د لکونو روپو گاڑے ساتو خو د پارکنگ دیرش روپئی نہ
بدلتے ہوئے عالمی اقتصادی توازن کا جائزہ

سنہ 2026 عیسوی کی عالمی معیشت کا منظرنامہ ایک ایسے دور کی عکاسی کرتا ہے، جس میں طاقت، وسائل، پیداوار اور اقتصادی اثر و رسوخ کی جغرافیائی تقسیم تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے۔ دنیا کی مجموعی معیشت جس کا حجم تقریباً 219 ٹریلین ڈالر تک پہنچ چکا ہے، اب ایک نئی حقیقت کی طرف […]
مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کی بساط اور اردوان

گذشتہ دو دہائیوں کے دوران میں مشرقِ وسطیٰ کی جغرافیائی سیاست کی تشکیل میں رجب طیب اردوان کا کردار مرکزی، متنازع اور گہرے اثرات کا حامل رہا ہے۔ ترکی کے صدر کی حیثیت سے اردوان نے انقرہ کو ایک طرف اسرائیلی اسٹریٹجک توسیع پسندی، جسے علاقائی بیانیے میں اکثر’’صیہونی وژن‘‘ کے طور پر پیش کیا […]
تیزی سے بدلتا عالمی منظرنامہ

20ویں صدی کے اختتام تک عالمی سیاست ایک نازک مگر قائم توازن کے سہارے کھڑی تھی۔ دو بڑی طاقتیں ایک دوسرے کے مقابل موجود تھیں، اختلافات شدید تھے، مگر ایک حد بھی موجود تھی۔ اس حد نے دنیا کو مکمل تباہی سے بچائے رکھا۔ پھر وہ مرحلہ آیا، جب ایک طاقت بکھر گئی اور دوسری […]
نیٹ میٹرنگ، آئی پی پیز اور معاشی ناانصافی

اسلامی فلاحی ریاست کی ذمے داری عوام کو زندگی کی بنیادی سہولیات کی فراہمی ہے، جو ریاست حاکمِ وقت کے ذریعے عوام کو فراہم کرتی ہے۔ کوئی بھی حکم ران جو ان بنیادی سہولیات کو عوام تک پہنچانے میں کام یاب ہوتا ہے، تو یقینی طور پر ایسے ریاستی حکم رانوں کو ریاست کا مثالی […]
شوگر کے ساتھ رمضان گزارنے کا محتاط طریقہ
سوشل میڈیا، بگڑتی نسل اور ہماری ترجیحات

یہ ایک تلخ مگر ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ آج سوشل میڈیا (خصوصاً TikTok جیسی تیز رفتار اور وائرل کلچر کو فروغ دینے والی ایپس) خاموشی سے، مگر غیر معمولی تیز رفتاری کے ساتھ ہمارے معاشرے کی ترجیحات کو تبدیل کر رہا ہے۔ یہ تبدیلی محض تفریح یا اظہارِ رائے تک محدود نہیں، بل کہ […]
دولت، جرم اور احتساب کا بحران

خیبر پختونخوا میں حالیہ برسوں کے دوران میں منشیات کے کاروبار اور اس کے استعمال میں نمایاں اضافہ ایک پیچیدہ سماجی، معاشی اور سیاسی مسئلہ بن چکا ہے۔ بہ ظاہر ریاستی سطح پر منشیات کے خلاف آگاہی مہمات جاری ہیں، جن کا اظہار پولیس تھانوں کے گیٹوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر آویزاں بینرز اور […]
گراسی گراونڈ او کہ ترکولی….؟
قومی سلامتی، سیاسی مصلحتیں اور خطرناک خاموشی

وزیرِ اعلا خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کا یہ کہنا کہ ریاست پاکستان ثبوت دے کہ افغانستان سے دہشت گردی ہو رہی ہے؟ محض ایک بیان نہیں، بل کہ قومی سلامتی پر بہ راہِ راست حملہ ہے۔ یہ جملہ لاعلمی نہیں، دانستہ انکار ہے…… اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب خیبر پختونخوا روزانہ لاشیں […]
ناشکری تا زوال: یوسف زئی قوم اور سوات کا المیہ

زندگی کے ابتدائی ایام میں اکثر اس سوال پر مَیں بہت غور کرتا رہتا تھا کہ آخر قدرت اُن لوگوں پر ہی کیوں زیادہ مہربان دکھائی دیتی ہے، جو ناشکرے ہوتے ہیں؟ ہمیشہ نعمتیں اُس کے حصے میں کیوں آتی ہیں، جو نہ اُن کی قدر جانتا ہے، نہ اہمیت کو محسوس ہی کرتا ہے؟ […]
امریکہ بہادر کا اصل چہرہ

امریکہ خود کو جمہوریت، انسانی حقوق اور قانون کی بالادستی کا سب سے بڑا علم بردار قرار دیتا ہے، مگر اس کے عملی کردار پر نظر ڈالی جائے، تو یہ دعوے کھوکھلے اور تضادات سے بھرے دکھائی دیتے ہیں۔ گذشتہ کئی دہائیوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں امریکی مداخلت نے جہاں جمہوریت کو فروغ […]
بابوزئی قامی تڑون جرگہ اور سلگتے مسائل

’’بابوزئی قامی تڑون جرگہ‘‘ تحصیلِ بابوزئی کے اندر ایک مکمل غیر سیاسی جرگہ ہے، جس نے سیاسی اور نسلی امتیاز سے بالاتر ہو کر اُن لوگوں کو جمع کیا ہے، جن کے خلاف کسی قسم کے اخلاقی، مالیاتی یا دیگر الزامات نہیں…… اور جن کا مقصد صرف اور صرف تحصیلِ بابوزئی میں رہنے والے لوگوں […]
خیبر پختونخوا بہ مقابلہ پنجاب

پاکستان میں صوبائی سیاست محض جماعتی مقابلے تک محدود نہیں رہی، بل کہ اب یہ حکم رانی کے انداز، ترجیحات اور عوامی توقعات کے تناظر میں بھی زیرِ بحث ہے۔ حالیہ برسوں میں اگر خیبر پختونخوا اور پنجاب کا جائزہ لیا جائے، تو دونوں صوبوں میں سیاسی رویوں اور انتظامی ترجیحات کا فرق نمایاں دکھائی […]
سوات موٹر وے فیز ٹو: تاخیر، ناکامی اور نقصان

اس وقت نہ صرف مینگورہ شہر غیر قانونی رکشوں اور بے ہنگم ٹریفک کی وجہ سے شدید گھٹن کا شکار ہے، بل کہ اربن پلاننگ نہ ہونے کی وجہ سے آبادی کے غیر فطری پھیلاو (Irregular Expansion) نے لاکھوں لوگوں کو محصور کر دیا ہے۔ہم جیسے غیر ممالک میں بیرونی سرمایہ کاری بڑی بھاری قیمت […]
خدا، بھوک اور سرمایہ دارانہ فریب

اشتراکی سوویت انقلاب کے عظیم راہ نما لینن نے کہا تھا: ’’ہم مذہبی لوگوں سے موت کے بعد والی جنت پر نہیں الجھنا چاہتے۔ ہمارا مقصد اِس زندگی کو تمام انسانیت کے لیے جنت بنانا ہے۔‘‘لبرل ازم، جدید سرمایہ دارانہ نظام کی پیداوار ہے۔ اس فکر کے حامل لوگ مادر پدر آزادی کو ہی اصل […]
سرکاری جامعات: مالی بحران اور ٹیکس دہندگان کا کردار

حالیہ دور میں خیبر پختونخوا کی 34 سرکاری جامعات کو درپیش شدید مالی بحران کے بارے میں تشویش ناک خبروں کی بھرمار پڑھنے کو مل رہی ہے۔ شعبہ جات کی بندش، فیسوں میں اضافے اور متعدد دیگر مسائل کی باتوں کے درمیان صوبے میں اعلا تعلیم کے مستقبل پر ایک بڑا سوالیہ نشان لگا ہے۔ […]
میاں منظور احمد وٹو کی یاد میں

سابق وزیرِ اعلا پنجاب، میاں منظور احمد وٹو طویل علالت کے بعد منگل 16 دسمبر 2025ء کی سہ پہر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے (انا للہ و انا الیہ راجعون)۔ اُن کی رحلت کی خبر ضلع اوکاڑا کے عوام کو رنجیدہ و افسردہ کرگئی۔ ضلع ایک عظیم انسان، مشفق بزرگ، کام یاب ترین سیاست […]
ایمان مزاری جیسا ایمان کہاں سے لائیں؟

پاکستان کا معاشرتی ڈھانچا ہمیشہ سے تضادات کا ایک ایسا جنگل رہا ہے، جہاں طاقت ور اور کم زور کے درمیان فاصلہ صرف طبقاتی نہیں، بل کہ ذہنی، معاشی اور ادارہ جاتی تقسیم کا بھی مرہونِ منت ہے۔ اس معاشرے میں اشرافیہ کے لیے قوانین، مراعات اور زندگی کے اصول کچھ اور ہوتے ہیں، جب […]
پاکستانی جامعات، سویڈن ہی سے سبق لیں

سویڈن میں طلبہ کو صرف ’’تعلیمی خدمت کے مستفیدین‘‘ نہیں سمجھا جاتا، بل کہ انھیں اعلا تعلیم کے نظام میں باقاعدہ اور بڑے ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ قانوناً طلبہ کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اہم فیصلہ ساز اور مشاورتی مجالس میں نمایندگی رکھیں، یونیورسٹی کی مجلسِ ادارہ (بورڈ) […]
سکول وزٹس: خوش کن دعوے اور تلخ حقائق

29 نومبر 2025ء کو مجھے سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈی ای اُو، جناب فضل خالق، کے ساتھ چند پرائمری اور مڈل سکولوں کا مشترکہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈپٹی صاحب کا اندازِ معائنہ غیر رسمی مگر پیشہ ورانہ تھا؛ ریکارڈز کی جانچ پڑتال، کلاس رومز کا مشاہدہ اور طلبہ کی علمی قابلیت کا […]