آئینی بحران اور سیاسی طاقت کی جنگ

27ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے اسی پلیٹ فارم (لفظونہ ڈاٹ کام) پر اپنی گذشتہ تحریر’’27ویں ترمیم، جمہوریت کا نیا امتحان‘‘ میں یہ گزارش کی تھی کہ ترمیم کا مسودہ اگر سرسری طور پر بھی پڑھ لیا جائے، تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس میں سب کچھ موجود ہے، سوائے اس کے کہ عوام الناس […]
احتجاجی سیاست یا عوامی اذیت؟

پاکستان ایک ایسا ملک ہے، جہاں مسائل اپنی انتہا تک پہنچ چکے ہیں۔ یہ مسائل نہ صرف ملکی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں، بل کہ عوام کو روزمرہ کی زندگی میں اذیت سے دوچار کرتے ہیں۔ یہ اذیت اکثر غیر ضروری مشغولیات کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے، جس میں قوم کا وقت اور […]
ترمیم نئی اور دُکھ وہی پرانے

27ویں آئینی ترمیم کے بعد جو ماحول بنا ہوا ہے، اُس نے کئی سوالوں کو جنم دیا ہے۔ مثلاً: کیا یہ پہلی ترمیم ہے؟ جواب ہے: ’’نہیں۔‘‘کیا یہ آخری ترمیم ہے؟ اس کا بھی جواب نفی میں ہے۔پھر ایسے میں اتنا واویلا کیوں ہے؟ ترمیم کے حمایتی اور مخالفین دونوں کے پاس درجنوں دلائل ہیں، […]
مینگورہ شہر کا خاموش المیہ

آج کے اس ترقی یافتہ دور میں مینگورہ شہر بے شمار مسائل سے دوچار ہے۔ ڈینگی، ملیریا، کورونا، آلودگی، چوہوں کی بے تحاشا افزایش، شہری سیلاب کے خدشات، بے ہنگم ٹریفک، ٹریفک جام، سینے اور سانس کے امراض اور نہ صرف مینگورہ شہر بل کہ پورے ملاکنڈ ڈویژن میں کینسر کے بڑھتے ہوئے مریض…… اگر […]
سبق یا تشدد……؟

اکثر کہا جاتا ہے کہ قوموں کا مستقبل نہ ایوانوں میں لکھا جاتا ہے اور نہ میدانِ جنگ میں،بل کہ اُن چھوٹے کمروں میں جہاں بچے ا، ب، پ سیکھتے ہیں…… مگر جب خیبر پختونخوا کے نجی اسکولوں میں رائج اُردو اور دیگر مضامین کے نصاب کا مطالعہ کیا جائے، تو ایک تشویش ناک حقیقت […]
قدرت کی پکار اور انسان کی بے حسی

نومبر کا مہینا اپنے اختتام کی طرف گام زن ہے۔ یہ موسم صرف بدلتے پتوں کا نام نہیں، بل کہ زمین کی بے آواز گردش کی ایک نئی کروٹ ہے۔ جیسے ہی سورج کا زاویہ بدلتا ہے، دن چھوٹے اور راتیں لمبی ہونے لگتی ہیں۔ دھوپ کی شدت گھٹتی ہے، ہوا میں نمی بڑھتی ہے […]
کالام، بحرین اور مدین پرتجاوزات کی لٹکتی تلوار

حالیہ دنوں کالام میں کئی دن تک مقامی لوگوں اور انتظامیہ کے بیچ مذاکرات کا کھیل جاری رہا۔ سوشل میڈیا پر سماجی کارکنوں اور سوشل میڈیا صحافیوں نے فریقین کے بیچ مذاکرات کی کام یابی اور کسی ایگریمنٹ کا بھی اعلان کیا۔ مبارک بادیں بھی دی گئیں۔ تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق کالام میں […]
ڈپٹی کمشنر سوات کے نام کھلا خط

ڈپٹی کمشنر سوات، محترم سلیم جان مروت!یہ چند سوالات ایک شہری کے دل سے اُٹھ رہے ہیں، وہ شہری جب روز اپنی ضروریات کے لیے گھر سے نکلتا ہے، تو ٹریفک میں پِستا ہے، دفاتر کے چکر کاٹتا ہے اور نظام کی بے حسی کا شکار ہے۔ آپ اس ضلع کے بادشاہ اور نگہ بان […]
میثاقِ ریاست: انفرادی ترامیم کے خطرات

آئین، جسے دستور بھی کہا جاتا ہے، محض چند قانونی دفعات کا مجموعہ نہیں ہوتا۔ یہ ریاست اور اس کے شہریوں کے مابین طے پانے والا ایک ایسا مقدس سماجی معاہدہ ہے، جو اجتماعی زندگی کا خاکہ مرتب کرتا ہے۔ یہ کسی بھی قوم کی سیاسی سوچ، اس کے تاریخی ارتقا اور اس کی اجتماعی […]
ساؤنڈ سسٹم ایکٹ: ریاستی کنٹرول یا سماجی جبر؟

خبر ہے کہ بہاولنگر میں پولیس نے دولھے کو مہندی کی رات گرفتار کرلیا۔ کیوں کہ مبینہ طور پر دولھے نے ساؤنڈ ایکٹ کی خلاف ورزی کی تھی۔ اس کے بعد اُس کو شیروانی سمیت ساری رات تھانے کی حوالات میں رکھا گیا۔ حالاں کہ صبح اُس کی بارات روانہ ہونا تھی۔ دولھے کو شادی […]
امریکہ بھارت معاہدہ: خطے کی نئی گیم

بھارت اور امریکہ کا دس سالہ دفاعی معاہدے کا فریم ورک آخرِکار دفاعی شراکت داری کے مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ یہ کوئی حیرانی کی بات نہیں۔ کیوں کہ یہ سلسلہ کل یا پرسوں کا نہیں، بل کہ حقیقت میں پہلی بار 28 جون 2005ء کو بھارتی وزیرِ دفاع پرنب مکھرجی اور امریکی سیکرٹری دفاع […]
خنک صبح کا مکالمہ اور گرم حقائق

سردی کی ایک خنک صبح تھی۔ وہ گرم پانی سے نہا دھو کر ’’میس‘‘ میں ناشتا کرنے بیٹھا تھا۔ ساتھ ہی ہیٹر جل رہا تھا۔ سردی کی شدت کچھ کم ہورہی تھی۔ گرم چائے کی چسکی سے ماحول مزید خوش گوار بن رہا تھا۔ موصوف ایک سرکاری جامعہ میں پڑھاتے ہیں اور دوسری سرکاری جامعہ […]
خدمت، سیاست اور فکری جمود کا المیہ

ڈاکٹر گوہر علی نے ’’بنو قابل‘‘ یا ’’بنو قابلِ سیاست‘‘ کے عنوان سے لفظونہ ڈاٹ کام کے قارئین کے لیے ایک عمدہ تحریر لکھی ہے۔ اُمید ہے کہ جماعتِ اسلامی کے ’’فارمولا ذہن‘‘ والے افراد اس کو تعمیری تنقید کے طور پر لیں گے، اس لیے میں ڈاکٹر گوہر کی بات آگے بڑھانے کی جسارت […]
27ویں ترمیم، جمہوریت کا نیا امتحان

آئینِ پاکستان میں ترامیم کا سلسلہ ہماری سیاسی تاریخ کا ایک ایسا باب ہے، جو کبھی بند نہیں ہوا۔ ہر دورِ حکومت میں اقتدار کے ایوانوں میں آئینی تبدیلیوں کی بازگشت سنائی دیتی رہی ہے۔ کبھی طاقت ور طبقے نے اپنی بالادستی کو دوام بخشنے کے لیے آئین میں رد و بدل کیا، تو کبھی […]
’’قامی تڑون جرگہ‘‘ اور ہمارے کرنے کے کام

سوات کیا پورے ملاکنڈ ڈویژن میں تحصیلِ بابوزئی کو کئی وجوہات کی بنا پر انفرادیت حاصل ہے۔ یہ ڈویژنل اور ضلعی ہیڈکوارٹر ہونے کے ساتھ ساتھ تعلیمی، سماجی، اقتصادی، ثقافتی، عدالتی اور تاریخی ہیڈکوارٹر بھی ہے ۔ کاروباری مواقع کے لحاظ سے بھی یہ ایک بڑی تحصیل ہے۔ یوں اس تحصیل میں آبادی کی مسلسل […]
آؤٹ سورسنگ: علاج یا مزید بحران؟

حکومتِ خیبر پختونخوا نے حال ہی میں ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے صوبے کے 1500 سے زائد سرکاری تعلیمی اداروں کو آؤٹ سورس کرنے کے ارادے کا اظہار کیا ہے۔ ان اداروں میں پرائمری، مڈل، ہائی اور ہائر سیکنڈری سکولوں کے ساتھ ساتھ متعدد گرلز اور بوائز کالجز بھی شامل ہیں۔ اس فیصلے کے لیے […]
کھیل اور تعلیم: ترجیحات، چیلنجز اور اجتماعی ذمے داری

پرنسپل کی حیثیت سے مجھے ’’انٹر سکولز سپورٹس گالا 2025ء‘‘ میں پہلے کبل گراؤنڈ میں فٹ بال مقابلوں کے چیئرمین اور بعد ازاں ادبی مقابلوں (جن میں 14 ایونٹس شامل تھے) کے آبزرور کے طور پر خدمات سر انجام دینے کا موقع ملا۔ ایتھلیٹکس کے علاوہ تمام میجر اور مائنر گیمز ضلعی سطح پر اختتام […]
پاکستان کی تباہی کا اصل سبب

ہم ایک عرصے سے یہی سنتے اور کہتے آئے ہیں کہ ملک میں کرپشن بڑھ گئی ہے۔ سیاست دانوں نے خزانے لوٹ لیے ہیں۔ فُلاں وزیر نے بیرونِ ملک جائیدادیں بنا لی ہیں اور فُلاں ایم این اے یا ایم پی اے دولت کے انبار میں کھیل رہا ہے۔یہ باتیں درست ہیں، لیکن سوال یہ […]
جنگ کے سائے میں زندگی

غزہ کے زخم ابھی پوری طرح مندمل نہیں ہوئے تھے کہ امسال بھارت نے پاکستان پر حملہ کرکے مزید زخم لگا دیے۔ نتیجتاً جو کچھ ہوا، وہ کہانی آپ خود جانتے ہیں…… مگر اس معاملے نے اہلِ پاکستان کو مجبور کیا کہ کچھ عرصے کے لیے غزہ کو بھول کر اپنی حالت پر توجہ مرکوز […]
شاہ رخ خان، فن اور جذبات کی دنیا کا بادشاہ

2 نومبر کی تاریخ بالی ووڈ کے اُفق پر ایک غیر معمولی جشن بن کر طلوع ہوتی ہے، جب کروڑوں مداح اپنے محبوب ’’کنگ خان‘‘ (شاہ رخ خان) کی آمد کا پُرجوش استقبال کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک اداکار کا یومِ پیدایش نہیں، بل کہ ایک عہد، ایک خواب اور محبت کے اس استعارے کا […]
اونرشپ آرڈیننس 2025ء کا مختصر جائزہ

حکومتِ پنجاب نے ایک دیرینہ اور ضروری قدم اٹھاتے ہوئے ’’پنجاب پروٹیکشن آف اونرشپ آف اِموویبل پراپرٹی آرڈیننس، 2025ء‘‘ نافذ کیا ہے۔ ایسے وقت میں جب زمینوں کے تنازعات، جعلی کاغذات اور ناجائز قبضے عوام کے انصاف پر اعتماد کو مجروح کر رہے تھے۔ یہ قانون انتظامی عزم اور قانونی اصلاحات کی علامت کے طور […]