سویڈن میں طلبہ کو صرف ’’تعلیمی خدمت کے مستفیدین‘‘ نہیں سمجھا جاتا، بل کہ انھیں اعلا تعلیم کے نظام میں باقاعدہ اور بڑے ذمہ دار اسٹیک ہولڈر کی حیثیت حاصل ہے۔ قانوناً طلبہ کو یہ حق دیا گیا ہے کہ وہ اہم فیصلہ ساز اور مشاورتی مجالس میں نمایندگی رکھیں، یونیورسٹی کی مجلسِ ادارہ (بورڈ) میں شامل ہوں، وائس چانسلر کے تقرر کے عمل میں ان سے مشاورت کی جائے، اور ہر کورس کے بعد ان کی رائے کو باقاعدہ طور پر جائزے کے ذریعے لیا جائے، جس پر ادارے کو عمل کی صورت میں جواب دِہ بھی ہونا پڑتا ہے۔ یعنی طالب علم کی آواز یہاں کسی ’’مہربانی‘‘ کے طور پر نہیں، بل کہ ایک قانونی و انتظامی حق کے طور پر تسلیم کی گئی ہے۔
یہ سب پڑھ کر پاکستان کی صورتِ حال ذہن میں آتی ہے، تو منظر نامہ یک سر مختلف دکھائی دیتا ہے۔
ہم ایک ایسا ملک ہیں جہاں تقریباً 64 فی صد آبادی 30 برس سے کم عمر نوجوانوں پر مشتمل ہے، یعنی دنیا کی کم عمر ترین آبادیوں میں سے ایک۔ ہمارے ہاں سرکاری و نجی شعبے میں دو سو سے زائد ہائر ایجوکیشن کمیشن سے منظور شدہ جامعات موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود یونیورسٹیوں میں داخلوں کی تعداد میں حالیہ برسوں میں تقریباً 13 فی صد کمی واقع ہوئی ہے اور کل انرولمنٹ دو ملین (20 لاکھ) سے بھی کم رہ گئی ہے۔ ایک ایسے ملک کے لیے جو ہر وقت ’’یوتھ بلج‘‘ اور ’’قوم کا مستقبل‘‘ کے نعروں سے گونجتا رہتا ہے۔ یہ صورتِ حال ہمارے لیے سنجیدہ فکری سوالات اٹھاتی ہے۔
اس سب کے باوجود، جب بات جامعات کے نظامِ حکم رانی (گورننس) کی آتی ہے، تو طالب علم کہیں نظر ہی نہیں آتا۔ طلبہ تنظیمیں (اسٹوڈنٹ یونینز) 1984ء میں پابندی کا شکار ہوئیں اور پھر چند علامتی یا جزوی اعلانات کے باوجود آج تک انھیں حقیقی اور موثر طور پر بہ حال نہیں کیا گیا۔
1993ء کے ایک اہم عدالتی فیصلے نے کیمپس کی سیاسی سرگرمیوں پر مزید قدغن لگا دی اور گذشتہ چار دہائیوں سے یہ پابندیاں جامعات کی روزمرہ فضا کو متعین کر رہی ہیں؛ یعنی طلبہ کو محکوم تو کیا جاسکتا ہے، مشاور کم ہی سمجھا جاتا ہے۔
ہماری جامعات پر کی گئی تحقیق بارہا یہ دکھاتی ہے کہ طلبہ کی شرکت کو ’’سب سے زیادہ نظر انداز کیا جانے والا جز‘‘ سمجھا جاتا ہے، یعنی اسے پروان چڑھانے کے بہ جائے قابو میں رکھنے اور محدود کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔
ہمارے اعلا تعلیم کے مباحث بیش تر اوقات وفاق و صوبہ، ’’ایچ ای سی‘‘ کے اختیارات، ضابطہ بندی اور خودمختاری، فنڈنگ اور کنٹرول کے گرد گھومتے ہیں؛ طلبہ یہاں بہت کم اس حیثیت سے سامنے آتے ہیں کہ وہ حقوق کے حامل فعال شریکِ کار (Rights-bearing partners) ہیں۔
میرے نزدیک یہ محض آئینی یا انتظامی مسئلہ نہیں، بل کہ آبادیاتی سرمایہ (Demographic Dividend) کو ضائع کرنے کا معاملہ ہے۔ آپ 60, 64 فی صد نوجوان آبادی کے حامل ملک میں تقریباً دو ملین طلبہ کو جامعات میں تو جمع کرسکتے ہیں، لیکن اگر آپ کا نظام انھیں بنیادی طور پر ’’حکم رانی کا موضوع‘‘ بنائے اور ’’حکم رانی کے شریک‘‘ نہ بننے دے، تو دراصل آپ اپنا سب سے قیمتی سرمایہ خود اپنے ہاتھوں بے اثر کر رہے ہیں۔
میرا نوحہ نہایت سادہ ہے:
٭ پاکستان میں ہم طلبہ کو مسلسل ’’قوم کا مستقبل‘‘ کہتے رہتے ہیں، لیکن عملی طور پر انھیں حال کے اسٹیک ہولڈر کے طور پر کبھی سنجیدگی سے نہیں لیتے۔
اور میری امید بھی اتنی ہی سادہ ہے:
٭ یہ کہ پاکستان میں اعلا تعلیم کی اصلاح سے متعلق ہر گفت گو میں طلبہ کی نمایندگی اور اسٹوڈنٹ یونینز کی بہ حالی کو ایک بنیادی اُصول کے طور پر لیا جائے، نہ کہ حاشیہ آرائی کے طور پر۔
٭ یہ کہ جامعات نمایشی سروے اور وقتی مشاورت سے آگے بڑھ کر، اپنی کونسلوں، بورڈز اور کوالٹی ایشورنس کے ڈھانچوں میں منتخب طلبہ نمایندوں کی باقاعدہ نشستیں پیدا کریں۔
٭ یہ کہ ہم طلبہ کی تربیت میں "Deliberation” (غور و فکر)، "Negotiation” (گفت و شنید)، "Representation” (نمایندگی) اور "Policy-making” (پالیسی سازی) جیسی مہارتوں کو شامل کریں، تاکہ ان کی شرکت محض علامتی نہیں، بل کہ بامعنی اور بااختیار ہو۔
اگر سویڈن طالب علم کے اثر و نفوذ کو اپنے قانون میں درج کرسکتا ہے، تو پاکستان بھی یقینا یہ جرات پیدا کرسکتا ہے کہ وہ طلبہ کو اپنی جامعات کی کہانی میں دوبارہ مرکزی کردار کے طور پر لکھے۔ ہمارے نوجوان صرف ’’تعلیمی پالیسی کے مستفیدین‘‘ نہیں، بل کہ اس کے منتظر مصنفین ہیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم کبھی انھیں یہ قلم واقعی تھمائیں گے؟
……………………………………
لفظونہ انتظامیہ کا لکھاری یا نیچے ہونے والی گفتگو سے متفق ہونا ضروری نہیں۔ اگر آپ بھی اپنی تحریر شائع کروانا چاہتے ہیں، تو اسے اپنی پاسپورٹ سائز تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بُک آئی ڈی اور اپنے مختصر تعارف کے ساتھ editorlafzuna@gmail.com یا amjadalisahaab@gmail.com پر اِی میل کر دیجیے۔ تحریر شائع کرنے کا فیصلہ ایڈیٹوریل بورڈ کرے گا۔










