’’آپریشن عزمِ استحکام‘‘ اِک اور دریا کا سامنا

Blogger Talimand Khan

پختونوں کی سرزمین پر ’’فوجی آپریشن‘‘ کھیلتے کھیلتے ہماری ایک نسل جوان ہوگئی، جو مذکورہ آپریشنوں کے منفی سماجی، سیاسی، معاشی اور نفسیاتی اثرات لے کر پھر رہی ہے۔
گذشتہ تقریباً دو دہائیوں سے وزیرستان سے لے کر سوات تک پختونخوا وطن میں عجیب و غریب ناموں سے انواع و اقسام کے فوجی آپریشن ہوئے اور سب کو تب بھی کام یابی کا نمونہ قرار دیا گیا اور اب بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ ان آپریشنوں میں حصہ لینے والوں کو اعزازات، امتیازات اور ترقیاں ملیں۔ بڑوں کو اتنا کچھ ملا کہ جزیرے اور باہر دنیا میں مہنگی جائیدادیں تک خرید لیں۔ اس کے ساتھ دہشت گردوں کا سر کچلنے اور ان کی کمر توڑنے کے بلند بانگ دعوے ہوئے۔
نتیجتاً امن کے استحکام کے نام پر ہمارے علاقوں کے لوگ مزید آٹھ دس سال ہر کلومیٹر بعد ایک چیک پوسٹ پر سردی اور گرمی دونوں میں ذلیل و خوار ہوتے رہے۔ ان چیک پوسٹوں کے بیچ ٹارگیٹیڈ قتل ہوتے رہے۔ سرچ آپریشنوں کے نام پر بلا امتیاز ہر گھر کی چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کیا گیا۔ ان علاقوں کا ہر فرد ریاست اور اس کے اداروں کی نظر میں مشکوک رہا۔ عوام کو یہ سب کچھ سہنا پڑتا تھا۔ کیوں کہ ان امور اور آپریشنوں کی صحت پر بات کرنے والوں کے ساتھ دہشت گردوں سے زیادہ برا سلوک روا رکھا گیا۔
حالاں کہ یہ بات بچے بچے کی زبان پر تھی کہ طالبان مغرب کی طرف پہاڑ میں چھپ کر نہیں، بل کہ کھلم کھلا ٹھکانا لگا کے بیٹھے اور پھرتے رہے، لیکن ہیلی کاپٹر مشرقی سمت کھیتوں اور دریا پر گولہ باری کرتے رہے۔
ستم بالائے ستم یہ کہ یہ باتیں اب بھی ماضی کا حصہ نہیں بنیں، اور نہ عوام کے ذہنوں میں دہشت گردی اور اس کے خلاف فوجی آپریشنوں سے متعلق بے شمار سوالات کے جوابات ہی ملے ہیں…… لیکن ’’مائی باپ لوگ‘‘ ایک بار پھر ایک اور فوجی آپریشن بارے حکم صادر کر رہے ہیں، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ جو زخم اَب تک مندمل نہیں ہوپائے، اُن کو ایک بار پھر کرید کر ہرا کیا جائے گا۔
پچھلی دو دہائیوں میں دہشت گردی سے متعلق ریاستی بیانیہ مسلسل تبدیل ہوتا رہا، جو اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ دہشت گردی کے ڈانڈے کہیں نہ کہیں ریاستی پالیسی سے ملتے ہیں۔ چند زمینی حقائق اس تاثر کو مزید تقویت دیتے ہیں۔ مثلاً طالبان یا دہشت گرد کسی علاقے میں کب اور کیسے نمودار ہوئے اور کب خوں خوار بنے؟ اب تو یہ تاویل بھی پیش کی جا رہی ہے کہ تحریکِ طالبان پاکستان کے جنگ جوؤں کو پی ٹی آئی کی گذشتہ حکومت جنرل فیض حمید کے ساتھ مل کر افغانستان سے واپس لائی ہے۔
سرِدست حقیقت تو یہ ہے کہ اُس وقت جنرل فیض حمید کوئی باغی کمانڈر نہیں، بل کہ پشاور کا کور کمانڈر تھا۔ اگر پاکستانی فوج کی ادارتی ساخت اور ’’چین آف کمانڈ‘‘ کو مدِ نظر رکھا جائے، تو تقریباً یہ ناممکنات میں ہے کہ ایک کور کمانڈر نتائج اور سزا و جزا کی پروا کیے بغیر صوبائی حکومت سے مل کر اتنا بڑا فیصلہ کرلے، جو ملکی سلامتی کو خطرے میں ڈال دے۔
اس سے بھی زیادہ اچھنبے کی بات یہ ہے کہ 2002ء سے لے کر کم و بیش آج تک طالبان کہیں، دہشت گرد کہیں یا آپ اُنھیں جو بھی نام دیں، وہ ہر اُس علاقے میں جمع ہوکر اپنا تسلط قائم کرکے خوں خوار بنے، جہاں فوج تعینات ہوئی۔
مثال کے طور پر 14 اور 20 مئی 2002ء کو انگریزی روزنامے ’’ڈان‘‘ (Dawn) نے اُس وقت کے کور کمانڈر کو رپورٹ کیا کہ شمالی اور جنوبی وزیرستان میں القاعدہ اور طالبان کے جنگ جوؤں کی موجودگی کی خبریں گردش کر رہی ہیں۔ لیکن ان خبروں کو غلط ثابت کیا گیا اور کہا گیا کہ ان علاقوں میں فوج کی تعیناتی کا مقصد افغانستان سے ناپسندیدہ افراد کا داخلہ روکنا ہے۔
مطلب یہ کہ اُس وقت فاٹا اور خصوصاً شمالی و جنوبی وزیرستان میں کوئی جنگ جو یا دہشت گرد گروہ موجود نہیں تھا، لیکن فوج کا اُن علاقوں کا کنٹرول سنبھالنے کے بعد عرب اور چیچنوں سے لے کر ہر قسم کے جنگ جو اور دہشت گرد نمودار ہوکر جمع ہوگئے اور آخرِکار تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) وجود میں آگئی ۔
اس طرح سوات میں فضل اللہ کے طالبان متشدد اور ٹی ٹی پی کا حصہ بنے، جب وہاں فوج باقاعدہ تعینات ہوئی۔ ہونا تو چاہیے تھا کہ جہاں فوج تعینات ہو، دہشت گردوں کو وہاں سے بھاگ جانا چاہیے، لیکن سب کچھ اس کے برعکس ہورہا تھا، اور اب بھی ایسا ہی ہے۔
ویسے تو اس ضمن میں لاتعداد مثالیں ہیں، لیکن راقم اپنے گاؤں کی ایک مثال دے گا۔ جولائی 2007ء میں فوج کی تعیناتی سے پہلے فضل اللہ کے طالبان نے فارسٹ چیک پوسٹ، جو اَب پولیس کے زیرِ استعمال ہے، کے بالکل قریب اپنی ’’سنیپ چیک پوسٹ‘‘ لگا کر گاڑیوں کی تلاشی شروع کر دی۔ اس پر اُس گاؤں کا ڈرائیور سوزوکی کیری چلاتے ہوئے پہنچا۔ مسلح طالبان کے اصرار اور دھمکیوں کے باوجود ڈرائیور نے اُن کی کوئی بات مانی اور نہ گاڑی کی تلاشی ہی دی، بل کہ فضل اللہ کو برا بھلا کہتے ہوئے اور اُن سے جھگڑتے ہوئے آگے نکل گیا اور یوں چند منٹوں میں وہ ڈراما ختم ہوگیا۔
سوات میں فوج کی تعیناتی سے پہلے فضل اللہ کے طالبان کو کسی کو چھیڑنے اور جہاد جہاد کھیلنے کی جرات نہیں ہوئی، لیکن بعد میں دہشت و وحشت کا وہ بازار گرم ہوا کہ الامان و الحفیظ، اور یہ سب کچھ باقاعدہ کرفیو کے دوران میں ہوتا تھا۔
رات کوجب اڑوس پڑوس اور گاؤں کے لوگ کرفیو کی وجہ سے اپنے گھروں سے نکل نہ پاتے تھے، تو نام نہاد نقاب پوش طالبان ایک گھر کو نشانی بناتے، لیکن فائرنگ رینج میں ہوتی ہوئی فوج کبھی کسی کی مدد کو نہیں پہنچی۔
ڈھیری کے بخت بیدار خان اور شور کے محمد کبیر خان اس حوالے سے سب سے بڑی مثال ہیں۔
مزید برآں جب نومبر 2007ء میں سوات کی تحصیل مٹہ اور کبل میں پہلا آپریشن ’’راہِ حق‘‘ شروع ہوا، تو ان علاقوں کے باشندے مینگور شہر کی طرف نقلِ مکانی کرگئے اور مقامی آبادی اپنی مدد آپ کے تحت اُن کی داد رسی کرنے لگی۔ اُن کو سکولوں اور حتی کہ نجی عمارتوں کو خالی کرکے سر چھپانے کی جگہ دی گئی اور کھانا اور دیگر ضرورت کا سامان فراہم کیا۔ شہر میں دور دور تک طالبان کا اثر نہیں تھا، لیکن شاید بڑا ڈراما جو آگے ہونا مقصود تھا، میں اہلِ مینگورہ کا یہ کردار رُکاوٹ بن رہا تھا۔ یوں جب شہر میں فوج تعینات ہوئی، تو گرین چوک ’’خونی چوک‘‘ بن گیا۔ شہر کی ایک گلی میں فوج اور دوسری میں طالبان ہوتے تھے۔ یوں یہ چوہے بلی کا کھیل اگست 2009ء تک چلتا رہا۔
مَیں یہ دعوے سے کَہ رہا ہوں کہ اگر ہماری اپنی ریاست دہشت گردی اور دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ کو بہ طور ’’ملٹی پل پالیسی‘‘(خارجہ سے لے کر، نام نہاد سلامتی، داخلہ و معاشی) ہتھیار استعمال نہ کرتی اور وزیرستان سے لے کر سوات تک پشتون اپنوں کے جھانسے میں آکر دو دو چیک پوسٹوں اور کرفیو میں قید نہ ہوجاتے، تو کسی طالب ، عرب اور چیچن کو یہ جرات نہ ہوتی کہ وہ اس طرح آکر لشکر بناکر کسی کو آنکھ اٹھا کر بھی دیکھتا، سر کاٹنا تو بہت دور کی بات ہے۔ اگر کسی کو اس بات کا یقین نہیں، تو آج تمام پشتون علاقوں سے فوج واپس بلا کر وہاں تمام جاسوسی اداروں کی موجودہ نوعیت کی موجودگی ختم کرکے تمام اُمور سول انتظامیہ کے حوالے کیے جائیں، تو عوام اور پولیس ایک مہینے کے اندر ندر ان عناصر کا صفایا کردے گی۔
مسئلہ یہ نہیں کہ ہماری تہذیب اور روایات کی امین سرزمین نے خدا نہ خواستہ دہشت گرد اور شدت پسند جننا شروع کیے ہیں۔ مسئلہ نسلی ہے اور نہ مذہبی، بل کہ یہ اُس ریاستی پیراڈائم سے جڑا ہے۔ یہ وہ ماڈل یا نظام ہے جس میں کرنا کچھ اور ہوتا ہے اور دَکھانا کچھ اور۔ موجودہ دور میں فارم 45 اور 47 اس کی بہترین مثال ہیں۔ اس ماڈل میں عوام کے خلاف ہر واردات ریاست کے مفاد کے نام پر کی جاتی ہے، عوام کی قیمت پر ریاست کی بقا کی تاویلیں پیش کی جاتی ہیں۔ ارے بھائی! عوام کے بغیر ریاست کا کوئی تصور نہیں۔ عوام ریاست کے لیے نہیں، ریاست عوام کی فلاح کے لیے بنتی ہے۔
ریاست کی بقا کو درپیش ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ جب ریاست کا اقتدارِ اعلا، انتظام و انصرام خصوصاً وسائل کی تقسیم حقیقت میں عوام کے ہاتھ میں نہ ہو، قوم کی بہ جائے ریاست کی بقا و سلامتی کا ضامن ایک مخصوص ادارہ ٹھہرایا جائے، تمام وسائل کے رُخ پیداواری اور عوام کی فلاح کی مد کی بہ جائے ایک خاص مد اور ادارے کی طرف ہو، جس کی ضروریات ہر روز بڑھتی ہوں اور اس بنیاد پر ملکی معیشت کا کنٹرول اُس ادارے اور اُن کے سویلین متعلقین کے ہاتھوں آجاتا ہے( نجی بجلی پیدا کرنے کے کارخانوں کی لوٹ مار حالیہ مثال ہے) ایسے میں تو پھر دہشت گردی اور اس کے خلاف فوجی آپریشن ہی کو پالیسی، کاروبار اور سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے ’’دفعہ ایک سو چوالیس‘‘ کی شکل میں لاگو کیا جاتا ہے۔ اس میں عوام کی مرضی و منشا کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔
آپریشن کی منظوری بھی وہ وزیرِاعظم دیتا ہے، جس کا پورا ٹبر اور اہم جماعتی لیڈر اپنی نشست تک نہیں جیتے ہیں۔ صرف فارم 47 کے ذریعے کام یاب قرار دیے گئے ہیں۔
دوسری طرف جن کو عوام نے ووٹ دے کر منتخب کیا ہے، وہ جیل میں ہیں اور آپریشن کی مخالفت کررہے ہیں۔
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے