سوات اور چنار کا درخت

Blogger Hilal Danish

جب کبھی سوات کی تاریخ کے سنہرے دور کا ذکر ہوتا ہے، تو والیِ سوات میاں گل عبد الحق جہانزیب کا نام احترام کے ساتھ لیا جاتا ہے۔ اُن کے دورِ حکم رانی میں نہ صرف ریاست نے ترقی کی، بل کہ قدرتی ماحول کی حفاظت بھی ان کی اولین ترجیحات میں شامل تھی۔ انھی میں سے ایک ورثہ چنار کا درخت ہے، جو سوات کی خوب صورتی قابلِ قدر اضافہ ہیں۔ آج یہ درخت تیزی سے ناپید ہوتے جا رہے ہیں، اور ان کی کہانی سوات کے ماضی کی عظمت کی گواہی دیتی ہے۔
٭ چنار کے درخت،والیِ سوات کا اَن مول تحفہ:۔ والیِ سوات نے چنار کے درخت کشمیر سے منگوائے تھے اور سوات کے قدرتی حسن کو بڑھانے کے لیے ان درختوں کو سوات کی سڑکوں، نہروں اور پہاڑی چشموں کے قریب لگایا تھا۔
٭ چنار، شاہ راہوں کی زینت:۔ سوات کی سڑکوں کے دونوں کنارے چنار کے درختوں سے آراستہ کیے گئے تھے، جو نہ صرف سایہ فراہم کرتے تھے، بل کہ سڑکوں کو قدرتی سرنگ کی شکل دیتے تھے۔
٭ پہاڑی چشمے:۔ والیِ سوات نے حکم دیا تھا کہ جہاں کہیں پانی کا چشمہ ہو، وہاں چنار کا درخت لازمی لگایا جائے، تاکہ ماحول کو خوش گوار اور پانی کو محفوظ رکھا جاسکے۔
٭ سخت قوانین اور ماحولیاتی وِژن:۔ والیِ سوات کے دور میں چنار کے درختوں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین نافذ تھے۔چنار کے درخت کاٹنے والوں کو بھاری جرمانوں کے ساتھ قید کی سزا بھی دی جاتی تھی۔ان درختوں کی کٹائی ریاست کے قانون کے خلاف تصور کی جاتی تھی اور عوام میں بھی ان کی حفاظت کا شعور پیدا کیا گیا تھا۔ یہ اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ والیِ سوات نہ صرف ایک زیرک حکم ران تھے، بل کہ قدرتی ماحول کے تحفظ میں بھی گہری دل چسپی رکھتے تھے۔
٭ چنار کے درختوں کا زوال:۔ وقت کے ساتھ ساتھ یہ اَن مول ورثہ نظرانداز کیا گیا، اور آج یہ درخت سوات کے ماضی کا قصہ بنتے جا رہے ہیں۔
٭ بے ہنگم ترقی:۔ شہری ترقی اور تجاوزات کے نتیجے میں چنار کے درخت بے دردی سے کاٹے گئے۔
٭ قانونی تحفظ کا خاتمہ:۔ والیِ سوات کے دور کے قوانین کے ختم ہونے کے بعد ان درختوں کی حفاظت کے لیے کوئی عملی اقدامات نہیں کیے گئے۔
٭ ماحولیاتی اثرات:۔ بڑھتی ہوئی ماحولیاتی تبدیلیوں نے بھی ان درختوں کی بقا کو مشکل بنا دیا۔
٭ آج کا سوال:۔ کیا یہ ورثہ دوبارہ زندہ ہو سکتا ہے؟ چنار کے درخت صرف ایک نباتاتی ورثہ نہیں، بل کہ یہ سوات کے عوام کے لیے جذباتی اہمیت بھی رکھتے ہیں۔ ان درختوں کی بہ حالی ممکن ہے، بہ شرط یہ کہ ہم مشترکہ کوششوں سے اس جانب توجہ دیں۔
٭ شجرکاری مہمات:۔ چنار کے درختوں کی دوبارہ شجرکاری کے لیے مہمات چلانا از حد ضروری ہے۔
٭ آگاہی پیدا کرنا:۔ عوام کو ان درختوں کی اہمیت کے بارے میں شعور دینا ہوگا۔
٭ قانون سازی:۔ ان درختوں کی حفاظت کے لیے سخت قوانین کا نفاذ کیا جائے ۔
٭ قاری فضل وہاب کی کوششیں:۔ مینگورہ کے کلائمیٹ چینج وارئیر قاری فضل وہاب نے چنار کی بہ حالی کے لیے بہت کام کیا ہے۔ اُن کی کوششیں قابلِ ستایش ہیں اور دوسرے لوگوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
٭ اختتامیہ:۔ چنار کے درخت سوات کی شناخت تھے اور ہیں۔ چنار والیِ سوات کے دور کی عظمت کا منھ بولتا ثبوت ہیں۔ ان کا ناپید ہونا صرف ایک ماحولیاتی سانحہ نہیں، بل کہ ہماری غفلت کا مظہر بھی ہے۔ اگر ہم اس ورثے کو بچانے میں ناکام رہے، تو سوات کی وہ خوب صورتی اور تاریخ جو چنار کے درختوں سے وابستہ تھی، ہمیشہ کے لیے کھو جائے گی۔ یہ وقت ہے کہ ہم مل کر اس قیمتی ورثے کو دوبارہ زندہ کریں اور آنے والی نسلوں کے لیے محفوظ کریں۔
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے