شخصیات کی سیاست اور اصولوں کا جنازہ

پاکستان کا سیاسی منظرنامہ اب نظریات کا میدان نہیں رہا، یہ شخصیات کے گرد گھومتے تنازعات کا ایک ہنگامہ بن چکا ہے، جہاں اُصول، اخلاق اور استدلال کی کوئی مستقل بنیاد باقی نہیں رہی۔ ہر جماعت اپنی پسندیدہ شخصیت کو حق اور اپنے مخالف کو باطل قرار دینے میں اس قدر آگے جا چکی ہے […]
انصاف کی جنگ، جو ہر بار غریب ہی ہارتا ہے

فروری 2021ء کو اسلام آباد جی الیون کے اشارے پر کشمالہ طارق کے صاحب زادے کی تیز رفتار لیکسس نے سگنل توڑ کر مہران میں سوار چار غریب نوجوانوں کی زندگی کا چراغ اس بے رحمی سے گل کیا کہ لمحوں میں چار گھر اجڑ گئے۔ گاڑی کے سامنے پڑی لاش نے فرار کا راستہ […]
ہائیڈرو پاؤر منصوبے اور کھوکھلے وعدے

پچھلے روز ایک ویڈیو نظر نواز ہوئی، جو گذشتہ دو ہفتوں سے جاری دوبیر کوہستان کے عوام کے دھرنے کی ہے۔ دراصل دھرنا اُن وعدوں کی تکمیل کے لیے دیا جا رہا ہے، جو منصوبے کی تعمیر کے دوران میں کیے گئے تھے۔کئی دہائیوں سے پاکستان میں ہائیڈرو پاؤر منصوبوں کو ’’ترقی کے انجن‘‘ کے […]
ضلع ملاکنڈ، انتظامیہ کی غفلت اور عوام کی بے بسی

اسلامی ریاست میں آباد ہر غریب، مظلوم اور مفلوک الحال سمیت ہر شہری کی حفاظت اور کفالت ریاست کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ اسی طرح ہر شہری کو انصاف فراہم کرنا حکومتِ وقت کی اسلامی، قانونی اور آئینی ذمے داری ہے۔ کیوں کہ اسلامی ریاست میں انسانی جان کی حفاظت اور انصاف کی فراہمی […]
سسٹم جب بجانے پر آتا ہے، تو ……!

مشہور لکھاری عزیز بن عزیز بشیر بھائی نے آج سے تین برس قبل ایک جملہ کہا تھا، ایک ایسا جملہ جو شاید اُس وقت بہتوں کو مبالغہ لگا ہو، مگر وقت نے اُسے حرفِ آخر ثابت کر دیا۔ دراصل انھوں نے کہا تھا: ’’سسٹم جب بجانے پر آتا ہے، پھر بجا کر ہی چھوڑتا ہے […]
زلزلے کا فکری و سائنسی مطالعہ

معلوم تاریخ کے مطالعے کے بعد ایک اندازہ لگایا گیا ہے کہ اب تک آنے والے زلزلے 8 کروڑ انسانوں کو ہلاک کرچکے ہیں۔ اس سے زلزلوں کی ہلاکت خیزی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے، جب کہ مالی نقصانات کو اعداد میں بیان کرنا ممکن نہیں۔اب زلزلے انسان کے لیے ہمیشہ خطرات اور پریشانیوں کا […]
تراڑ
کردار کا زوال

گذشتہ دنوں قومی اسمبلی میں ایسا سین چلا کہ چند لمحوں کے لیے لگا شاید کوئی گیم شو چل رہا ہے۔ بس حکمتِ عملی کی جگہ سب نے ’’میرے ہیں، میرے ہیں!‘‘ کا بٹن دبا دیا۔در اصل ہوا کچھ یوں کہ اسپیکر نے اسمبلی میں چند نوٹ لہرا کر پوچھا: ’’بھائیو! یہ کس کے پیسے […]
معاشرے کی فکری تقسیم کا تجزیہ

آج کا پاکستان ایک عجیب فکری اور جذباتی تقسیم کا منظر پیش کر رہا ہے۔ یہ تقسیم محض سیاسی یا نظریاتی نہیں رہی، بل کہ ہماری سماجی رگوں میں زہر کی طرح سرایت کرچکی ہے۔ قوم اس وقت دو انتہاؤں پر کھڑی دکھائی دیتی ہے، جہاں ہر معاملے کو صرف سفید یا سیاہ رنگ میں […]
اختلاف اور دشمنی میں تمیز فرمائیں

پاکستان کی سیاسی تاریخ ہمیشہ سے طاقت کی کش مہ کش، ریاستی اداروں کے اندرونی توازن اور سیاسی جماعتوں کے باہمی اختلافات سے عبارت رہی ہے۔آج حالات اس نہج تک پہنچ چکے کہ ملکی سیاست ایک ایسے اضطراب میں ہے، جو قومی استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔ ایسے وقت میں سیاسی سنجیدگی […]
رحلت ایک جفا کش کی……!

آج کل ہم سوشل میڈیا سے کچھ فاصلے پر رہنے لگے ہیں۔ ڈاکٹر بھی یہی کہتے ہیں اور میرا دایاں ہاتھ بھی، جس کا درد بار بار یہ یاد دلاتا ہے کہ زندگی کی بقا کے لیے اس غیر ضروری مصروفیت کو کم کرنا ہی بہتر ہے، مگر اسی احتیاط کی وجہ سے اکثر کسی […]
مذہبی بنیاد پرستی کا حقیقی پس منظر

بنیاد پرستی کو کئی دفعہ اسلام سے نتھی کیا جاتا ہے، جو تاریخی طور پر غلط ہے۔ اگر ہم بنیاد پرستی کی تشریح سے پہلے تاریخ میں اس کے احیا پر بات کریں، تو بنیاد پرستی کی تحریک یا نظریے کو 19ویں صدی کے اواخر اور 20ویں صدی کے اوائل میں قدامت پسند مسیحیوں یعنی […]
ایمان مزاری جیسا ایمان کہاں سے لائیں؟

پاکستان کا معاشرتی ڈھانچا ہمیشہ سے تضادات کا ایک ایسا جنگل رہا ہے، جہاں طاقت ور اور کم زور کے درمیان فاصلہ صرف طبقاتی نہیں، بل کہ ذہنی، معاشی اور ادارہ جاتی تقسیم کا بھی مرہونِ منت ہے۔ اس معاشرے میں اشرافیہ کے لیے قوانین، مراعات اور زندگی کے اصول کچھ اور ہوتے ہیں، جب […]
بے مقصدیت کا سیلاب اور ہماری ذمے داریاں

انسان کی زندگی خیر و شر، نیکی و بدی، تقوا و نفس اور ایمان و آزمایش کے امتزاج سے بنتی ہے۔ اسلام، فرد کی اصلاح اور معاشرتی پاکیزگی دونوں پر زور دیتا ہے۔ کیوں کہ انسان کے اعمال صرف اُس کی ذات تک محدود نہیں رہتے، بل کہ اُن (اعمال ) کے اثرات پورے معاشرے […]
کیا ہم بابا غوری کو بھول گئے؟

سوشل میڈیا کی اس تیزرفتار اور بے رحم دنیا میں کچھ نام ایسے ہوتے ہیں، جو صرف ایک شناخت نہیں رہتے، ایک عہد کی علامت بن جاتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام کے ڈیجیٹل محاذ پر نذیر احمد غوری المعروف بابا غوری بھی ایسا ہی ایک نام ہے، ایک ایسا چراغ، جس نے تنِ تنہا اندھیروں […]
ضلع ملاکنڈ کی گھریلو صنعتیں

2023ء کی مردم شماری کے مطابق ضلع ملاکنڈ کی کل آبادی 8 لاکھ 26 ہزار 250 نفوس پر مشتمل ہے۔ ضلع میں 28 یونین کونسلیں اور تقریباً 80 دیہات ہیں۔ کچھ چھوٹے قصبات، مثلاً: بٹ خیلہ، درگئی، سخاکوٹ، تھانہ، طوطہ کان، آگرہ اور کوٹ کے علاوہ باقی آبادی عموماً دیہات میں آباد ہے۔30 تا 40 […]
پاکستانی جامعات، سویڈن ہی سے سبق لیں

سویڈن میں طلبہ کو صرف ’’تعلیمی خدمت کے مستفیدین‘‘ نہیں سمجھا جاتا، بل کہ انھیں اعلا تعلیم کے نظام میں باقاعدہ اور بڑے ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ قانوناً طلبہ کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اہم فیصلہ ساز اور مشاورتی مجالس میں نمایندگی رکھیں، یونیورسٹی کی مجلسِ ادارہ (بورڈ) […]
صحت نظام کا مشاہداتی جائزہ

ہم اپنی بات کو مدلل انداز سے سامنے رکھنے کے لیے اسلام آباد کے پمز (PIMS, Pakistan Institute of Medical Sciences) ہسپتال کی مثال رکھنے جا رہے ہیں، جو پاکستان کے وفاقی دارالحکومت کا سب سے بڑا سرکاری علاج گاہی ادارہ ہے۔ یہاں نہ صرف مقامی شہریوں کا رش ہوتا ہے، بل کہ آزاد کشمیر، […]
افغانستان کا علاقائی محاصرہ، خطے کے لیے تنبیہ

29 اکتوبر 2025ء کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے پاکستانی وزیرِ خارجہ اور نائب وزیرِاعظم اسحاق ڈار نے بہت کچھ فرمایا ہے۔ اس طویل پریس کانفرنس اور سوالات و جوابات سیشن میں بہت سارے معاملات زیرِ بحث آئے، مگر ہم صرف اُن نِکات کو زیر بحث لائیں گے، جو خاص کر پاک افغان تعلقات کے حوالے […]
لاوارث گندھارا

(زیرِ نظر تحریر دراصل میرے ہی ایک انگریزی آرٹیکل "The (un)claimed Gandhara” کا اُردو ترجمہ ہے، جو 26 جولائی 2020ء کو روزنامہ "The News”کے لیے اُس وقت لکھا تھا، جب تخت بھائی میں بدھا کے ایک بڑے مجسمے کو توڑا گیا تھا۔ ترجمہ کے لیے کامریڈ امجد علی سحابؔ کا مشکور ہوں، ڈاکٹر رفیع اللہ۔)تخت […]
سکول وزٹس: خوش کن دعوے اور تلخ حقائق

29 نومبر 2025ء کو مجھے سوات ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈپٹی ڈی ای اُو، جناب فضل خالق، کے ساتھ چند پرائمری اور مڈل سکولوں کا مشترکہ دورہ کرنے کا موقع ملا۔ ڈپٹی صاحب کا اندازِ معائنہ غیر رسمی مگر پیشہ ورانہ تھا؛ ریکارڈز کی جانچ پڑتال، کلاس رومز کا مشاہدہ اور طلبہ کی علمی قابلیت کا […]