24 نومبر، تحریک پُرامن نہیں ہوگی

کیا پی ٹی آئی کی قیادت 24 نومبر کو اپنے بانی چیئرمین کے حکم کے مطابق ’’کرو یا مرو‘‘ کے نعرے کو عملی جامہ پہنا سکے گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جو اس وقت سنجیدہ حلقوں میں موضوعِ بحث بنا ہوا ہے۔ آئیے، حالات کے تناظر میں جائزہ لیتے ہیں کہ کیا ہو رہا […]
آن لائن لٹیروں سے ہوش یار رہیں!

پاکستان دنیا کا شاید وہ واحد ملک ہے، جہاں جرائم کی روک تھام کی طرف بہت کم توجہ دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جرائم پیشہ افراد اپنا کام دھڑلے سے جاری رکھتے ہیں۔جرائم کی روک تھام میں قانون کی حکم رانی کا موثر اور کلیدی کردار ہوتا ہے۔ ہمارے یہاں بدقسمتی سے جتنا […]
اسموگ اور ’’چینی ایئر کوالٹی ایکشن پلان‘‘

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کییہ مصرع مجھے حکومتی پالیسوں کے بعد یاد آیا۔ کیوں کہ پنجاب میں سموگ سے بچاو کے لیے سکول بند، کالج بند، پارکس بند، دفاتر آدھے بند اور اب لوگوں کے گلے بھی بند ہونا شروع ہوگئے ہیں۔پاکستان میں اسموگ اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ خلا سے بھی نظر […]
کالی کالی قسمت ان کی
کیس مت نمٹائیں، انصاف دیں
فرد نہیں، نظام
پنجاب بار کونسل اور جعلی وکلا
بلاول بھٹو پھر ناراض ہوگئے
جعلی ادویہ، حکومتی رویہ اور تڑپتے عوام
پاکستان کے حالاتِ حاضرہ
26ویں آئینی ترمیم کے بعد……!
26ویں آئینی ترمیم کا بنیادی مقصد
جمہور کی فتح

پاکستان کا شمار ان چند بدقسمت ریاستوں میں کیا جاسکتا ہے, جو اپنے وجود میں آنے کے بعد ہی سے محلاتی سازشوں کا شکار رہی۔ سول اور خاکی بیوروکریسی کے ساتھ ساتھ منصفوں نے ریاست کی بربادی میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ پاکستان کی حقیقی سیاسی لیڈر شپ کو منظرِ ِعام سے ہٹانے کے لیے […]
دیہات میں سہولیات کا فقدان، شہری مسائل میں اضافہ
علی امین گنڈاپور کی روپوشی و رونمائی بارے چند چبھتے سوالات

علی امین گنڈاپور اپنے لاؤ لشکر اور سرکاری وسائل کے ساتھ جوں جوں اسلام آباد کی طرف بڑھ رہے تھے، پی ٹی آئی کے ورکروں کا جوش اُس سے دُگنی رفتار سے آسمانوں کی طرف محوِ پرواز تھا۔ وہ راستے بھر جوشیلا خطاب کرتے ہوئے ورکروں میں ایک ولولۂ تازہ بھی پیدا کرتے چلے آ […]
ڈراما باز ججوں سے خدا کی پناہ

ریاستِ پاکستان کی بدقسمتی رہی، جہاں انصاف کے نام پر سرِ عام کھلواڑ کیا جاتا رہا۔ ایوانِ عدل میں براجمان منصفوں نے من مرضی آئین و قانون کی تشریحات جاری کیں۔ غیر آئینی و غاصب حکم رانوں کو حقِ حکم رانی عطا کرنا ہو، یا پھر عوامی نمایندوں کو پھانسی و پابندِ سلاسل یا اقتدار […]
آرٹیکل 63 اے: کیا مولانا کی گاڑی چھوٹ گئی؟

سپریم کورٹ کے پنج رُکنی بنچ نے متفقہ طور پر مئی 2022ء میں دیا جانے والا آرٹیکل ’’63 اے‘‘ کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا ہے۔ یہ فیصلہ ایک ایسے وقت میں آیا ہے، جب حکومت پارلیمنٹ میں آئینی ترامیم کا بِل پیش کرنے جا رہی ہے۔ دو ہفتے قبل اس مقصد کے لیے قومی […]
نئی آئینی عدالت کے قیام کا اصل مقصد

آج کل آئینی ترمیم کا بڑا زور و شور ہے۔ اسے منظور کروانے کے لیے بڑے جتن ہو رہے ہیں، لیکن قانونی ماہرین اور وکلا نے اس ترمیم کو ذاتی مفادات کا شاخ سانہ قرار دے کر رد کر دیا ہے۔ ایک ملک گیر تحریک اس آئینی ترمیم کے بطن سے جنم لے رہی ہے، […]
وفاقی آئینی عدالت، ضرورت یا سیاسی چال؟

آئینِ پاکستان میں ممکنہ 26ویں آئینی ترمیم کے بہت چرچے ہیں۔ کہیں اعلا عدلیہ کے ججوں کی ریٹائرمنٹ عمر کے تعین کا چرچہ ہے، توکہیں آئینی عدالت کے قیام پر قیاس آرائیاں۔ کہیں آئینی عدالت کے قیام کی شدید مخالفت کی جارہی ہے، تو کہیں اس کے حق میں توجیہات پیش کی جارہی ہیں۔ مجوزہ […]
کیا تمام سیاسی پارٹیوں کا عملی منشور ایک جیسا ہے؟

جمہوریت اور سیاسی پارٹیاں لازم و ملزوم ہیں۔ کم از کم ایسا سمجھا جاتا آیا ہے، لیکن ایک عام آدمی کیا یہ سوال کر سکتا ہے یا اس نقطے کو زیرِ بحث لایا جاسکتا ہے کہ کیا جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کا وجود ناگزیر ہے؟ جواب کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ بحث بہت طویل اور پیچیدہ […]
’’ایکسٹینشن‘‘: پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ

پاکستان میں اعلا ترین عہدے دراوں کی مدتِ ملازمت میں توسیع دیرینہ مسئلہ رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کو حکومت بچانے کے لیے پرویز کیانی کی مدتِ ملازمت میں 3 سال کے لیے توسیع دینا پڑی۔ پرویز مشرف کے خلاف ’’آرٹیکل 6‘‘ کے تحت چلائی جانے والی کارروائی اور راحیل شریف کی مدتِ ملازمت میں توسیع […]