فقیر ایپی

جون 1897ء کی ایک صبح مسٹر ’’جی‘‘ نامی ایک برطانوی پولی ٹیکل ایجنٹ شمالی وزیرستان کے ’’مائزار‘‘ دیہات ایک بھاری جمیعت کے ساتھ بغیر کسی پیشگی اطلاع کے آگیا۔اس کے آنے کا مقصد ایک چھوٹے سے قلعے کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب تھا۔ وزیریوں کو اس کا پتا نہیں تھا۔ انھیں شک […]
میری واحد منفی خفیہ رپورٹ

4 اپریل 2003ء کو جب میں 60 سال کی عمر میں ملازمت سے سبک دوش ہوا، تو الوداعی پارٹی کے بعد ہیڈکلرک نے مجھے اپنے دفتر میں بلایا اور ایک ضخیم فائل مجھے دکھاتے ہوئے کہاکہ گھر جاتے وقت یہ ساتھ لے کے جانا۔ فائل کے اُوپر موٹے لفظوں میں لکھا ہوا تھا: ’’اینول کانفڈنشل […]
ہمارے دور کی چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات

آج دراصل مجھے اچانک خیال آیا کہ اپنے لڑکپن کے ملبوسات کے بارے میں کچھ آپ حضرات کے گوش گزار کروں…… اور چند خوش لباس و خوش جمال شخصیات کی یادیں بھی تازہ کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ اُس دور میں […]
60ء کی دہائی کا سوات

بچپن میں ایک عوامی گیت سنا تھا۔ کچھ الفاظ کا مفہوم یہ تھا کہ ’’اگر یہی صورتِ حال رہی، تو مینگورہ بھی اس کے آگے نہیں ٹھہر سکتا۔‘‘کہ داسے حال وی نہ ٹینگیگی منگورہ ورتہٹینگ شہ زرگرہ ورتہاجمالاً کسی زرگر نے ٹانگ میں مکان بنوایا تھا، تو برسات کے پہلے ریلے میں بہ گیا تھا۔کسی […]
5 جون، جشنِ سوات اور چند یادیں

سوات کا جشن 1949ء کے بعد ہر سال 12 دسمبر کو یومِ تاج پوشی کے نام سے منعقد ہوتا تھا۔ اس موقع پر بیرون ریاست سے بھی سرکاری مہمان آتے تھے۔ سوات کی شدید سردی اُن کے لیے ایک مشکل طلب مسئلہ تھی۔ چند سال بعد والیِ سوات نے فیصلہ کیا کہ 12 دسمبر کی […]
ریاستِ سوات کے سول اور عدالتی نظام کے چند پہلو

قطعِ نظر اس بات کے کہ معترضین کیا کہتے ہیں…… اور مجھے کن القاب سے نوازتے ہیں……وہ جانے اور ان کا ضمیر! میرے خیال میں سابقہ ریاستِ سوات کا نظام جس طرح 52 سال تک چلتا رہا، جس طرح اس سسٹم نے ارتقا کے مراحل طے کیے اور جو عین میچورٹی کی حالت میں زمین […]
ماضی کے جھروکے سے

سورج غروب ہو رہا تھا۔ مَیں اپنی دانست میں مینگورہ سے اپنے گھر سیدو شریف جا رہا تھا۔ میری عمر اُس وقت بہ مشکل کوئی 9، 10 سال ہوتی ہوگی۔ بازار بالکل سنسان دکھائی دے رہا تھا۔ تانگوں کا اڈا بھی خالی تھا۔ اگر کئی تانگا ہوتا بھی، تو میرے پاس ایک پیسا بھی نہیں […]
ریاستِ سوات دور کے سڑکیان

گذشتہ دنوں سوات کی ایک مقامی ویب سائٹ ’’سوات انسائیکلو پیڈیا‘‘ پر ریاستی دور کی سڑکوں کے متعلق عملہ کی ایک تصویر شیئر کی گئی تھی جس پر مختلف مزاج کے لوگوں نے اپنے ظرف، معلومات اور مزاج کے مطابق تبصرہ کیا تھا۔ وہاں پر مجھ سے جو بھی ممکن ہو سکا،جواب دیا تھا…… مگر […]
یادِ ماضی

ودودیہ سکول کے پرائمری بلاک میں ہمیں ادنا جماعت میں پڑھتے ایک مہینا بھی نہیں گزرا تھا کہ ہمیں سیدو شریف سے جنوب کی طرف مرغ زار جانے والی سڑک کے کنارے شگئ کے مقام پر نئے تعمیر شدہ ’’اینگلو ورنیکولر مڈل سکول‘‘ میں منتقل کردیا گیا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
قلعہ وال

میں یہی کوئی گیارہ بارہ سال کا لڑکا تھا۔ ان دنوں ہم ہائی سکول شگئی میں پڑھتے تھے۔ ابھی سنٹرل جیل سیدوشریف کو سکول میں تبدیل کرنے کا عمل جاری تھا۔ ہمیں شگئی تک افسر آباد سے روزانہ کم از کم چھے کلومیٹر آنا جانا پڑتا تھا۔ ہمارے گھر کے برآمدے میں غلہ رکھنے کے […]