سٹیٹ فورسز کا مرکزی دفتر

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاستِ سوات کا پورا سکرٹیریٹ جس میں حکم ران اور ولی عہد کے دفاتر بھی شامل تھے، اُنھی اونچی چناروں کے سائے میں تھا، جہاں آج کل کمشنر، آر پی اُو اور دیگر دفاتر کام کر رہے ہیں۔ ریاست کا فوجی دفتر اسی بلڈنگ میں واقع تھا، جو ادغام کے بعد ابھی تک ڈسٹرکٹ کمپٹرولر […]

باچا صاحب کے ساتھ جڑی ایک یاد

Blogger Fazal Raziq Shahaab

حکومتِ خداداد یوسف زئی ریاستِ سوات و متعلقات کے بانی میاں گل عبدالودود معروف بہ باچا صاحب میانگل عبدالخالق کے بیٹے اور اخوند آف سوات عبدالغفور الملقب بہ سیدو بابا کے پوتے تھے۔ یہاں پر ہم سوات کی تاریخ نہیں دہراتے۔ صرف اُن کے بارے میں چند ایسے واقعات کا ذکر مقصود ہے، جو میری […]

کچھ امان اللہ خان جلو خیل کے بارے میں

Blogger Sajid Aman

نشاط چوک سے مین بازار کی طرف جاتے ہوئے ایک عظیم الشان مسجد، ساتھ اعظم کلاتھ مارکیٹ اور اُس کے بالکل پیچھے اعظم ٹریڈ سنٹر وسیع مارکیٹ اس شہر کے ایک وجیہہ، ہر دِل عزیز، یار باش، سلیقہ مند اور گفت گو کا ہنر رکھنے والے امان اللہ خان صاحب کی عظمت کی یاد دِلاتے […]

کچھ والد بزرگوار محمد عظیم مرزا کے بارے میں

Blogger Fazal Raziq Shahaab

میرے مرحوم والد محمد عظیم مرزا اور میرے چچا شاہزاللہ اپنے باپ حبیب اللہ کے سائے سے بہت کم عمری میں محروم ہوگئے۔وہ اتنے کم عمر بچے تھے کہ اُن کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ اُن کے والد کیوں اور کہاں جان کی بازی ہار گئے؟ یہ بات اُن کو بہت بعد میں […]

ملک بیرم خان ’’تاتا‘‘ کی یاد میں

Blogger Sajid Aman

ملک بیرم خان المعروف ’’تاتا‘‘ یکم اکتوبر 1983ء کو میونسپل کمیٹی مینگورہ کے چیئرمین منتخب ہوئے۔ چار سال مکمل ہونے کے بعد 21 نومبر 1987ء کو ان کی مدتِ ملازمت ختم ہوئی۔ دوبارہ بلدیاتی انتخابات میں اُنھوں نے پھر بھاری اکثریت سے کام یابی حاصل کی اور 29 دسمبر 1987ء کو دوبارہ چیئرمین منتخب ہوئے۔ […]

مکان باغ مسجد، ریاستِ سوات اور قاضی حبیب الرحمان

Blogger Sajid Aman

1905ء میں جہاں مکان باغ مسجد موجود ہے، سپیروں کی ایک چھوٹی بستی تھی، جو چند جھونپڑیوں پر مشتمل تھی۔ اسی بستی کو مکان باغ کہا جاتا تھا۔ چوں کہ پشت پر باغ تھے اور اس علاقے میں واحد آبادی تھی، جو ہریالی اور پانی کے قریب تھی۔ یہ آبادی ایک طرح سے جنگل تھی، […]

ریاستِ سوات کے مالیاتی نظام کا مختصر سا جائزہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاستِ سوات کے قیام کے ابتدائی سالوں میں مالیات کا کوئی مربوط نظام نہیں تھا۔ روزمرہ کے اخراجات بادشاہ صاحب کی ذاتی جائیداد کے علاوہ مینگورہ کے ایک متمول تاجر حاجی شمشی کے گراں قدر عطیے کے باعث ممکن ہوسکے تھے۔ بادشاہ صاحب سوات کے چند ممتاز صاحبِ ثروت لوگوں میں شامل تھے۔ اُن دنوں […]

ریاستِ سوات کے 52 سالوں کا مختصر ترین تقابلی جائزہ

Blogger Fazal Raziq Shahaab

میری یہ سطور غور سے پڑھیں۔ میرا یہ ہرگز یہ مطلب نہیں کہ آپ نے سوات کے اُن 52 سالوں کے بارے میں جو رائے قائم کی ہے، آپ اُسے ترک کردیں۔ وہ 52 سال جو 1917ء سے 1969ء تک کے عرصے پر پھیلے ہوئے ہیں اور وہ دو باپ بیٹے، جنھوں نے اپنی دانش […]

امیر دوست خان دھوبی

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90ء کے عشرے کی بات ہے، تاج چوک میں قائم مدرسے سے چھٹی ہونے کے بعد واپسی کے وقت ڈاکٹر عبدالوہاب المعروف ’’چاڑا ڈاکٹر‘‘ کی گلی سے گزرتے ہوئے ایک سفید ریش ستار بجانے والے کی دُکان کے سامنے آکر غیر ارادی طور پر میرے قدم رُک جاتے۔ عصر کے دس پندرہ منٹ گزرنے کے […]

ریاستِ سوات کی سول تنظیم

Blogger Fazal Raziq Shahaab

ریاست کی سول/ جوڈیشل تنظیم کے بارے میں بحث کے آخری نقطے یعنی مرکزی سٹ اَپ پر تفصیلی گفت گو سے پہلے یہ عرض ضرور کروں گاکہ لفظ ’’مشیر‘‘ کو مشاورت کے معنی میں نہ لیا جائے۔یہ رینک پہلے ’’حاکمِ اعلا‘‘ کے نام سے متعارف کیا گیا۔ بعد میں نائب وزیر کہلایا گیا، لیکن مختصر […]

سوات کی تاریخ مسخ کی جا رہی ہے

Blogger Fazal Raizq Shahaab

مَیں کوئی محقق ہوں نہ مورخ…… مگر اتنا دعوا ضرور کرتا ہوں کہ مجھے غیر متنازع، مستند اور تسلیم شدہ مورخین سے استفادہ کی سعادت حاصل رہی ہے۔ اُن سے گھنٹوں پر محیط بامقصد گفت گو کا موقع ملا ہے۔ شکر ہے کہ سوات کے بارے میں اُن عظیم مورخین کی کاوشیں کتابی صورت میں […]

خیرالامان تحصیل دار صاحب کی یاد میں

Blogger Sajid Aman

کوئی اپنے والد صاحب کو دفن کرکے آتا ہے، تو کتنا شکستہ اور بے اعتماد ہو جاتا ہے…… الفاظ شاید اس کیفیت کا احاطہ کرنے سے عاجز ہیں۔ ’’فادرز ڈے‘‘ پر فارورڈ میسج پوسٹ کرنا کتنا آسان ہوتا ہے۔ قارئین! ہر شہر کے کچھ خاص ثقافتی، علمی، حکمت، حسن، وراثتی، دیو مالائی تاریخی و روایتی […]

ریاستی دور میں رکھے جانے والے عام نام

Blogger Fazal Raziq Shahaab

شاید آپ لوگوں کے مشاہدے میں یہ بات ضرور آئی ہوگی کہ پشتو سپیکنگ لوگوں میں بالعموم اور سواتیوں میں بالخصوص بعض نامانوس، نامعلوم اور مہمل قسم کے نام رکھے جاتے ہیں، جن میں بعض کے تو معنی بھی نہیں نکلتے۔ مثال کے طور پر ’’جانس‘‘ (Janas) ایک عام سا نام ہے، مگر میری سمجھ […]

سوات کی تاریخ مسخ ہونے سے کیسے بچائی جائے؟

Blogger Fazal Raziq Shahaab

مجھے اپنی کم مائیگی کا اور ناقص تعلیم کا اور عمر کے تقاضوں کا احساس ہے۔کبھی میری رائے یا تبصرے ناقص بھی ہوسکتے ہیں…… اور یقینا ایسا ہی ہوگا۔ مثال کے طور پر لارڈ ارون کے دورۂ سوات کے مقاصد اور تاریخ کے بارے میں میرا تبصرہ ایک لحاظ سے غلط تھا۔ بدقسمتی سے جن […]

ریاستِ سوات کے الحاق بارے نیا شوشا

Blogger Fazal Raziq Shahaab

اچھا جناب……! عام ہڑتال بھی ہوچکی ٹیکسوں کے خلاف…… پتا نہیں ٹیکس لگتے ہیں یا نہیں……! مگر یار لوگوں نے گرم توا سر پر رکھا ہوا ہے۔ بھانت بھانت کی بولیاں اور عجیب وغریب قسم کی تاویلات سامنے آرہی ہیں۔ بھائی سیدھے سبھاو تو ایک ہی بات کروکہ ’’وفاق کو مانتے ہو کہ نہیں۔‘‘ فضل […]

دورِ ریاستِ سوات کے ایک قصاص کی کہانی

Swat State Blogger Fazal Raizq Shahaab

اس تحریر کے ساتھ سیدو بابا مزار کی ایک تصویر دی جا رہی ہے جس میں لکڑی کا ایک پُل نظر آرہا ہے۔ مذکورہ پُل کے دوسرے اینڈ پر ایک تو شاہی محمد ولد نظرے حاجی صاحب کی کپڑے کی دُکان تھی۔ کبھی کبھی امیر زادہ اُستاد صاحب بھی کپڑا ناپتے نظر آتے تھے۔ فضل […]

ریاستِ سوات کا بھونڈے انداز سے ادغام

Swat State Blogger Fazal Raziq Shahaab

یوسف زئی ریاستِ سوات کا شاہی علم 28 جولائی 1969ء کو آخری بار شام کے وقت فلیگ سٹاف سے اُتارا گیا اور پھر ہمیشہ کے لیے لپیٹ دیا گیا۔ پھر نہ کسی نے والئی سوات کی رہایش گاہ پر اسے لہراتے ہوئے دیکھا، نہ اُن کی آف وائٹ مرسیڈیز کے بونٹ پر۔ فضل رازق شہاب […]

روسی خبر رساں ایجنسی کا والئی سوات بارے بیان

Blogger Fazal Raziq Shahaab

’’تصویر میں نظر آنے والا شخص20 ویں صدی کا طاقت ور ترین حکم ران تھا۔‘‘ یہ روسی خبر رساں ایجنسی ’’تاس‘‘ کا تبصرہ ہے، جو اُس نے 28 جولائی 1969ء کو ریاست کے ادغام پر کیا تھا۔ ایک ایسا حکم ران (میاں گل عبدالحق جہانزیب) جس سے کوئی بھی شخص دفتری اوقات میں مل سکتا […]

عجب خان حاجی صاحب کی یاد میں

Blogger Sajid Aman

6 مئی 2020ء کے ایک بہت ہی تھکا دینے والے دن عین نمازِ عصر کی اذان کے ساتھ عجب خان حاجی صاحب نے اذان کا جواب دینا اور کلمۂ شہادت پڑھنا شروع کیا۔ اذان ختم ہوئی اور حاجی صاحب خاموش ہوگئے۔ فوراً رحمان اللہ بابو صاحب کو بلایا گیا، وہ لمحوں کے حساب سے پہنچے […]