محشر لکھنویؔ کی یاد میں

آہ، محشر لکھنویؔ صاحب بھی کوچ کرگئے۔ اُستاد محشر لکھنوی کا اصل نام سید محسن رضا نقوی تھا۔ وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر تھے۔ لکھنو سے تعلق تھا۔ اُن کو محشر لکھنوی کے تخلص اختیار کرنے کا مشورہ آغا شورش کاشمیری نے دیا تھا۔ اُس سے پہلے شبنم لکھنوی تخلص کیا کرتے تھے۔ […]
شہنشاہی مراعاتی بِل کی واپسی

خبر یہ ہے کہ حکومت کی جانب سے شدید مخالفت اور تنقید کے بعد چیئرمین سینٹ صادق سنجرانی نے اپنے اور اپنے جیسوں کے لیے پیش کردہ ’’شہنشاہی مراعاتی بِل‘‘ واپس لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے اسے پیش کرنے والے سینیٹرز کو ہدایت جاری کر دی ہے کہ اس بِل کو واپس لے لیا جائے۔ […]
کتابِ میرداد (تبصرہ)

تبصرہ نگار: ارسلان قادر ایک دن اُوشو سے کسی نے پوچھا کہ کون سی کتاب پڑھنی چاہیے، تو اُوشو کہنے لگے: ’’دیکھیے لوگوں کے گھروں میں لائبریری ہوتی ہے، جب کہ میرا گھر ہی لائبریری تھا، جہاں مَیں رہتا رہا۔ سب کتابیں پڑھ لیں، مگر مَیں آپ کو صرف ایک کتاب پڑھنے کا مشورہ دوں […]
زی لائبریری کی بازیابی

’’زی لائبریری‘‘ (Z-Library) الیکٹرانک کتب کا ایک بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ یہاں سے آپ 24 گھنٹوں میں 10 کتب مفت ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں اور اس سے زیادہ کتب کے لیے رُکنیت خریدنی پڑتی ہے۔ یہ لائبریری بہت عرصے سے بند تھی، کیوں کہ کاپی رائٹس کی خلاف ورزی کی وجہ سے اس کے […]
فنِ ترجمہ نگاری

تحقیق و تحریر: ڈاکٹر محمد زوہیب حنیف ترجمہ ایک ایسا فن ہے جس کے ذریعے سے کسی قوم کی تاریخ، رسم و رواج، اُس کی ثقافت، اندازِ بیاں، اُس قوم کی زباں میں ادا کیے گئے محاورات و ضرب الامثال اور تشبیہات و استعارات کے بارے میں علم ہوتا ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ […]
کانچ کا زِنداں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: رومانیہ نور گئے برس اوائلِ دسمبر کی ایک کہر آلود شام تھی، جب ڈاکٹر صہبا جمال شاذلی صاحبہ کی ترجمہ کردہ کتاب ’’کانچ کا زِنداں‘‘ موصول ہوئی۔ مَیں جو ’’میگرین‘‘ اور ’’وِژن لاس‘‘ کے ٹراما میں انتہائی بے زار اور مشکل وقت کاٹ رہی تھی…… ڈاکٹر صاحبہ سے معذرت چاہی کہ جوں ہی […]
امجداسلام امجدؔ اور عربی شاعری کے تراجم

تحقیق و تحریر: محمد افتخار شفیع امجد اسلام امجدؔ نے شاعری، ڈراما نگاری اور کالم نویسی کے میدان میں شہرت حاصل کی، لیکن عام طورپرایک مترجم کے طور پر اُن کے اوصاف نمایاں نہ ہوسکے۔ امجد اسلام امجدؔ شعرا کی اُس محدود تعداد میں شامل ہیں جنھوں نے محمد کاظم کی معاونت سے براہِ راست […]
دانت درد جیسے لوگ (عربی ادب سے ترجمہ شدہ نثر پارہ)

ترجمہ: توقیر احمد بُھملہ جب آپ کے کسی دانت میں ناقابلِ برداشت درد شروع ہوجاتا ہے۔ علاج کے باوجود راحت نہیں ملتی، تو صبر اور برداشت کی حد کو توڑتی درد کی ٹیسیں، آپ کی سوچ کو صرف ایک نقطے پر لا پھینکتی ہیں۔ اور وہ سوچ، اذیت دینے والے اس دانت کو نکالنے کی […]
کتاب ’’فکری روایات‘‘ کا اجمالی جائزہ

اردو یا پشتو میں کسی کتاب کا مطالعہ کروں…… اور صرف کیے گئے وقت کو بامعنی پاؤں، تو دوہری خوشی ہوتی ہے۔ زیرِ تبصرہ کتاب کو پڑھنے کے بعد بھی کچھ ایسے ہی احساسات ہیں۔ مصنف جمشید اقبال نے صرف کسی کتاب پر اپنا نام کندہ کرنے اور مصنف کہلائے جانے کے چکر میں اُردو […]
لیو ٹالسٹائی کی کہانیاں (تبصرہ)

تبصرہ نگار: منیر فراز عقیلہ منصور جدون صاحبہ ’’عالمی ادب کے اُردو تراجم‘‘ کے فیس بُک گروپ کی نہایت مصروف ترجمہ نگار ہیں۔ انھوں نے بہت قلیل مدت میں فنِ ترجمہ نگاری پر دسترس حاصل کی اور کئی یادگار افسانے اور امریکی معاشرت کے کئی سماجی اور اہم سیاسی مضامین ترجمہ کرکے پڑھنے والوں تک […]
کیا کسی سے پارٹی چھڑوانا اس کی قانون شکنی کی تلافی ہے؟

نام نہاد جمہوریت کی آڑ میں حکم ران، سیاسی مخالفین جو اُنھیں ہرانے کی سیاسی قوت رکھتے ہوں، کو سیاست سے باہر کرنے کے لیے ہر جائز و ناجائز حربہ استعمال کرنے سے دریغ نہیں کرتے۔ چاہے ریاست کو اس کی کوئی بھی قیمت ادا کرنا پڑے، اُن کی بلا سے۔ پاکستان میں سیاست کا […]
قسمت یا محنت؟

مشہورِ زمانہ انویسٹر ’’وارن بفے‘‘ اپنے سالانہ خط (2014ء) میں لکھتے ہیں کہ قسمت سے مَیں اور چارلی (بفے کا بزنس پارٹنر) امریکہ میں پیدا ہوئے اور ہم اس پیدایش کے حادثے سے ملنے والے حیران کن فوائد کے لیے ہمیشہ شکر گزار ہیں۔ وارن اپنی کامیابی میں ایک بڑا کردار قسمت کا بتاتے ہیں…… […]
اسامی

عام طور پر ’’اسامی‘‘ (عربی، اسمِ مونث) کا اِملا ’’آسامی‘‘ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ ’’نور اللغات‘‘ اور ’’فرہنگِ تلفّظ‘‘ کے مطابق درست اِملا ’’اسامی‘‘ ہے جب کہ اس کے معنی ’’اسم کی جمع‘‘، ’’کاشت کار‘‘، ’’ملازمت کے لیے خالی جگہ‘‘ وغیرہ کے ہیں۔ صاحبِ نور نے تو باقاعدہ طور پر ان الفاظ میں صراحت […]
علمیات (Epistemology)

تحریر: میثم عباس علیزی ’’علمیات‘‘ (Epistemology) فلسفہ کی ایک شاخ ہے، جس میں علم کے بارے میں بحث ہوتی ہے لیکن کس طرح……؟ اس کو سمجھنے کے لیے ہم سوالات کے ذریعے سمجھتے ہیں کہ ’’علمیات‘‘ کا تعلق کن سوالات سے ہوتا ہے۔ جیسے : ٭ علم بذاتِ خود کیا ہے، یعنی خود علم کی […]
ڈوبتا روایتی میڈیا

کسی بھی کاروبار یا شعبے میں جب ’’نان پروفیشنل‘‘ لوگ داخل ہو جاتے ہیں، تو وہ کاروبار یا شعبہ آہستہ آہستہ زوال کی جانب بڑھنے لگتا ہے اور پھر ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ تباہی اُس کا مقدر بن جاتی ہے۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ ایک دفعہ تباہی کے بعد دوبارہ […]
ضرب المثل شعر جس کا مصرعِ ثانی غلط لکھا اور پڑھا جاتا ہے

پرسوں ماہ نامہ اُردو ڈائجسٹ (مئی 2023ء) کو پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ صفحہ نمبر 173 پر ’’دوانہ مرگیا‘‘ کے زیرِ عنوان درج تھا: ’’راجا رام نرائن موزوںؔ زیادہ تر فارسی میں شعر کہتے تھے۔ شیخ علی حزیںؔ اُن کے استاد تھے۔ نواب سراج الدولہ کے دامنِ دولت سے وابستہ رہے۔ ایک الزام میں ملزم قرار […]
بیوگی اور توہمات

میری والدہ کا انتقال میرے بچپن میں ہوا تھا۔ میرے والد اور والدہ کی عمروں میں کم سے کم دس سال کا فرق تھا۔ والدہ دوسری شادی کرسکتی تھیں، مگر انھوں نے میری خاطر شادی نہیں کی اور ساری زندگی میری پرورش میں تیاگ دی۔ اللہ ان کو کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے، آمین! ابو […]
’’ایک فکشن نگار کا سفر‘‘ (تبصرہ)

ترجمہ: رضوان الدین فاروقی ضیا فاروقی کا شمار اُردو اَدب کے اُن قلم کاروں میں ہوتا ہے، جن کی پشت پر تقریباً نصف صدی کے تجربات کے نقوش کو آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں تک اُن کے ادبی سروکار کا معاملہ ہے، تو یہ اُردو زبان و ادب کے اُن شہ سواروں میں […]
کنٹرولڈ میڈیا

کیا آج کل مہنگائی پر بات ہوتی ہے، کیا ڈالر کی اونچی اُڑان زیرِ بحث ہے، کٹائی کے موسم میں بھی مہنگا گندم اور پنجاب سے آٹا لانے پر پابندی پر کہیں بات ہورہی ہے، سال ہونے کو آگیا مگر آئی ایم ایف نے پی ڈی ایم سرکار کے ساتھ معاہدے پر دستخط نہیں کیا، […]
شخصی خاکوں پر مشتمل کتاب ’’میرے ہم نوا‘‘ کا مختصر سا جائزہ

اُبھرتے ہوئے نوجوان ادیب اور نثر نگار سجاد حسین سرمد کی شخصی خاکوں پر مشتمل دُوسری کاوش ’’میرے ہم نوا‘‘ گذشتہ دنوں شائع ہوئی، جس میں 12 شخصیات پر خاکے تحریر کیے گئے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان شخصیات میں چار زندہ شخصیات پر بھی خامہ فرسائی کی گئی ہے، جو کہ ایک […]
ٹیبولا راسا

تحریر: میثم عباس علیزی کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کی شخصیت کیسے بنتی ہے، آپ کے جذبات و احساسات کا دارومدار کس چیز پر ہے، یا آپ جو سوچتے ہیں وہ کیوں سوچتے ہیں، آپ کے رجحانات، تمایلات اور عقائد کیسے تشکیل پاتے ہیں، آپ کا ذہنی ڈھانچا کیسے تیار ہوتا ہے……؟ […]