90ء کی دہائی کی مہمان نوازی

Journalist Comrade Amjad Ali Sahaab

90ء کی دہائی میں مینگورہ شہر میں اگر کسی کے ہاں مہمان آجاتا اور ظہرانے یا عشائیے کا وقت نہ ہوتا، تو اُس کی تواضع گرما گرم چائے سے کی جاتی۔ ہم شطونگڑے ٹائپ بچے میز پر چائے کے ساتھ کھانے کی خاطر رکھی جانے والی اشیا کو دیکھ کر مہمان کی ’’وقعت‘‘ کا اندازہ لگاتے۔ اگر چائے کے ساتھ ’’روپئی وال کیک‘‘ (دراصل یہ بیکری کا تیار کیا ہوا کیک ہوتا تھا، جس کی اُس وقت کے حساب سے قیمت ایک روپیا تھی) یا پھر بنانا بسکٹ کا پیک (جس کی قیمت شاید دو روپیا تھی) مہمان کے سامنے رکھا جاتا، تو ہم سمجھ جاتے کہ مہمان بس ہمارے لیول ہی کا بندہ ہے، یعنی ’’مڈل کلاسیا‘‘ ہے۔
اس طرح اگر اُبلے ہوئے دیسی انڈوں کا چھلکا اُتار کر اور انھیں دو برابر حصوں میں کاٹ کر ایک رکابی (رکیبئی) میں مہمان کے آگے رکھا جاتا اور اُن کے اوپر بڑے سلیقے سے پسی ہوئی کالی مرچ اور نمک تہہ در تہہ نظر آتا، تو پتا چلتا کہ مہمان کی کلاس ہم جیسے مڈل کلاسیوں سے تھوڑی اوپر ہے۔
اور اگر دیسی گھی میں چاول کے آٹے سے بنا پراٹھا (جسے ہم پشتو میں ’’دَ وڑو ڈوڈئ‘‘ کہتے ہیں) یا گندم کے آٹے سے بنا پراٹھا، جس پر تیاری کے وقت دیسی انڈے کی ’’لیپا پوتی‘‘ کی جاتی، تو ہم بھی اپنے بشرے پر سنجیدگی کی لیپا پوتی کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے اور کمال اداکاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے 20 ویں صدی کا شریف ترین بچہ دِکھنے کا کشٹ اُٹھاتے۔ کیوں کہ کسی عام مہمان کی ایسی خاطر مدارت اُس دور میں ناممکنات میں سے تھی۔
بس مہمان کے آگے سے چنگیر (جسے پشتو میں شکور کہتے ہیں) اُٹھنے کی دیر ہوتی اور ہم برق رفتاری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ماں یا دادی سے پہلے باورچی خانے کے اندر گھس جاتے۔ چنگیر جیسے ہی باورچی خانے میں رکھی جاتی، تو ہم تقریباً آدھ درجن بھائیوں اور چچا زاد بھائیوں کے درمیان پراٹھے کے حصول کی خاطر مہا بھارت شروع ہوجاتی۔ ایسے مواقع پر کئی بار ماں، دادی، دادا، تایا یا پھر تین عدد تگڑے چچاؤں میں سے کوئی ایک ’’چچا ٹرمپ‘‘ کی طرح خم ٹھونک کر میدان میں کودتا اور باہم دست و گریباں شطونگڑوں کو پکڑ کر ایک ایک کو ایسی کھینچ کے مارتا کہ تقریباً سبھی کے سر سے بدمعاشی کا نشہ اُتر جاتا۔ یوں تیسری جنگِ عظیم چھڑنے سے پہلے ہی معاملہ رفع دفع ہوجاتا۔ مگر جیسے ہی اگلا مہمان ہمارے گھر کی دہلیز پار کرتا، تو ہمارا باورچی خانہ ایک بار پھر ’’کروچھتر‘‘ بن جاتا، ہم اور چچیرے ’’کورو‘‘ اور ’’پانڈو‘‘ بن جاتے اور مہا بھارت کا میدان سج جاتا۔
حیف صد حیف کہ چچا ٹرمپ کی طرح ہمارے سگے چچا بھی تاحال ’’نوبل پرائز‘‘ سے محروم ہیں۔ گرچہ ’’شریف النفسی‘‘،’’صلح جوئی‘‘ اور ’’مصالحت پسندی‘‘ میں ہمارے سگے چچا، چچا ٹرمپ سے بھی دو ہاتھ آگے ہیں۔
یہ تصویر 14 دسمبر 2025ء کو لی گئی ہے ، جس میں نظر آنے والا پراٹھا دراصل محمد خان تحصیل دار (گوالیرئی) کے گھر میں دیسی گھی میں تیار کیا گیا تھا، اور پراٹھے پر دیسی انڈوں ہی کی ’’لیپا پوتی‘‘ کی گئی تھی۔ یوں یہ پراٹھا محض کھانے کی چیز نہیں، بل کہ ایک پورا زمانہ ہے، جو اَب صرف یادوں میں زندہ ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے