پاکستان کے شماریات کے مطابق 2. 8 ملین سے زیادہ ہو چکی ہے، کا فضلہ بھی بڑھ گیا ہے۔ غیرسائنسی سیوریج، صنعتی فضلہ اور ٹھوس کچرا روزانہ دریا میں ڈالا جاتا ہے۔ مینگورہ اور بریکوٹ کے قریب دریا کے نچلے حصوں میں پانی کے معیار کی حالیہ جانچ میں فیکیل کولیفارم اور بھاری دھاتوں کی مقدار خطرناک حد تک زیادہ پائی گئی۔
٭ دریائے سوات کا پانی کچھ دہائیاں پہلے پینے کے قابل تھا:۔ ای پی ایس سوات کے ڈائریکٹر اکبر زیب کا کہنا ہے کہ ’’اب اسے پینا انسانوں کے لیے خطرناک ہو چکا ہے۔‘‘
سوات آنے والے سیاح بھی اس زوال کو محسوس کرتے ہیں۔ کراچی سے آنے والے سیاح ضیاء الرحمان کا کہنا ہے کہ ’’پانی اتنا صاف تھا کہ آپ شفا ف پانی کے نیچے پتھر تک دیکھ سکتے تھے۔ اب، جو چیز نظر آتی ہے، وہ پلاسٹک کی بوتلیں، ریپراور یہاں تک کہ تعمیراتی ملبہ ہیں۔‘‘
٭ سیاحت کو دھچکا:۔ سوات کی معیشت، جو بڑی حد تک سیاحت پر انحصار کرتی ہے، اب دباو کا شکار ہے۔ دریا کے کنارے جو ایک وقت میں مشہور سیاحتی مقامات تھے، جیسے فضاگٹ، بحرین اور مدین، اب اپنی کشش کھو رہے ہیں، کیوں کہ یہ کنارے پرائیویٹائز یا آلودہ ہو چکے ہیں۔
سیدو شریف کے رہایشی ابرار خان کا کہنا ہے کہ دریا کے کنارے کی زیادہ تر زمین مافیا کے قبضے میں جاچکی ہے اور مافیا اکثر ’’ریونیو ڈیپارٹمنٹ‘‘ سے دستاویزات حاصل کرتا ہے۔
ہاجی گلزار، جو بحرین کے ایک 60 سالہ ہوٹل کے مالک ہیں، کہتے ہیں کہ سیاحوں کی تعداد میں واضح کمی آئی ہے۔ ’’پاکستان بھر سے خاندان یہاں ماہی گیری اور دریا کنارے پکنک کے لیے آتے تھے۔ اب، وہ دوسرے مقامات کو ترجیح دیتے ہیں۔‘‘
٭ قانون کے نفاذ کا مسئلہ:۔ بار بار کی رپورٹنگ اور سول سوسائٹی کے احتجاج کے باوجود، متعلقہ حکام نے دریائے سوات کے تحفظ کے لیے کسی موثر اقدام کو عملی جامہ نہیں پہنایا ہے۔ حالاں کہ سیکشن 144 یا ضابطۂ فوج داری کبھی کبھار کان کنی یا تجاوزات کو روکنے کے لیے عائد کیا جاتا ہے، لیکن اس قسم کی پابندیاں طویل مدت تک نافذ نہیں رہتیں۔
سوات کے ایڈشنل ڈپٹی کمشنر حامد خان بونیری نے اس سوال کے جواب میں کہا کہ کنکریٹ کی کان کنی کی فرموں کو کان کنی کے محکمے کی طرف سے قانونی طور پر ٹھیکے دیے گئے ہیں، جو ضلعی انتظامیہ کے اختیارات کو محدود کرتے ہیں۔
ماحولیاتی ماہرین اور مقامی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دریائے سوات کی حفاظت کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے۔ ’’دریائے سوات کی حدود کو واضح طور پر متعین کیا جائے اور ان پر ہونے والی تمام غیر قانونی تجاوزات کو ہٹا دیا جائے۔
اس کے علاوہ، اُنھوں نے کہا کہ غیر قانونی اور غیر سائنسی کان کنی پر مکمل پابندی عائد کی جانی چاہیے۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے