خونہ چم کا تاریخی چشمہ

آج بیٹھے بیٹھے بلاوجہ خونہ چم کے چشمے کی یاد آگئی۔ ہم اُن دنوں چھوٹے بچے تھے ۔ یہی کچھ 5 یا 6 سال کے۔ شگئی سکول میں پڑھتے تھے۔ روزانہ چاہے گرمی ہو یا سردی…… افسر آباد سے لے کر شگئی سکول تک جانا معمول رہتا۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
یادوں کی پوٹلی سے

سرِ دست اہل دانش سے ایک سوال ہے۔ سب سے پہلے تو یہ واضح کروں کہ مَیں ذات پات کے حوالے سے قرآنی رہنمائی کا قائل ہوں کہ شعوب و قبائل صرف پہچان کے لیے ہیں…… اور اکرام صرف اعمال و تقوا کی بنیاد پر ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے […]
ایک شکار کی کہانی
کومبڑ سے نویکلے چوک تک سڑک کی لمبائی تقریباً 2 کلومیٹر ہے۔ اس کو سرکاری ریکارڈ میں کانڑہ بابا روڈ کہتے تھے، لیکن اس کے اور بھی عوامی نام تھے۔ جیسے: مری روڈ، ٹھنڈی سڑک۔ اس کے زیادہ تر لمبائی میں دونوں کناروں پر نہریں اور درخت ہوا کرتے تھے۔ آبادی کا دور دور تک […]
عبدالروف طوطا اور ڈاکٹر نجیب صاحب سے جڑی یادیں
٭ طوطا ایک نیچرل منتظم تھا۔ موقع اور تقریب کیسی بھی ہو، بس اس پر سب کچھ چھوڑو۔ طوطا جانے اور پروگرام۔ میرا خیال ہے یہ ان کی "Inborn” خصوصیت تھی۔اُن بھائیوں میں یہ خوبی شاید اُن کو گھٹی میں گھول کر پلائی گئی تھی۔ آپ مسکن کی مثال لیجیے۔ کئی سالوں سے عثمان غنی […]
امیر چمن خان (نائب سالار ریاستِ سوات)

اس تحریر کے ساتھ شائع ہونے والی تصویر میں ریاست کی تاریخ کے تین اہم کردار نظر آرہے ہیں۔ بائیں سے شہزادہ میانگل جہان زیب ولی عہد ریاست، درمیان میں کھڑے محمد فقیر خان نائب سالار جب کہ دائیں امیر چمن خان نائب سالار ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے […]
سفید محل (وائٹ پیلس) سے جڑی یادیں

2 9 اکتوبر کو بعد از دوپہر ابوہا سے چلے سوئے مرغزار۔ کئی سال بعد اس سحر آنگیز گوشۂ عافیت کو دیکھنے کا موقع ملا۔ یہاں چند لمحے گزار کر عہدِ گذشتہ کی یادیں تازہ ہوگئیں۔ کچھ ماضی کی جھلکیاں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرتا چلوں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
ماضی کی پوٹلی سے

مَیں بچپن کی بعض باتیں صرف اس لیے دُہراتا ہوں کہ شاید کوئی اُن وقتوں کا ابھی تک زندہ ہو اور اُس سے رابطہ کی کوئی صورت نکل آئے۔ سیدو شریف کے موجودہ رکشوں کے سٹینڈ سے جو گلی سیدو بابا کی مسجد کی طرف نکلتی ہے۔ اُس کے دونوں طرف اُن دنوں مکانات تھے۔ […]
ریاستی دور کے ودودیہ ہائی سکول کا ایک مایہ ناز طالب علم

ودودیہ ہائی سکول کے سو (100) سال پورے ہونے کے موقع پر اسی سکول سے میٹرک کرنے والے ایک بے مثال طالب علم کے بارے میں کچھ معلومات آپ سے شیئر کروں گا۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ ’’اسفندیار‘‘ ہمارے بچپن اور جوانی […]
حاجی رسول خان (مرحوم) کی یاد میں

حاجی رسول خان صاحب کو (مرحوم) لکھتے ہوئے دل میں ہوک سی اٹھتی ہے۔ کیا سدا بہار شخصیت تھی اُن کی۔ مَیں نے اُن کے کئی روپ دیکھے ہیں، مگر اصل رابطہ تو کئی سالوں بعد ہوا، جب اخبار میں اُن کے کالم پڑھنے کو ملے۔ ورنہ سکول اور کالج کی زندگی میں تو اُنھیں […]
تاریخی ’’گیمن کمپنی‘‘ کا ریاستِ سوات میں کام

آج 22 ستمبر کی صبح کو فیس بُک پر ایک ویڈیو ’’گیمن پل خوازہ خیلہ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ یہ سنگین غلطی ہے کہ ہم ہر پُل کو ’’گیمن‘‘ سے منسوب کرتے ہیں۔ اس کا تدارک نہایت ضروری ہے۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: […]
چکیسر سے جڑی چند یادیں

سنہ 1962، 63ء کی بات ہے۔چکیسر میں ایک شادی کے موقع پر رات کو رقص اور موسیقی کا پروگرام تھا، جو کھلی جگہ میں ہورہا تھا۔ چند معزز صاحبان تو کرسیوں پر بیٹھے تھے۔باقی سب لوگ کثیر تعداد میں دائرے کی صورت کھڑے تھے۔ مَیں اپنے ہم عمر لڑکوں کے ساتھ نسبتاً ایک نیم تاریک […]
وہ بھی کیا دن تھے!

آپ کے خیال میں دوسری جنگِ عظیم میں کساد بازاری، مہنگائی اور ذخیرہ اندوزی کس لیول تک بڑھ گئی ہوگی اور اس کا تدارک حکومتوں نے کس طرح کیا ہوگا؟ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر پڑھنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کیجیے: https://lafzuna.com/author/fazal-raziq-shahaab/ میری پیدایش تو 1943ء میں ہوئی، مگر ہمارے […]
سیدو ہسپتال کے ساتھ وابستہ میری یادیں

سیدو ہسپتال کی بہت ہی ابتدائی صورت اپنی یادداشت سے سنا رہا ہوں۔ اس کی ’’اُو پی ڈی‘‘ پتھر کی دیواروں اور لکڑی کی بنی ہوئی تھی۔ اوپر سی جی آئی شیٹ لگے تھے۔ برآمدے کے دو ستونوں کی جوڑی کے بیچ لکڑی کی خوب صورت جافریاں بنی تھیں، جن پر سبز رنگ کیا ہوا […]
افسر آباد کی کچھ یادیں

جب مَیں نے ہوش سنبھالا، تو اُس وقت ہماری مسجد افسر آباد (سیدو شریف) کے امام حافظ بختیار صاحب تھے۔ ان کی رہایش محمد شیرین کمان افسر صاحب (بعد میں کپتان/ منصف) کے پڑوس میں تھی۔ مسجد اُس وقت ایک بہت بڑے کمرۂ صلات، برآمدہ اور ایک کمرہ صحن کے کنارے باہر سے آئے طلبہ […]
کلال بابا

ہمارے گھر جس زمین پر سڑک کے کنارے بنے ہیں، یہ ہمارے پرکھوں کی ملکیت تھی اور سامنے والے پہاڑ کے دامن تک پھیلی ہوئی تھی۔ پھر میانگل عبدالودود بادشاہِ سوات نے اس کے درمیان سے سڑک گزاری۔ اس کی وجہ سے زمین کے دو ٹکڑے ہوگئے۔ فضل رازق شہاب کی دیگر تحاریر پڑھنے کے […]
ولی عہد میانگل اورنگزیب (مرحوم) سے وابستہ کچھ یادیں

آج جب مَیں یہ سطور تحریر کر رہا ہوں، 3 اگست ہے، جو ریاستِ سوات کے ولی عہد میانگل اورنگزیب کا یومِ وفات ہے۔ اُن کی زندگی پر بہت کچھ لکھا جاچکا ہے۔ کئی ڈاکیومینٹریز اُس سدا بہار شخصیت کے بارے میں ایک کلک کی دوری پر موجود ہیں۔ فضل رازق شہابؔ کی دیگر تحاریر […]
توپوں کی صفائی اور پریڈ کے نہ بھولنے والے دن

بچپن میں ہم ہفتے کے دو دن بہت خوش رہتے۔ ایک دن توپوں کی صفائی کا اور دوسرا رسالے، بگلرز اور مشین گن دستے کی مشترکہ پریڈ کا۔ توپ خانے کے کمان افسر عبدالحنان ہمارے پڑوسی تھے اور ہمیں اپنے بیٹوں اسفندیار اور اختر حسین کی طرح پیار کرتے تھے۔ صفائی کے مقررہ روز ہم […]
وادئی چغرزئی (بونیر) سے وابستہ چند یادیں

1969ء میں ادغامِ ریاست کے بعد بھی چغرزئی کا پورا علاقہ کئی سال تک سڑک سے محروم رہا۔ ریاستی دور میں بدال تک ایک کچی سڑک بنی ہوئی تھی، جو اُسی دور میں تعمیر شدہ سٹیٹ ڈسپنسری بدال کے قریب ختم ہوجاتی تھی۔ آگے چغرزئ کے مختلف دروں اور دیہاتوں تک اشیائے ضروریہ کی ترسیل […]
محمد شیرین کمان افسر

آج کی نشست میں ایک تاریخ ساز شخصیت سے آپ کو ملواتا ہوں۔ ان کی تصویر آج کل سوشل میڈیا پر وائرل ہے۔ یہ محمد شیرین کمان افسر ہیں، جو ریاست کے گھڑ سوار دستے کے کمان دار تھے۔ سیدو شریف ہی کے رسال دار غلام محمد ان کے سیکنڈ اِن کمانڈ تھے۔ فضل رازق […]
بریکوٹ ہائی سکول، ریاستی دور کی نشانیوں میں سے ایک

ریاستِ سوات کے دور میں تعمیر ہونے والے اکثر سکول دہشت گردی کے دوران میں اڑادیے گئے۔ بچ جانے والے ہائی سکولوں میں بریکوٹ کا سکول بھی شامل ہے، جیسا کہ اس کے بورڈ سے ظاہر ہے۔ یہ سکول 1965ء میں مکمل ہوا تھا۔ اس کے تعمیر کے دوران میں، مَیں چکیسر میں ڈیوٹی پر […]
یادوں کے دریچے سے

غلط فہمی ہوجائے، تو بڑی مشکل سے اِزالہ ہوتا ہے۔ 1970 کی دہائی کے ابتدائی سالوں کی بات ہے۔ہم بہ سلسلۂ ملازمت ڈگر میں مقیم تھے۔ رہایش کی شدید قلت تھی۔ ہم ریاستی دور کے ریسٹ ہاؤس کے ایک کمرے میں رہنے پر مجبور تھے۔ پورا علاقہ بونیر بجلی سے محروم تھا اور ابھی وہ […]