کبھی خواب نہ دیکھنا (سترھویں قسط)
افغانستان، پوست کی کاشت کی بہ حالی
ٹرمپ کی جیت کیسے ممکن ہوئی؟
اسموگ اور ’’چینی ایئر کوالٹی ایکشن پلان‘‘

مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کییہ مصرع مجھے حکومتی پالیسوں کے بعد یاد آیا۔ کیوں کہ پنجاب میں سموگ سے بچاو کے لیے سکول بند، کالج بند، پارکس بند، دفاتر آدھے بند اور اب لوگوں کے گلے بھی بند ہونا شروع ہوگئے ہیں۔پاکستان میں اسموگ اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ خلا سے بھی نظر […]
ججوں کا مراعات میں اضافہ ہدفِ تنقید
کبھی خواب نہ دیکھنا (سولھویں قسط)
چیٹ جی پی ٹی اور اقلیتی زبانوں کا مستقبل
بنجاریانو محلہ (مینگورہ سوات)
آئینی ترمیم پر بغلیں بجانے والوں کے نام
کالی کالی قسمت ان کی
کبھی خواب نہ دیکھنا (پندرھویں قسط)
علامہ اقبال کی فکر کا آخری دور
کیس مت نمٹائیں، انصاف دیں
فرد نہیں، نظام
پنجاب بار کونسل اور جعلی وکلا
کبھی خواب نہ دیکھنا (تیرھویں قسط)
مرشد، پلیز……!
جعلی ادویہ، حکومتی رویہ اور تڑپتے عوام
26ویں آئینی ترمیم کے بعد……!
ہنسنا بھی ضروری ہے (فکاہیہ تحریر)

ہر انسان کے نصیب میں کمینے دوست ہی کیوں ہوتے ہیں؟ اس پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔ مَیں نے اپنے گوڑھے سجن شکیل علوی سے یہی بات پوچھی۔ کہنے لگا، ’’ہاں یار! ٹھیک کہتے ہو۔ کبھی کبھی میں بھی یہی سوچتا ہوں کہ سارے کمینے میرے اردگرد ہی اکٹھے کیوں ہو گئے ہیں؟‘‘ ہمارے […]
ایڈوکیٹ شمشیر علی خان